امریکا ایران مذاکرات میں ڈیڈلاک، قطر کی ثالثی بھی بڑی پیش رفت نہ کراسکی، امریکی میڈیا کا دعویٰ

ایران نے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کو سفارتی عمل سے جوڑتے ہوئے سات روزہ منصوبہ پیش کیا تھا


ویب ڈیسک September 30, 2026

امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے مذاکرات سے واقف تین ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ قطر کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان اختلافات دور کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم دونوں فریق اپنے بنیادی مؤقف میں نمایاں تبدیلی کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتے۔

رپورٹ کے مطابق قطر کے حکام مذاکرات میں پیش رفت کے لیے مسلسل رابطے کر رہے ہیں جبکہ قطری ثالثی کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان ایسا فارمولہ تلاش کرنا ہے جس سے کشیدگی کم ہو اور دوبارہ وسیع تر مذاکرات کی راہ ہموار ہوسکے۔ قطر کے وزیر خارجہ کے ترجمان نے بھی کہا ہے کہ دوحہ دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہا ہے اور مشترکہ بنیاد تلاش کرنے کی کوشش جاری ہے۔

ایگزیوس کے مطابق حالیہ رابطوں میں قطری ثالث علی الثوادی نے نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے کئی گھنٹے ملاقات کی۔ اس دوران قطر کی جانب سے پیش کردہ ایک سمجھوتے کی تجویز پر بات ہوئی۔ اس تجویز میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق مطالبات اور امریکا کی طرف سے ایران کے جوہری پروگرام پر رعایت کے مطالبے کو ایک ہی فریم ورک میں لانے کی کوشش کی گئی تھی۔

عراقچی سے ملاقات کے بعد قطری ثالث نے امریکی حکام سے بھی رابطے کیے۔ اس عمل کا مقصد دونوں فریقوں کے درمیان موجود بنیادی اختلافات، خصوصاً آبنائے ہرمز، امریکی بحری ناکہ بندی اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مطالبات میں کوئی قابلِ قبول درمیانی راستہ تلاش کرنا تھا۔

ایران نے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کو سفارتی عمل سے جوڑتے ہوئے سات روزہ منصوبہ پیش کیا تھا، جس کے تحت مخصوص شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے کو دوبارہ کھولنے اور وسیع تر مذاکرات شروع کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مزید مذاکرات متوقع ہیں۔

دوسری جانب امریکی مؤقف یہ ہے کہ کسی بھی جامع معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات کو شامل کیا جانا چاہیے جبکہ تہران آبنائے ہرمز اور امریکی بحری ناکہ بندی جیسے معاملات کو فوری طور پر حل کرنے پر زور دے رہا ہے۔ یہی اختلاف مذاکرات میں سب سے اہم رکاوٹوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق قطر کے ساتھ ساتھ دیگر علاقائی ثالث بھی دونوں فریقوں کے درمیان رابطے برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم فی الحال کوئی ایسا معاہدہ سامنے نہیں آیا جس سے مذاکرات میں نمایاں پیش رفت یا اختلافات کے خاتمے کی تصدیق ہوسکے۔