برطانوی شہزادہ ہیری نے کینیڈا میں ایک فلاحی مہم کے دوران اسکائی ڈائیونگ کرکے ایک 102 سالہ سابق فوجی سے کیا گیا وعدہ پورا کردیا۔ ڈیوک آف سسیکس نے یہ چیلنج کینیڈا کی عسکری برادری کے لیے کام کرنے والے اداروں کی حمایت اور ان کے بارے میں آگاہی بڑھانے کی مہم کے تحت قبول کیا۔
ٹورنٹو کے قریب ہونے والی اس اسکائی ڈائیونگ سے پہلے ہیری کی سابق فوجی ایڈ مارشل سے ملاقات گزشتہ نومبر میں ہوئی تھی۔ دونوں کی ملاقات ٹورنٹو کے سنی بروک اسپتال میں قائم سابق فوجیوں کے مرکز کے دورے کے دوران ہوئی، جہاں عسکری پس منظر اور سابق فوجیوں کی مدد کے مشترکہ جذبے نے دونوں کو قریب کیا۔
اسی ملاقات کے بعد دونوں نے مل کر اسکائی ڈائیونگ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن طبی معائنے کے بعد یہ واضح ہوگیا کہ 102 سال کی عمر کے باعث مارشل کے لیے خود چھلانگ لگانا محفوظ نہیں ہوگا۔ اس صورت حال میں ان کے پوتے بیلی نے دادا کی جگہ یہ چیلنج قبول کیا۔
مارشل خود بھی اس موقع پر طیارے میں موجود رہے۔ انہوں نے ہیری اور اپنے پوتے بیلی کے ساتھ پرواز کی اور دونوں کو طیارے سے چھلانگ لگا کر اسکائی ڈائیونگ مکمل کرتے ہوئے دیکھا۔
زمین پر بحفاظت اترنے کے بعد شہزادہ ہیری نے کہا کہ ایسا کوئی موقع نہیں جہاں وہ 102 سالہ سابق فوجی کو مایوس کرسکیں۔ انہوں نے بتایا کہ مارشل اس چیلنج کے لیے بہت پرجوش تھے۔
ہیری نے مزاحیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ انہیں اس بات پر خوشی ہے کہ مارشل نے خود چھلانگ لگانے کی کوشش نہیں کی، کیونکہ آنے والے مہینوں میں ان کی عمر 103 برس ہونے والی ہے۔
اسکائی ڈائیونگ مکمل کرنے کے بعد ہیری نے سب سے پہلے اپنی اہلیہ میگھن مارکل کو فون کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا دو بچوں کے والد ہونے کی حیثیت سے اس خطرناک مہم میں حصہ لینے کے لیے انہیں میگھن کو راضی کرنا پڑا تھا تو ہیری نے کہا کہ انہیں اس کے لیے اہلیہ کو قائل نہیں کرنا پڑا۔
تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ جب وہ بحفاظت زمین پر واپس پہنچے تو میگھن نے یقیناً سکون کا سانس لیا ہوگا۔ ہیری کے مطابق، چھلانگ سے پہلے طویل انتظار کے دوران میگھن شاید یہی سوچ رہی ہوں گی کہ وہ آخر کب واپس زمین پر اتریں گے۔