کھانے کے بعد سستی یا نیند محسوس ہونا ایک عام کیفیت ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کھانے کے فوراً بعد روزمرہ کے ہر معمول کو جاری رکھنا یا بستر پر چلے جانا صحت کے لیے مناسب ہے۔ ماہرین کے مطابق کھانے کے بعد بعض عادات ہاضمے سمیت جسم کے دیگر معمولات کو متاثر کرسکتی ہیں۔
کھانے کے فوراً بعد پھل کھانے کے حوالے سے ماہرین عام طور پر پھل کو کھانے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے یا کھانے کے تقریباً دو گھنٹے بعد استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق پھل نسبتاً آسانی سے ہضم ہوتے ہیں، تاہم کھانے کے فوراً بعد انہیں شامل کرنے سے بعض افراد کو ہاضمے کی شکایت ہوسکتی ہے۔
اسی طرح کھانے کے فوراً بعد غسل کرنے سے بھی گریز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے عام طبی وضاحت یہ ہے کہ کھانے کے بعد جسم ہاضمے کے عمل میں مصروف ہوتا ہے، جبکہ بہت جلد غسل کرنا بعض افراد میں ہاضمے کے عمل یا طبیعت پر اثر ڈال سکتا ہے۔
کھانے کے فوراً بعد چائے پینا بھی مناسب معمول نہیں سمجھا جاتا۔ چائے میں موجود مرکبات اور اس کی تیزابیت بعض افراد میں معدے کی تکلیف پیدا کرسکتی ہے، جبکہ کھانے کے فوراً بعد چائے پینے سے آئرن کے جذب میں بھی مداخلت ہوسکتی ہے۔ خاص طور پر آئرن کی کمی کا شکار افراد کو اس حوالے سے محتاط رہنا چاہیے۔
ماہرین کھانے کے فوراً بعد سگریٹ نوشی سے بھی سختی سے اجتناب کا مشورہ دیتے ہیں۔ سگریٹ نوشی اپنی جگہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے اور کھانے کے بعد سگریٹ پینے کو کسی صورت محفوظ عادت نہیں سمجھا جاتا۔ اس حوالے سے یہ دعویٰ کہ کھانے کے بعد ایک سگریٹ دس سگریٹ کے برابر نقصان پہنچاتی ہے، عام طور پر گردش کرنے والی بات ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی بھی مقدار میں سگریٹ نوشی محفوظ ہے۔
اسی طرح کھانے کے فوراً بعد سونے سے بھی گریز کرنا بہتر ہے۔ بھرا ہوا معدہ لیٹنے کی صورت میں بعض افراد کو بدہضمی، تیزابیت یا ریفلکس کی شکایت ہوسکتی ہے، جبکہ بھرے پیٹ کے ساتھ نیند کا معیار بھی متاثر ہوسکتا ہے۔ اسی لیے کھانے اور سونے کے درمیان مناسب وقفہ رکھنا زیادہ بہتر معمول سمجھا جاتا ہے۔