ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ہماری مسلح افواج پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہیں، امریکا یا اسرائیل کی کسی بھی غلطی کی صورت میں انھیں پہلے سے زیادہ نقصان پہنچے گا۔
ابراہیم عزیزی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایرانی مسلح افواج امریکا یا اسرائیل کی جانب سے کسی بھی ممکنہ غلطی کا انتظار کررہی ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہماری افواج کی انگلیاں ٹریگر پر ہیں، اگر امریکا یا اسرائیل نے ایران پر دوبارہ حملہ کیا تو انھیں ایسا شدید اور تباہ کن ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔
ایرانی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ نے اپنے بیان میں یہ واضح نہیں کیا کہ ایران کی جانب سے ممکنہ ردعمل کی نوعیت کیا ہوگی تاہم ان کا انتباہ کسی بھی نئی امریکی یا اسرائیلی فوجی کارروائی کے خلاف سخت جوابی کارروائی کی دھمکی کے طور پر سامنے آیا ہے۔
ایران کے ایک اور عہدیدار، دفاعی وزارت کے ترجمان رضا طلائی نیک نے بھی کہا کہ امریکا یا اسرائیل کے کسی نئے حملے کی صورت میں ایران فیصلہ کن جواب دے گا۔
ان کے بقول جنگ شروع ہونے کے بعد ایران کی اسلحہ اور گولہ بارود بنانے کی صلاحیت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان اور قطر کی ثالثی میں اب بھی سفارتی رابطے جاری رہنے کے باوجود دونوں جانب سے سخت بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
قطر نے بھی منگل کو تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔