غلامی سب سے بڑھ کر اذیت ناک سزا ہے۔ غلاموں اور آقاؤں کے درمیان ہزاروں برس سے کشمکش چلی آ رہی ہے۔ پہلی عالمی جنگ سے قبل آقاؤں، یعنی یورپی ملکوں کے سربراہوں نے ایک دوسرے سے معاہدے کرنے شروع کر دیے۔
1879 میں جرمنی، آسٹریا اور ہنگری کے درمیان معاہدہ ہوا اور بعد میں اٹلی 1882میں اس میں شامل ہوا تو اتحادِ ثلاثہ وجود میں آیا۔ 1894 میں فرانس نے روس سے فوجی معاہدہ کر لیا، برطانیہ نے 1902 میں جاپان سے معاہدہ کیا، 1904 میں برطانیہ اور فرانس نے معاہدہ کر لیا، 1907 میں روس اور برطانیہ نے معاہدہ کیا اور جرمنی نے ترکی کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔
اس طرح آقاؤں کے دو گروپ بن گئے۔ ایک محوری طاقت، جس میں جرمنی، آسٹریا، ہنگری، اٹلی اور ترکی شامل تھے اور دوسری طرف اتحادی طاقت، جس میں برطانیہ، فرانس، روس اور جاپان شامل تھے۔
امریکا ایک خاص پالیسی کے تحت کسی بھی معاہدے میں اس وقت شریک نہیں ہوا تھا۔صنعتی کلچر بڑی تیزی سے پھیل رہا تھا۔ اس کی بنیادی ضرورت خام لوہا، کوئلہ اور تیل، پٹرولیم تھی۔ امریکا سعودی عرب میں اسی دوران داخل ہو چکا تھا۔ 28 جولائی 1914 کو آسٹریا نے سربیا کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ اس کے بعد جنگ پھیلتی گئی اور پورا یورپ خون میں نہا گیا۔
اکتوبر 1917 میں روس میں مزدور انقلاب برپا ہو گیا اور روس جنگ سے الگ ہو گیا۔ اپریل 1917میں امریکا نے جرمنی کے خلاف جنگ چھیڑ دی، یوں یورپی آقاؤں نے عوامی فوجوں کے ہاتھوں ایک دوسرے کا قتل عام کیا۔
بمباریوں سے کھیت اور فیکٹریاں تباہ ہو گئیں اور پھر ایک کروڑ سے زیادہ شہریوں اور فوجیوں کے قتل ِ عام کے بعد 11 نومبر 1918ء کو جرمنی نے امریکی صدر ولسن کے 14 نکات پر جنگ بندی کر دی۔اقوامِ عالم کے حکمران منڈیوں اور وسائل پر قبضوں کے لیے جنگیں در جنگیں کرتے آ رہے ہیں۔ ان جنگوں کے نتیجے میں انھی ملکوں کے عوام کی خوشحالی کی نفی ہوتی گئی ہے۔
دوسری عالمی جنگ یکم ستمبر 1939 کو جرمنی کے پولینڈ پر حملے سے شروع ہوئی۔ پھر اس جنگ میں امریکا 7 دسمبر 1941کو شریک ہو گیا۔ اس جنگ میں جاپان فلپائن، انڈونیشیا، سنگاپور، برما، ملایا، ویتنام، ہند چینی اور تھائی لینڈ پر قابض ہو چکا تھا۔
2 مئی 1945کو روسی جنرل مارشل جارجی ژوکوف نے برلن پر قبضہ کر لیا اور 7 مئی 1945 کو جرمنی نے ہتھیار ڈال دیے۔ جاپان پر امریکا نے اگست 1945میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا دیے۔ اس کے بعد 14 اگست 1945 کو جاپان نے ہتھیار ڈال دیے۔
اس جنگ میں ایک کروڑ سے زائد ہلاکتیں ہوئیں اور کئی لاکھ شہری و فوجی معذور ہو گئے۔متحارب آقاؤں کی جنگوں کے نتیجے میں ہر متحارب ملک پر جنگوں کا غیر پیداواری اور اخراجاتی بوجھ بڑھ گیا، جس کے باعث مہنگائی اور بے روزگاری میں شدید اضافہ ہوا اور کھیت، کارخانے اور فیکٹریاں تباہ ہو گئیں۔
ان دونوں جنگوں کے دوران برطانوی سامراج کی گود سے نیا عالمی امریکی سامراج پیدا ہوا۔ پھر دنیا میں دو معاشی ماڈل ایک دوسرے کے مقابلے میں آئے۔ ایک برطانوی کیپٹل ازم تھا اور اس کی گود سے امریکی کیپٹل ازم نے جنم لیا۔
صنعتی انقلاب کے بعد کارل مارکس کی تھیوری اور پرولتاری انقلاب کی بنیاد پر سابقہ سوویت یونین و دیگر ملکوں میں انقلابات برپا ہوئے۔ چین میں ماؤزے تنگ نے لانگ مارچ کی شکل میں عوام کو جوڑ کر انقلابی راستہ اختیار کیا۔
پورا یورپ اور عرب ممالک، جو یورپی صنعتی کلچر کے لیے پٹرولیم کی وجہ سے اہمیت اختیار کر گئے تھے، امریکا نے ان پر گرفت قائم کر لی۔امریکی کیپٹل ازم کی بنیاد سرمائے کی کاشت اور زیادہ سے زیادہ سرمایہ اکٹھا کرنے پر ہے، جس کے نتیجے میں آج پوری دنیا میں کرنسیوں کی مقدار میں اضافہ تو ہوا ہے، لیکن اس کے مقابلے میں تمام پیداواریں کم ہوتی گئی ہیں۔
کیپٹل ازم آبادی کی ضرورتوں کے لحاظ سے متوازن پیداوار حاصل کرنے میں بری طرح ناکام ہو گیا ہے۔ جوں جوں سرمایہ کاری کی تقسیم ہوتی گئی، توں توں پیداواری کلچر ختم ہوتا گیا اور پھر انفرادی سرمایہ کاری میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کو کاشت کیا گیا، جس میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ اکٹھا کرنے کے رجحان سے سرمایہ کی مقدار تو بڑھتی ہے، لیکن پیداواریں کم ہوتی گئیں۔
1990کے بعد امریکی کیپٹل ازم نے کھل کر معاشی غلام ملکوں پر اپنا دباؤ بڑھایا اور قرض کے لیے شرائط رکھیں کہ زیادہ سے زیادہ حکومتی کنٹرول پیداواری شعبوں پر ختم کیا جائے۔
اس عمل کے نتیجے میں حکومتیں ناکام ہوتی گئیں، کیونکہ پیداواریں کم ہوتی گئیں، جس کے نتیجے میں بے روزگاری اور مہنگائی بڑھتی گئی۔ سوشلزم اور کمیونزم کا امریکی سامراج نے بائیکاٹ کر کے انھیں دیوار سے لگا دیا۔
امریکا نے باقاعدہ مزدور تحریکوں میں اپنے ایجنٹ داخل کر کے پرولتاری انقلاب کو روکنے کی کوششیں کیں۔جمہوری کلچر میں عوام ووٹ اپنی خوشحالی کی بحالی کے لیے دیتے ہیں، لیکن پھر بھی عوام کی معاشی بدحالی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔
امریکی سامراج نے ہر اعلیٰ سطح پر اپنے کٹھ پتلی حکمرانوں کو منظر عام پر لایا اور مفاد حاصل ہونے پر انھیں منظر سے ہٹا دیا۔ امریکی سامراج معاشی غلام ملکوں کو پہلے پھندے میں جکڑتا ہے اور پھر سامراجی معاشی غلام بنا لیتا ہے۔
امریکی سامراج نے دنیا بھر کے چپے چپے میں اپنے ایجنٹ بٹھا رکھے ہیں، جو صرف اور صرف امریکی مفادات کا خیال رکھتے ہیں۔سوشلزم کے نظریات اور کمیونزم کے نظریات کسی حد تک امریکی سامراج کو شکست دینے میں کامیاب رہے، مگر عام لوگوں سے نہ جڑنے کے باعث یہ دونوں نظریات اپنے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام بھی رہے ہیں۔
کرہ ارض پر بسنے والے اربوں عوام آج معاشی خوشحالی سے محروم ہیں۔ امریکی کیپٹل ازم نے عوامی خوشحالی کی نفی کی ہے اور اقوامِ عالم کو امریکا کا معاشی غلام بنا لیا ہے۔ جب تک عوام سامراجی امریکا سے اپنی معاشی آزادی چھین نہیں لیتے، اس وقت تک عوام کی خوشحالی ناممکن ہے، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ سامراج اور اس کے ایجنٹ حکمران عوام کو معاشی آزادی دے دیں گے تو یہ ناممکن ہے۔
اس کے لیے صرف اب ایک ہی راستہ ہے کہ سامراج سے عوام اپنی معاشی آزادی چھین لیں، کیونکہ اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے۔آج امریکا نے اقوامِ عالم پر اپنی غیر فطری جنگ مسلط کی ہوئی ہے، جس کی بدولت دنیا کا امن اور معیشتیں بری طرح متاثر ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اہل ِ دانش سامراج کی منظم سازشوں سے عوام کو آگاہ کریں اور ایک شعوری تحریک کا آغاز کریں، جو آگے جا کر معاشی آزادی کی تحریک میں تبدیل ہو جائے۔ جن ممالک میں صرف سرمایہ کی عزت و قدر ہو اور محنت کی توہین اور محنت کش کا معاشی استحصال ہو، وہاں پیداوار ختم ہو جاتی ہے اور معاشرے میں قرض کا گراف بڑھ جاتا ہے۔
متوازن پیداوار وہی ہے جو روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور صحت کی سہولیات کو عوام کی پہنچ پر لائے، نہ کہ سرمائے کی کاشت میں اضافہ ہو، جس کا محور صرف انفرادی ہو۔حبیب جالب نے کیا خوب کہا ہے:
جینے کا حق سامراج نے چھین لیا
اٹھو، مرنے کا حق استعمال کرو
ذلت کے جینے سے مرنا بہتر ہے
مٹ جاؤ یا قصر ِ ستم پامال کرو