اس دفعہ جب نکلیں گے تو کرپٹ نظام، جعلی حکمرانوں کا ہمیشہ کیلئے بندوبست کریں گے، سہیل آفریدی

خیبرپختونخوا کی باؤنڈری پر کیلیں گاڑھنے کا مطلب ہے کہ اس صوبے کو باقی پاکستان سے کاٹنے کی سازش ہورہی ہے، وزیراعلیٰ


شاہدہ پروین September 25, 2026
فوٹو: ایکسپریس نیوز

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے لانگ مارچ روکنے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر تشویش ناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس اس دفعہ جب نکلیں گے تو اس کرپٹ نظام اور جعلی حکمرانوں کا ہمیشہ کے لیے بندوبست کریں گے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی باؤنڈری پر کیلیں گاڑھنے کا مطلب ہے کہ اس صوبے کو باقی پاکستان سے کاٹنے کی سازش ہورہی ہے، یہ انتہائی تشویش ناک اور خطرناک پیغام ہے، سوال یہ ہے کہ کیا اس صوبے کے عوام یہ سمجھیں کہ خیبرپختونخوا کو باقی پاکستان سے کاٹنے کی کسی سازش پر باقاعدہ کام شروع کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف مسلسل یہ بیانیہ بنایا جاتا رہا کہ پاکستان کو بھارت سے خطرہ نہیں بلکہ باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے اور دوسری طرف خیبرپختونخوا کے عوام کو مسلسل دہشت گرد اور جنگلی قرار دینے کا بیانیہ چلایا گیا اور صوبے کی حدود کے اندر سڑکوں میں کیلیں گاڑھنا اسی سلسلے کی ایک انتہائی خطرناک کڑی ہے تاہم یہ کیلیں ان کے جعلی نظام کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوں گی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے واضح کیا کہ پاکستان کسی صورت نہیں ٹوٹے گا اور ہم پاکستان کو بچائیں گے، دوسرے صوبے کے سرکاری اہلکار خیبرپختونخوا میں داخل ہوکر ہمارے سرکاری اہلکاروں سے گتھم گتھا ہو رہے ہیں، کیا خیبرپختونخوا کی انتظامیہ اور پولیس پر اعتماد ختم ہوچکا ہے، یا خیبرپختونخوا میں کسی دوسرے صوبے کی پولیس اور انتظامیہ لانچ کی جارہی ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے پارلیمانی لیڈر اور وزیر اطلاعات کو میڈیا پر بند کردیا گیا ہے، خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی کوریج سے بھی میڈیا کو روکنے کی اطلاعات ملی ہیں، ریاست پاکستان پر قابض لوگ جو غلط پالیسیاں نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ انتہائی خطرناک ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے وزرا کو سادہ کپڑوں میں ملبوس غنڈوں کے ذریعے اغوا کیا جا رہا ہے، کبھی وزرا پر گولی چلائی جاتی ہے اور کبھی انہیں اغوا کیا جاتا ہے، یہ تمام اقدامات ملک کو ایک خطرناک سمت میں لے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا اور یہ پرامن ہوگا، سڑکوں پر کیلیں ٹھوکیں، کنٹینرز رکھیں یا گولیاں چلائیں، ہم نکلیں گے، اس دفعہ جب نکلیں گے تو اس کرپٹ نظام اور جعلی حکمرانوں کا ہمیشہ کے لیے بندوبست کریں گے اور آئندہ کا لائحہ عمل جلد میڈیا کے سامنے رکھا جائے گا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ ریاستی اداروں اور حکمرانوں کو سیاست میں اتنا نہیں گرنا چاہیے کہ کل ایک دوسرے سے آنکھ ملانے کے قابل نہ رہیں۔

انہوں نے کہا کہ جس سیکریٹریٹ کو تھریٹ کا بہانہ بنا کر بند کیا گیا، وہ خود وہاں گئے اور چہل قدمی کی، اسی طرح جس مسجد کو تھریٹ کے نام پر بند کیا گیا وہاں جاکر خود نماز ادا کی، کوئی تھریٹ نہیں تھا بلکہ جعلی تھریٹس کے ذریعے پورے صوبے کا نظام بند کروایا گیا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ سیکریٹریٹ کینٹ کے اندر ہے اور کینٹ مکمل طور پر ان کے قبضے میں ہے، اگر کینٹ سے سیکریٹریٹ تک دہشت گرد پہنچ سکتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے تنخواہیں کس کام کی لے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی دلچسپی صرف خیبرپختونخوا کے وزرا کو پکڑنے اور پاکستان تحریک انصاف کو ختم کرنے میں ہے۔

وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ان ہتھکنڈوں سے وہ ہمیں ڈرا دیں گے یا اپنے مقصد سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیں گے تو یہ ان کی غلط سوچ ہے۔