ایران نے حکومت مخالف احتجاج سے منسلک ایک شخص کو سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ اور قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں کے الزامات میں پھانسی دے دی۔
ایرانی عدلیہ کے مطابق سیاوش جمشیدی خیربادی کو ہفتے کے روز پھانسی دی گئی۔ وہ 8 جنوری کو شہرکرد میں ہونے والے احتجاج کے دوران سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کے الزام میں گرفتار ہوا تھا۔
عدلیہ کا کہنا ہے کہ جمشیدی نے کم از کم تین گولیاں چلائیں اور اسے دو روز بعد ایک ہتھیار سمیت گرفتار کیا گیا۔ اسے ’’محاربہ‘‘ یعنی ’’خدا کے خلاف جنگ‘‘، قومی سلامتی کے خلاف اجتماع اور سازش سمیت دیگر الزامات میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔
ایرانی حکام کے مطابق سپریم کورٹ نے بھی اس کی سزا برقرار رکھی۔ تاہم سرکاری رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مبینہ فائرنگ میں کوئی شخص ہلاک یا زخمی ہوا تھا۔
یہ پھانسی علی ہمتی سستانی اور مجید نیکاندیش کو پھانسی دیے جانے کے صرف چند روز بعد ہوئی ہے دونوں کو 30 ستمبر کو مشہد میں جنوری کے احتجاج سے متعلق مقدمات میں پھانسی دی گئی تھی۔
ایرانی حکام نے ان پر احتجاج کے دوران سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں اور دیگر جرائم کے الزامات عائد کیے تھے۔
ایران ہیومن رائٹس کے مطابق سیاوش جمشیدی جنوری کے احتجاج سے متعلق پھانسی پانے والا 32واں شخص ہے 100 سے زائد مظاہرین اب بھی پھانسی کے خطرے سے دوچار ہیں۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایرانی عدالتی کارروائیوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے مبینہ جبری اعترافات، تشدد اور منصفانہ مقدمات کے فقدان پر تشویش ظاہر کی ہے۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ احتجاج کے دوران تشدد اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزائیں دی جا رہی ہیں۔