امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے مختص معروف صدارتی طیارے ایئر فورس ون کی طرح چینی صدر شی جن پنگ بھی دورہ امریکا کے دوران خصوصی طیارے پر سفر کر رہے ہیں تاہم دونوں ممالک کے صدارتی طیاروں میں ایک اہم فرق ہے۔
شی جن پنگ کے زیر استعمال طیارہ عموماً بوئنگ 747 ہوتا ہے جسے چینی صدر کے سرکاری سفر کی ضروریات کے مطابق خصوصی سہولیات سے آراستہ کیا جاتا ہے۔
تاہم امریکا کے برعکس چین کے پاس ایسا کوئی مخصوص طیارہ یا طیاروں کا مستقل بیڑا موجود نہیں جو صرف صدر کے سرکاری سفروں کے لیے مختص ہو۔
چینی صدر کے لیے استعمال ہونے والا طیارہ ایئر چائنا کے کمرشل طیاروں کے بیڑے سے لیا جاتا ہے۔ چینی حکام کے مطابق اس طریقہ کار کا مقصد موجودہ طیاروں کو استعمال کرکے وسائل کے ضیاع کو کم کرنا ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق شی جن پنگ کے بیرون ملک سفر سے قبل چینی فضائیہ طیارے کا معائنہ کرتی ہے اور اسے صدر کی ضروریات کے مطابق تبدیل کیا جاتا ہے۔
ان تبدیلیوں میں طیارے کی نشستیں ہٹانا بھی شامل ہے تاکہ اندر صوفوں اور بستروں کے لیے اضافی جگہ بنائی جاسکے۔
اگرچہ طیارے کے اندرونی حصے اور خصوصی انتظامات کے بارے میں بہت کم معلومات عوامی سطح پر دستیاب ہیں تاہم شی جن پنگ کے سرکاری سفروں کے دوران استعمال ہونے والے طیارے کو عموماً دروازے کے قریب لگے سرکاری پرچم سے پہچانا جاسکتا ہے جہاں سے چینی صدر طیارے سے باہر نکلتے ہیں۔
یوں شی جن پنگ کا صدارتی سفر امریکی ایئر فورس ون کی طرح خصوصی سہولیات سے لیس ضرور ہے لیکن چین نے صدر کے لیے مستقل مخصوص طیارہ رکھنے کے بجائے ایئر چائنا کے موجودہ بیڑے میں سے طیارہ استعمال کرنے کا منفرد انتظام اختیار کر رکھا ہے۔