سعودی عرب پر حوثی حملے؛ ایرانی صدر نے حوثیوں سے بات کرنے کا کہا،خواجہ آصف

ایرانی صدر کیساتھ ملاقات میں پاکستان نے خطے میں سرگرم نان اسٹیٹ ایکٹرز کا معاملہ واضح طور پر اٹھایا


عامر الیاس رانا September 25, 2026

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ سعودی عرب پر حوثی حملوں کے معاملے پر ایران سے بات چیت ہوئی ہے۔

ایکسپریس نیوز سے خصوصی انٹرویو میں وزیر دفاع نے کہا ہے کہ سعودی عرب کیساتھ ہونے والا دفاعی معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط کرتا ہے، مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ ایک ایسے بندھن میں باندھتا ہے جس کے تحت سعودی عرب پر کسی بھی جارحیت کی صورت میں پاکستان کیلیے اسکا ساتھ دینا اہم ذمہ داری بن جاتی ہے۔

 سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں کا جواب دینا مکہ دفاعی معاہدے میں شامل تینوں ممالک کی ذمہ داری ہے، ایرانی صدر کیساتھ ملاقات میں پاکستان نے خطے میں سرگرم نان اسٹیٹ ایکٹرز کا معاملہ واضح طور پر اٹھایا، پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان گروہوں کو کسی نہ کسی طریقے سے غیر مؤثر بنانا ضروری ہے کیونکہ ان کی کارروائیاں خطے میں امن کے لیے ہونے والی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

 ایرانی صدر نے بھی اس معاملے پر مثبت ردعمل دیا اور اس بات سے اتفاق کیا کہ خطے میں کشیدگی اور بدامنی بالآخر تمام فریقوں کے عوام کے لیے نقصان دہ ہے، وزیر دفاع نے کہا کہ ایرانی قیادت سے یہ بات بھی ہوئی کہ کسی ملک میں نان اسٹیٹ ایکٹرز کی جانب سے کارروائیاں نہیں ہونی چاہئیں، ایرانی قیادت نے حوثی ملیشیا سے بات چیت کرنے کی بات کی ہے تاہم اس حوالے سے عملی پیشرفت کا انحصار آنیوالے اقدامات پر ہوگا۔

 ملک میں سیاسی کشیدگی کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت نے تحریک انصاف کیساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی  تاہم پی ٹی آئی نے احتجاج اور تصادم کا راستہ اختیار کیا، خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں وفاقی ادارے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ پولیس اور امن و امان کا بنیادی انتظام صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت ترامیم کے ذریعے پولیس سے بھی اختیارات لینا چاہتی ہے تاکہ پولیس اس کے کنٹرول میں رہے اور صوبے میں امن و امان کے لیے مئوثر انتظامی اقدامات نہ ہوسکیں، خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے امکان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ آئین میں اس حوالے سے طریقہ کار موجود ہے اگر ایسے غیرمعمولی حالات پیدا ہوں جو آئینی تقاضوں کے تحت انتہائی اقدام کا جواز فراہم کریں تو آئین کے مطابق فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔

 اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ آئینی تقاضوں اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی کیا جاسکتا ہے، وہ صوبائی خودمختاری اور ڈیولوشن کے حامی ہیں، اختیارات صرف صوبوں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں بلکہ انہیں ضلعی، تحصیل اور مقامی حکومتوں کی سطح تک بھی منتقل کیا جانا چاہیے۔

 انہوں نے کہا کہ پارٹی میں ارتقائی عمل جاری ہے اور وقت کے ساتھ مختلف معاملات مزید واضح ہوں گے ۔