بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں تاریخی شاہی مسجد کے ایک حصے کو سڑک چوڑی کرنے کے منصوبے کے تحت ہٹانے کے معاملے پر کشیدگی شدت اختیار کرگئی، جہاں پولیس اور احتجاج کرنے والے مقامی افراد کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ تنازع 2028 میں ہونے والے سمہاستھا کمبھ میلے کی تیاریوں کے سلسلے میں سڑک کو چوڑا کرنے کے منصوبے سے متعلق ہے۔
منصوبے کے تحت متعدد تعمیرات کو سڑک کی مجوزہ حدود میں آنے کی وجہ سے ہٹانے کے لیے نشان زد کیا گیا ہے، جن میں شاہی مسجد کا ایک حصہ بھی شامل ہے۔
مقامی مسلمان کئی دنوں سے مسجد کے تحفظ کے مطالبے پر وہاں موجود تھے۔ پیر کی صبح انتظامیہ کی جانب سے کارروائی آگے بڑھنے پر بڑی تعداد میں لوگ دوبارہ جمع ہوگئے، جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس پر پتھراؤ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے، جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے ذریعے ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔
رپورٹس کے مطابق مسجد کے ایک حصے کو سڑک کی مجوزہ توسیع کے لیے ہٹایا جانا ہے، جبکہ مسجد سے وابستہ افراد کی جانب سے متبادل راستے یا تعمیراتی حل کی تجاویز بھی سامنے آئی ہیں۔ مسجد کے بعض حصوں اور مینار سے متعلق بھی اختلاف برقرار ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب مقامی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ سڑک کی توسیع شہری ترقی اور 2028 کے بڑے مذہبی اجتماع کے دوران ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ بھارتی رپورٹس کے مطابق شاہی مسجد کے علاوہ تقریباً 272 دیگر تعمیرات بھی سڑک کی توسیع کے منصوبے سے متاثر ہونے والی ہیں۔
واقعے کے بعد شاہی مسجد کے اطراف سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ریپڈ ایکشن فورس سمیت اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے، جبکہ حکام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس تنازع نے تاریخی مذہبی عمارت کے تحفظ، شہری ترقی اور امن و امان کے حوالے سے بحث کو مزید نمایاں کردیا ہے۔