پلاسٹک کے کوڑے سے سستا پٹرول و ڈیزل بنانا ممکن

نمکیات ملا کر گرم کیا جائے تو پلاسٹک کوڑے کا زیادہ حصہ پٹرول،ڈیزل میں تبدیل ہو جاتا ہے


سید عاصم محمود September 24, 2026

لاہور:

جدید ٹکنالوجی نے پاکستان کو پلاسٹک کے کوڑے سے سستا پٹرول و ڈیزل بنانے کی انقلابی راہ دکھلا دی ۔

وطن عزیز میں ہر سال تھیلیوں ، بوتلوں ، شاپروں وغیرہ کی صورت لاکھوں ٹن پولی تھین پلاسٹک کوڑا کرکٹ جنم لیتا ہے جو عموماً گلیوں ، سڑکوں میں سڑتا اور بدبو پھیلاتا ملتا ہے ، اب اِس کوڑے سے چھٹکارا پانے کا نہایت مفید طریق سامنے آ گیا.

امریکا کے سرکاری تحقیقی ادارے اوک رج نیشنل لیبارٹری سے منسلک ماہرین نے تجربات سے دریافت کیا ہے ، اگر پلاسٹک کوڑے میں المونیم کلورائیڈ کی پگھلی (molten) نمکیات ملا کر اْسے دو سو ڈگری درجہ حرارت میں بھٹی میں گرم کیا جائے تو اْس کا ’’60 فیصد ‘‘حصہ حسب منشا پٹرول یاڈیزل میں تبدیل ہو جاتاہے.

یہ طریقہ سادہ ہے اور صرف پگھلی نمکیات اور بھٹی کے علاوہ اور کسی شے کی ضرورت نہیں پڑتی یہ پاکستان کے لئے تو نہایت مفید ہے جسے اپنانے سے دو بڑے فوائد حاصل ہوں گے اول پلاسٹک کے موذی کوڑے سے نجات ملے گی جبکہ سستے طریقے سے پٹرول و ڈیزل مل جائے گا ۔