بھارت اور طالبان رجیم کا گھناؤنا چہرہ، بے نقاب

طالبان نے ہیبت اللہ اخوندزادہ کی ہدایات پر دہشتگرد گروہوں کے روابط قائم کیے


ویب ڈیسک September 20, 2026

بھارت اور طالبان رجیم کا گھناؤنا چہرہ، بھارتی خفیہ ایجنسی را اور طالبان کا دہشتگرد پراکسی نیٹ ورک انٹیلیجنس رپورٹ کے ذریعے بے نقاب ہوگیا ہے.

خفیہ تحقیقاتی رپورٹ میں دہشتگرد کارروائیوں کیلئے بھارتی خفیہ ایجنسی را، افغان انٹیلی جنس اور طالبان رجیم کے درمیان  رابطے کا انکشاف ہوا ہے.

افغان انٹرنیشنل نے خفیہ تحقیقاتی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را، طالبان جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اور طالبان قیادت پر مشتمل نیٹ ورک 2025 میں قائم ہوا.

طالبان انٹیلی جنس نے ہیبت اللہ اخوندزادہ کی ہدایات پر فتنہ الہندوستان، فتنہ الخوارج اور دیگر دہشتگرد گروہوں کے روابط قائم کیے.

افغان انٹرنیشنل افغانستان سے باہر طالبان انٹیلی جنس چیف اور بھارتی را کے نمائندوں نے پاکستان میں مشترکہ حملوں کی مالی معاونت کا فیصلہ کیا.

افغان انٹرنیشنل طالبان رجیم کے اعلیٰ حکام کیجانب سے جاری حکم میں ’’بلوچ ریفیوجی کوآرڈی نیشن آفس‘‘ نامی تنظیم کو اسلحہ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی.

افغان انٹرنیشنل 26 اگست کو قندھار میں طالبان کی سرپرستی میں فتنہ الہندوستان، فتنہ الخوارج اور القاعدہ کی شخصیات کی ہنگامی ملاقات ہوئی، افغان انٹرنیشنل اجلاس میں فتنہ الہندوستان سے وابستہ بشیر زیب، خلیل بلوچ، صفت اللہ مینگل، انور نظامی اور مجید بلوچ کی شرکت کا بھی انکشاف ہوا.

افغان انٹرنیشنل دستاویز کے مطابق، زیادہ تر حملے فتنہ الخوارج اور القاعدہ کرتے ہیں جبکہ ذمہ داری فتنہ الہندوستان قبول کرتی ہے، افغان انٹرنیشنل دہشتگرد نیٹ ورکس کے مشترکہ انتظام کا مقصد امریکی پابندیوں کی زد میں دہشتگرد تنظیم القاعدہ کی شمولیت چھپانا ہے، افغان انٹرنیشنل 4 ستمبر کے زیارت حملے کو فتنہ الخوارج نے انجام دیا، جبکہ فتنہ الہندوستان نے عالمی پابندیوں سے بچنے کیلئے ذمہ داری قبول کی.

افغان انٹرنیشنل دستاویز میں انکشاف کیا گیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را نے پاکستان میں کارروائی کیلئے 7.8 ملین ڈالر سے زائد رقم فراہم کی.