ایک کٹھن دور

اس دور کو منافقین کی جنت کہا جائے تو یہ ہرگز غلط نہیں ہوگا


سیدہ شیریں شہاب September 27, 2026

موجودہ دور اخلاقی اور سماجی اعتبار سے انتہائی کٹھن ہے، حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انسان اب اپنے سائے سے بھی خوف کھانے لگا ہے۔ نجانے یہ وقت آخر ہے یا اس دنیا سے روز محشر پہنچنے کے درمیان کا وقفہ۔ انسان کی سب سے بھیانک شکل اُس کے رُوبرو ہے۔

جو طاقتور ہیں اُن کی طاقت میں روزبروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور جو کمزور ہیں وہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ کمزور سے کمزور تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ تمیز، تہذیب، شائستگی اور احترام معاشرے سے ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔

زمانہ حال میں انسانوں کے بیچ فرق عمر میں بڑے اور چھوٹے کا نہیں رہا ہے بلکہ مراعات یافتہ اور غیر مراعات یافتہ کا ہوگیا ہے۔

ماضی میں انسان کے پاس موجود مال و دولت اُس کی اور اُس سے وابستہ لوگوں کی زندگیوں کو آسان اور سہولت یافتہ بنانے کی ضامن سمجھی جاتی تھی مگر اب یہ دوسرے انسان کو اپنے پیروں تلے روندنے کے لیے بھی استعمال میں لائی جا رہی ہے۔

 وابستہ اُمید یہاں کس سے کی جائے

 سبھی تو سبھی کے دشمن ہیں

ایک طرف جو طبقہ ہمارے اوپر حکمرانی کر رہا ہے، وہ اپنے فائدے کے لیے عوام کا بے دریغ استحصال کیے جا رہا ہے۔ دوسری طرف عوام اپنے اوپر بیتی ستم ظریفوں سے اتنے عاجز آ چکے ہیں کہ اُس کو بھی جہاں موقع میسر آ رہا ہے،وہ اخلاقی اور قانونی طور پر صحیح اور غلط کی تفریق کے بغیر اپنی زندگی کو آسان بنانے کے لیے جو عمل بھی ممکن ہو کر رہی ہے۔

مہنگائی کا بے قابو جن سفید پوش لوگوں پر حملہ آور ہوئے اُن کی باقی ماندہ عزت نفس مجروح کرنے کے درپے ہے۔ روز بروز ضرورتِ خور وو نوش کی بڑھتی قیمتیں مڈل کلاس کا وجود دیسی معاشرے سے آہستہ آہستہ ختم کرتی جا رہی ہیں، یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو معاشرے میں صرف دو کلاسیں ہی رہ جائیں گی، ایک اپر کلاس اور دوسری لوئر کلاس۔

ہمارے معاشرے میں آج کل مقابلے بازی کا چلن بھی زوروں پر ہے، لوئر کلاس سے تعلق رکھنے والے افراد اپر کلاس کا حصہ بننے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں-

 اُن کے برابر کی دولت حاصل کرنے کے لیے اپنے ذریعہ معاش میں حلال اور حرام کا فرق سراسر فراموش کرتے جا رہے ہیں اور اُن کے جیسے رنگ ڈھنگ اپنا کر اپنی ذات کا خود ہی تمسخر اُڑا رہے ہیں۔

اس دور کو منافقین کی جنت کہا جائے تو یہ ہرگز غلط نہیں ہوگا، ہمارے اردگرد موجود ہر دوسرے شخص کے دو چہرے ہیں، اُن کی صبح و شام کہی جانے والی باتوں میں زمین اور آسمان کا تضاد دیکھ کر سر چکرانے لگتا ہے۔

انسان اب انسان کم اور مداری کا بندر زیادہ لگنے لگا ہے۔ جس شخص کے قرب میں رہنے کا فائدہ محسوس ہو اُس کی ڈگڈگی پر ناچنے میں زمانہ حال کے انسان کا کوئی ثانی نہیں ہے اور آگے چل کر کوئی دوسرا پچھلے والے سے بڑھ کر فائدے مند لگے تو اُس کی نوازشات بے شرمی سے بھول جانے میں یہ گِرگٹ کو بھی مات دے رہا ہے۔

منافقت جھوٹ کو فروغ دیتی ہے، جو انسان منافقت کو اپنی طبیعت کی روش بنائے اور جس انسان کے ساتھ منافقت کی جائے دونوں کی زندگیوں سے سچ رخصت ہو جاتا ہے۔

ٹیلی فون جب تک تار سے بندھا ہوا تھا،تب تک انسان آزاد تھا مگر جب سے وہ جگہ جگہ اپنے ہمراہ لے کر پھرنے والی شے بن گیا ہے،انسان اُس کے سحر میں قید ہوچکا ہے۔ موبائل فونز، اسمارٹ فونز اور اُن میں استعمال ہونے والے سستی کالز ساتھ انٹرنیٹ پیکیجز انسانوں کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے وجود میں لائے گئے تھے لیکن انھوں نے معاشرے میں اُلٹا اثر ڈالا، جس کی بدولت دوسرے افراد تو کیا نزدیک آتے، ایک چھت کے نیچے رہنے والوں کے مابین بھی دوریاں پیدا ہوگئی ہیں۔

انسان کے ہاتھ میں موبائل فون اُس میں موجود سستا کال پیکیج پھر ملایا کسی کا نمبر اور شروع کردیں، بیکار کی باتیں جن کا کوئی سر نہ پیر، دوسروں کی عیب جوئی، باتوں میں جھوٹ کی آمیزش، فساد برپا کرنا، وقت ضایع کرنا اور اپنے گناہ بڑھانا۔

 جہاں تک اسمارٹ فیچرز اور انٹرنیٹ والے اسمارٹ فونز کی بات کی جائے وہ بھی معاشرے میں بگاڑ کی ایک بڑی وجہ ثابت ہو رہے ہیں۔ ابتداء میں اسمارٹ فون کو پرسنل کمپیوٹر کا کسی حد تک نعم البدل بنا کر انسان کو متعارف کروایا گیا تھا مگر جیسے جیسے اس کے کرشمے سامنے آئے تو یہ فائدے مند کم اور نقصان دہ زیادہ لگنے لگا۔ ہمہ وقت اسمارٹ فون کے استعمال سے انسانی صحت اور آپسی رشتوں کو بے حد ضرر پہنچ رہا ہے۔

 آجکل شہرت حاصل کرنے کا بخار تقریباً سبھی کے سر چڑھ کر بول رہا ہے اور مشہور ہونے کے لیے اسمارٹ فون کی مدد سے بے ڈھنگی ریلز بنانے اور بے تکے ٹرینڈز فالو کرنے کا خبط لوگوں میں روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کے علاؤہ کئی گھنٹوں پر مشتمل اسکرین ٹائم کم عمر بچوں کی ذہنی نشوونما کو بھی متاثر کر رہا ہے۔

 ہمارے ہاتھوں میں موجود اسمارٹ موبائل فونز میں دجال کے فتنے کم تھے کہ اب نئی بَلا اے آئی تخلیق ہوگیا ہے جو کسی لحاظ سے بھی الٰہ دین کے چراغ سے کم نہیں ہے۔ آپ جو پوچھیں وہ اے آئی بتائے، پڑھائی کے نوٹس بنائے، دفتر کے معاملات نمٹائے، بیماری کا علاج بتلائے، مشکلات کے آسان حل دکھلائے، غرضیکہ اس نے مکمل طور پر انسان کو اپنے اوپر منحصر کر لیا ہے اور انسان نے اپنے دماغ کا استعمال محدود کر دیا ہے۔

اے آئی آہستہ آہستہ تقریباً ہر شعبہ جات میں انسان کی جگہ لے رہا ہے۔ چند روز قبل اے آئی کو خلق کرنے والوں نے اس کے ممکنہ مستقبل پر تحقیق کی اور اُس کے بعد جو تحقیقی مقالہ انھوں نے مرتب کیا،وہ ہمیں بتاتا ہے کہ موجودہ دہائی کے آخر میں اے آئی انسانوں کو ختم کر دے گا۔

 میری سمجھ کے مطابق اے آئی کا انسانوں کو ختم کرنے سے مراد ہے کہ جیسے انسان کے بہت سے کرنے کے کام اب اے آئی کر رہا ہے تو انسان اپنی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو پس پشت ڈال رہا ہے، جس کے باعث اُس کے دماغ کو زنگ لگتا جا رہا ہے اور وہ خود پر مسلسل اعتماد کھو رہا ہے۔

بڑی، بڑی ٹیکنو کمپنیوں، تحقیقاتی اداروں اور دیگر کاروباری شعبوں کو انسان کے مقابلے میں اے آئی سستا پڑ رہا ہے کیونکہ کئی افراد کے کام وہ اکیلا اور انسانوں سے بہت بہتر کر رہا ہے۔ اے آئی انسان کا روزگار کھا رہا ہے، بے روزگاری کو بڑھا رہا ہے اور نوکری کا نہ ہونا انسان کو ڈپریشن کا مریض بنا رہا ہے۔ ڈپریشن وہ دیمک ہے جو انسان کے وجود کو اندر ہی اندر کھاتا رہتا ہے یہاں تک کہ ڈپریشن زدہ انسان سانس لینے والا مردہ بن جاتا ہے۔

جو بھی شخص سمجھ و شعور رکھتا ہے اُس کو یہ دور ناقابلِ برداشت لگ رہا ہے۔ آپ کا معلوم نہیں مگر مجھے بھی موجودہ زمانے میں جینے کا قطعی مزا نہیں آ رہا ہے اور پرانا وقت شدت سے یاد آ رہا ہے جہاں چٹنی روٹی میں بھی سواد تھا جس کا اب مہنگے سے مہنگے فینسی ناموں والے کھانوں میں فقدان پایا جاتا ہے۔

 آج ہماری دسترس میں وہ سبھی کچھ ہے جس کی ماضی میں تمنا تھی لیکن اُس سکون اور مسرت کو کہاں تلاش کریں جو تب ہماری ساتھی تھیں جب کچھ بھی قیمتی ہمارے پاس موجود نہ تھا۔ غالباً وقت و حالات کے مطابق انسان کا خود کو ڈھالنا بہت ضروری ہے مگر اپنی ازلی پہچان کو سرے سے مٹا دینا اور کسی دوسری مخلوق کا روپ دھار لینا، اپنے بزرگوں کی تربیت کو بھولا دینا ساتھ ہی اپنی احساس کی نبض کو سن کر لینا کسی طور سے بھی اشرف المخلوقات ہونے کی نشانی نہیں ہے۔