ترقی یافتہ ممالک میں اے آئی کے اثرات کے بارے میں اب تک کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ بے روزگاری کا اثر سب سے زیادہ ابتدائی ملازمتوں، دفتری کام، کسٹمر سروس اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ پر پڑ رہا ہے۔ امریکا میں رواں سال ہزاروں ملازمین مختلف ٹیک کمپنیوں سے فارغ کیے گئے۔
اسی طرح امریکی بڑی ٹیک کمپنیوںAmazon، Microsoft، Meta، میں تقریباً 50,000 ملازمتیں کم ہوئیں، جب کہ انھی کمپنیوں نے اے آئی پر اربوں ڈالر خرچ کیے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں تقریباً 34فیصد ملازمتیں ایسی ہیں جن پر اے آئی اثر ڈال سکتا ہے۔ مائیکروسوفٹ میں رواں سال تقریباً 4,800 ملازمین کم کیے گئے۔
مزید قابل توجہ بات یہ ہے کہ اب بعض جگہوں پر معاملہ الٹا دکھائی دے رہا ہے جن ملازمین کی جگہ اے آئی لانے کی کوشش کی گئی تھی، انھی ملازمین کو دوبارہ بلایا جا رہا ہے۔اس سلسلے میں امریکی گاڑی ساز کمپنی فورڈ نے تقریباً 350 تجربہ کار انجینئرز اور تکنیکی ماہرین کو دوبارہ یا نئے سرے سے شامل کیا۔ کمپنی کو تجربہ ہوا کہ خودکار نظام اور اے آئی معیار کے بعض مسائل کی نشاندہی کرنے میں مدد تو دے سکتے ہیں، لیکن کئی برسوں کے عملی تجربے رکھنے والے انجینئرز کی مہارت کا مکمل متبادل نہیں بن سکتے۔
اسی طرح ’’ آئی بی ایم‘‘ نے بھی نوجوانوں کے لیے دروازہ دوبارہ کھول دیا۔2023 میں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ IBM ایسے بعض عہدوں پر بھرتیاں روکنے کا ارادہ رکھتی ہے جن کے کام مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیے جا سکتے ہیں، لیکن اب آئی بی ایم نے امریکا میں ابتدائی سطح کی ملازمتوں میں تین گنا اضافہ کرنے کا منصوبہ ظاہر کیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اے آئی کے دور میں بھی نئے لوگوں کو ادارے میں شامل کرنا ضروری ہے، کیونکہ اگر آج نوجوانوں کو داخل ہی نہ کیا جائے تو چند سال بعد تجربہ رکھنے والے ملازمین کی نئی نسل کہاں سے آئے گی؟
ایک خیال یہ بھی ہے کہ اے آئی جتنی طاقتور ہوتی جائے گی، انسانی فیصلہ سازی، تنقیدی سوچ اور نتائج کی جانچ شاید اتنی ہی اہم ہوتی جائے گی کیونکہ اے آئی جواب دے سکتی ہے، لیکن یہ فیصلہ ہمیشہ انسان ہی کرے گا کہ جواب درست ہے یا نہیں۔فرض کریں کسی کمپنی نے اے آئی سے ایک اہم رپورٹ تیار کروائی، رپورٹ غلط نکلی یا کسی انجینئرنگ ڈیزائن میں اے آئی سے پیدا ہونے والی غلطی کے باعث نقصان ہوگیا یا کسی صارف کو اے آئی نے غلط معلومات دے دیں تو ذمے داری کس کی ہوگی؟مشین کی؟الگورتھم کی؟یا اس انسان کی جس نے اے آئی کے جواب پر بھروسہ کیا؟
تحقیقی ادارے Gartner نے فروری 2026 میں پیش گوئی کی کہ 2027 تک ان کمپنیوں میں سے تقریباً 50 فیصد جو اے آئی کو ملازمین کی تعداد کم کرنے کی وجہ قرار دے چکی ہوں گی، دوبارہ ایسے ملازمین بھرتی کریں گی جو ملتے جلتے کام انجام دیں گے، اگرچہ ان کے عہدوں کے نام مختلف ہو سکتے ہیں۔
ابھی تک کہ منظر نامے کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ اے آئی ملازمتوں کو یکساں طور پر ختم نہیں کرے گی،وہ ایسے کاموں پر زیادہ اثر ڈال سکتی ہے جو بار بار دہرائے جاتے ہیں، جن کے قواعد واضح ہیں اور جنھیں ڈیٹا یا معمول کے عمل کے ذریعے انجام دیا جا سکتا ہے۔اس کے برعکس ایسے کام جن میں انسانی تعلق، فیصلہ سازی، تخلیقی صلاحیت، قیادت، مذاکرات، ہمدردی، تجربہ اور غیر معمولی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت شامل ہو، ان میں انسان کا کردار زیادہ دیر تک اہم رہ سکتا ہے۔
ایک تحقیقی ادارے Forrester کے مطابق 2030 تک امریکا میں اے آئی تقریباً 10.4 ملین ملازمتوں کے خاتمے میں کردار ادا کر سکتی ہے، جو امریکی ملازمتوں کا تقریباً 6 فیصد بنتی ہیں، لیکن ادارہ یہ بھی کہتا ہے کہ بڑے پیمانے پر انسانی افرادی قوت کو اے آئی سے مکمل طور پر تبدیل کرنے کا تصور ابھی حقیقت سے بہت دور ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم کی Future of Jobs Report 2025 کے مطابق 2030 تک مختلف معاشی، تکنیکی اور سماجی تبدیلیوں کے نتیجے میں تقریباً 170 ملین نئی ملازمتیں پیدا ہو سکتی ہیں جب کہ 92 ملین ملازمتیں ختم یا displaced ہو سکتی ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر تقریباً 78 ملین ملازمتوں کا خالص اضافہ متوقع ہے۔ تاہم نئی ملازمتیں لازماً وہی نہیں ہوں گی جو پرانی ملازمتوں کی جگہ ختم ہوں گی۔امریکی ڈیٹا کے مطابق اے آئی سے زیادہ متاثر ہونے والی ابتدائی سطح کی ملازمتوں میں اب روایتی طور پر senior سمجھی جانے والی مہارتیں، مثلاً judgment، leadership اور creativity، زیادہ مانگی جا رہی ہیں۔
ایک اور اہم ترین بات یہ ہے کہ اے آئی اب صرف ملازمتوں کے پیدا ہونے یا کم ہونے کا مسئلہ نہیں،یہ صرف ان لوگوں کا مسئلہ بھی نہیں ہے جن کو ابھی نوکری کرنی ہے، یہ ان لوگوں کا بھی مسئلہ ہے جن کا ملازمتوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔
آئیے! اس ضمن میں صرف دو خبریں دیکھتے ہیں۔
ایک خبر کے مطابق اے آئی سے زہر دینے کا طریقہ پوچھ کر اپنے والد کو زہر دینے کی کوشش کرنے والے 17 سالہ طالب علم کو بہاولپور سے گرفتار کیا گیا۔معلومات کے مطابق گرفتار نوجوان سیکنڈ ایئر کا طالب علم ہے، والدین کا اکلوتا بیٹا ہے اور اس کے والد کے ساتھ تعلقات کشیدہ تھے۔ نوجوان امریکی کرائم ڈراما سیریز ’’بریکنگ بیڈ‘‘ دیکھنے کے بعد کیمیا دان بننے میں دلچسپی لینے لگا تھا۔ اس نے گھر میں ایک چھوٹی سی لیبارٹری بھی قائم کر رکھی تھی، جہاں وہ کیمیائی تجربات کرتا تھا۔ نوجوان نے اپنے والد کو زہر دینے کے لیے آسٹریلیا اور اسلام آباد سے کیمیائی مواد منگوایا اور اسے گھر میں تیار کیا۔
اس سے قبل امریکا کی مختلف ریاستوں میں بھی کئی نوجوان اے آئی سے مشورہ کرکے خود کشیاں کرچکے ہیں،گویا والدین سمیت معاشرے کے ہر فرد کو اس جدید ٹیکنا لوجی کا علم ہونا وقت کا تقاضہ ہے۔
ایک اور دوسری خبر کے مطابق ایلون مسک کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں اے آئی کو فوجی نظاموں، خصوصاً جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول تک براہ راست رسائی مل گئی اور وہ انسانی نگرانی کے بغیر فیصلے کرنے لگی تو نتائج تباہ کن ہوسکتے ہیں۔ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا آخری اختیار انسانوں کے پاس ہونا چاہیے اور اے آئی کو ایسے فیصلوں میں خودمختار اختیار نہیں دینا چاہیے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ بھی اس خطرے پر تشویش ظاہر کر رہا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا کہ دنیا ایسے مرحلے کے قریب پہنچ رہی ہے جہاں مشینیں انسانی مداخلت کے بغیر انسانوں کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔ انھوں نے autonomous weapons کے لیے بین الاقوامی طور پر پابند قواعد بنانے کا مطالبہ کیا۔
یاد رہے کہ خلیجی جنگ کے دوران 1991 کو سعودی عرب کے شہر ظہران میں امریکی پیٹریاٹ ڈیفینس میزائل سسٹم ایک عراقی Scud میزائل کو بروقت track اور intercept نہیں کر سکا۔Scudمیزائل ایک امریکی فوجی بیرک سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں 28 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ اس ناکامی میں weapons-control computer کے software کا مسئلہ بنیادی وجہ تھا۔ یہ واقعہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی جس قسم کی بھی ہو، ان پر انسانی کنٹرول زیادہ سے ہونا چاہیے۔ یوں دیکھا جائے تو ملازمتوں سمیت اس وقت بہت سارے چیلنج آج انسان کے سامنے کھڑے ہیں، جن پر ہر ایک فرد کو توجہ دینا ہوگی ورنہ سخت نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔