منی پور نسلی فسادات کے باعث ریلیف کیمپس میں رہنے والے متاثرین کی مشکلات کم نہ ہوسکیں

زمینی رپورٹس نے منی پورکےریلیف کیمپس میں غذائی قلت، پینے کے پانی کی کمی اورطبی سہولیات کے فقدان کو بے نقاب کردیا


ویب ڈیسک September 25, 2026
گزشتہ سال سے اب تک منی پور میں سیکڑوں بے گناہوں کی جانیں گئی ہیں (فوٹو: فائل)

منی پورکے سرکاری ریلیف کیمپس متاثرین کے لیے پناہ گاہ کے بجائے مشکلات کی نئی تصویر بن گئے.

بھارتی جریدہ دکن ہیرالڈ کےمطابق زمینی رپورٹس نے منی پورکےریلیف کیمپس میں غذائی قلت، پینے کے پانی کی کمی اورطبی سہولیات کے فقدان کو بے نقاب کردیا.

منی پورتصادم میں بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد عارضی پناہ گاہوں میں گنجائش سے زیادہ تعداد میں مقیم ہیں، منی پورمیں حکومت کیجانب سےاقدامات نہ ہونے کے باعث تقریباً 24 ہزار افراد بنیادی سہولیات سے محروم ہیں.

بین الاقوامی انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق منی پورریلیف کیمپوں نے ایک نااہل اور بے حس حکومت کے زیرِاثرجنم لینے والے شدید انسانی بحران کو آشکار کردیا ہے.