لاہور: سکشن ہُڈز کے بغیر میرج ہالز بند کرنے کا فیصلہ، بھاری جرمانے بھی ہوں گے

کچن سے پیدا ہونے والے دھوئیں اور آلودہ اخراج کی روک تھام کے لیے سکشن ہُڈز کی تنصیب کا حکم پہلے ہی دیا جا چکا تھا


ویب ڈیسک September 27, 2026

ادارہ تحفظ ماحول پنجاب نے سکشن ہُڈز کے بغیر چلنے والے تمام میرج ہالز، بینکوئٹ ہالز اور میرج مارکیز کے خلاف صوبہ بھر میں سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بغیر مؤثر اور فعال سکشن ہُڈز کے کام کرنے والے میرج ہالز کو بند اور سیل کرنے کے ساتھ ساتھ بھاری جرمانے بھی عائد کیے جائیں گے۔

ادارہ تحفظ ماحول پنجاب کے مطابق میرج ہالز کو کچن سے پیدا ہونے والے دھوئیں اور آلودہ اخراج کی روک تھام کے لیے سکشن ہُڈز کی تنصیب کا حکم پہلے ہی دیا جا چکا تھا، جبکہ 31 جنوری 2026 اس حوالے سے دی گئی مہلت کی آخری تاریخ تھی۔ ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد اب مزید کوئی رعایت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والے میرج ہالز کے خلاف براہ راست کارروائی ہوگی۔

ڈی جی ادارہ تحفظ ماحول پنجاب عبداللہ نیر شیخ نے فیلڈ افسران کو صوبہ بھر میں میرج ہالز کی سخت نگرانی اور چیکنگ کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ماحولیاتی قوانین پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ سکشن ہُڈز کی تنصیب نہ کرنے والے میرج ہالز کو اب بندش، سیلنگ اور بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا ہوگا۔

ادارہ تحفظ ماحول پنجاب نے واضح کیا ہے کہ صرف سکشن ہُڈ نصب کرنا کافی نہیں بلکہ اس کا مؤثر اور فعال ہونا بھی لازمی ہے۔ غیر مؤثر، غیر فعال یا ناکافی سکشن ہُڈز استعمال کرنے والے میرج ہالز کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق ادارہ تحفظ ماحول پنجاب نے ریسٹورنٹس کے خلاف سکشن ہُڈز کی عدم تنصیب پر کریک ڈاؤن پہلے ہی شروع کر رکھا ہے اور اب تک 500 سے زائد ریسٹورنٹس سیل کیے جا چکے ہیں۔

حکام کے مطابق ریسٹورنٹس کے خلاف جاری کارروائی اس امر کا واضح اظہار ہے کہ محض نوٹسز اور مہلت کے بجائے اب ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر براہ راست کارروائی کی جا رہی ہے۔

ڈی جی ماحولیات پنجاب عبداللہ نیر شیخ نے فیلڈ ٹیموں کو ہدایت کی ہے کہ میرج ہالز کی چیکنگ صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہ رکھی جائے بلکہ موقع پر سکشن ہُڈز کی تنصیب، فعالیت اور مؤثریت کو بھی چیک کیا جائے۔ خلاف ورزی ثابت ہونے پر متعلقہ میرج ہال کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے گی۔

محکمہ کے مطابق کمرشل کچن میں بڑے پیمانے پر کھانا پکانے، باربی کیو اور دیگر سرگرمیوں کے دوران دھواں، چکنائی پر مشتمل بخارات اور ذراتی آلودگی پیدا ہوتی ہے۔ مؤثر سکشن ہُڈز نہ ہونے کی صورت میں یہ اخراج براہ راست ماحول میں شامل ہو کر فضائی آلودگی میں اضافہ کرتا ہے۔

ادارہ تحفظ ماحول پنجاب نے میرج ہالز کے مالکان اور انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ گزشتہ نوٹسز، مہلت یا ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کسی رعایت کو جواز بنا کر کاروبار جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ 31 جنوری 2026 کی آخری ڈیڈ لائن گزر چکی ہے، اب بغیر سکشن ہُڈز والے میرج ہالز کے خلاف کارروائی ہوگی۔

عبداللہ نیر شیخ نے فیلڈ افسران کو ماحولیاتی خلاف ورزیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ پری اسموگ آپریشن کے دوران صنعتوں، بھٹوں، ریسٹورنٹس، کمرشل کچن اور زیادہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں سمیت آلودگی کے تمام بڑے ذرائع کی نگرانی اور کارروائی مزید تیز کی جا رہی ہے۔

ادارہ تحفظ ماحول پنجاب نے واضح کر دیا ہے کہ سکشن ہُڈز کے بغیر پورے پنجاب میں کوئی میرج ہال چلنے نہیں دیا جائے گا۔ خلاف ورزی کی صورت میں میرج ہال بند یا سیل کرنے کے ساتھ بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔