ایران نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے متحدہ عرب امارات کے حالیہ دورے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ابوظبی کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کی میزبانی کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں کہا کہ جس طرح متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی نے اسے سکیورٹی فراہم نہیں کی، اسی طرح نیتن یاہو کی میزبانی بھی امارات کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوگی۔
محسن رضائی نے اماراتی قیادت پر زور دیا کہ وہ حالیہ جنگ سے سبق حاصل کرے، کشیدگی بڑھانے سے گریز کرے اور خلیج میں ایران کے زیرِ انتظام تین متنازع جزائر سے متعلق اپنے دعوے ختم کرے۔ ایران ان جزائر کو اپنی خودمختاری کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات ان پر اپنا دعویٰ برقرار رکھتا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے بھی نیتن یاہو کے دورۂ امارات کی مذمت کی ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق خطے کے ممالک کو اسرائیل کی موجودگی کے ممکنہ اثرات سے چوکس رہنا چاہیے اور اپنی سرزمین کو دوسرے علاقائی ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے۔ تہران نے اسرائیل کی ایران اور دیگر علاقائی ممالک کے خلاف پالیسی کو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔
نیتن یاہو نے گزشتہ اتوار کو ابوظبی کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی۔ امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور انہیں مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر گفتگو ہوئی۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تین متنازع خلیجی جزائر کے معاملے پر بھی سفارتی اختلافات موجود ہیں، جبکہ خطے میں ایران، اسرائیل اور امریکا سے متعلق کشیدگی بھی برقرار ہے۔
دوسری جانب ایران کے سخت ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی روابط کو علاقائی سلامتی کے تناظر میں اہم سمجھتا ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات اور ممکنہ نتائج سے متعلق دعوے ایرانی حکام کے مؤقف کے طور پر سامنے آئے ہیں۔