پیرس: قدیم دور کی جلی ہوئی دیوار دریافت

تاریخ کے مطابق 52 قبل مسیح میں گالک قبیلے پاریسی نے رومی فوج سے بچنے کے لیے اپنے قلعہ بند شہر کو خود آگ لگا دی تھی


ویب ڈیسک September 28, 2026

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں نوٹر ڈیم کے قریب ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ایک قدیم جلی ہوئی دیوار دریافت کی ہے، جسے ماہرین نے گالک دور کے شہر لوٹیس کی تلاش میں اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

تاریخی روایات کے مطابق 52 قبل مسیح میں گالک قبیلے پاریسی نے رومی فوج کے حملے سے بچنے کے لیے اپنے قلعہ بند شہر کو خود آگ لگا دی تھی۔ رومی حکمران جولیس سیزر نے بھی اپنی تحریروں میں لوٹیس کا ذکر کیا لیکن اب تک اس شہر کے وجود کے ٹھوس آثار دستیاب نہیں ہوئے تھے۔

نوٹر ڈیم کے قریب ملنے والی جلی ہوئی دیوار اس حوالے سے نئی امید پیدا کرتی ہے کہ ماہرین ممکنہ طور پر قدیم گالک آبادی کے مزید آثار دریافت کر سکیں گے، جس سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ رومی دور سے پہلے اس علاقے میں آبادکاری کیسی تھی۔

فرانس کی وزیرِ ثقافت کیتھرین پیگارڈ نے دریافت کو قدیم گالک لوٹیس کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ممکنہ طور پر اس دور کے سب سے اہم آثار میں سے ایک ہو سکتے ہیں۔

فرانسیسی وزارتِ ثقافت نے بھی اس دریافت کو آثارِ قدیمہ میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔