اسلام آباد:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ڈی جی حج تیسری بار بھی نہیں آئے، جس پر اجلاس کو احتجاجاً ملتوی کردیا گیا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا اجلاس قائم مقام چیئرمین سینیٹر حافظ عبدالکریم کی زیر صدارت ہوا، جس میں ڈی جی حج کی عدم حاضری پر ارکان نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔
حافظ عبدالکریم نے کہا کہ کمیٹی نے ڈی جی حج کو بلایا تھا، پچھلی مرتبہ بھی وہ نہیں آئے، کیا وہ اتنے طاقتور ہیں کہ کمیٹی میں نہیں آرہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر حج بادشاہ بن بیٹھا ہے اور تیسری بار بلانے پر بھی نہیں آیا۔
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے زوم پر اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی کفایت شعاری مہم کی وجہ سے وہ خود اجلاس میں نہیں آئے اور زوم پر موجود ہیں۔
سینیٹر ناصر بٹ نے کہا کہ ڈی جی حج کے سمن بھی نکالے جاسکتے ہیں، انہیں زوم پر نہ لیا جائے۔
حافظ عبدالکریم نے کہا کہ ڈی جی حج کی مدت ملازمت پوری ہوگئی ہے لیکن وہ پھر بھی چارج چھوڑنے کو تیار نہیں۔ قائم مقام چیئرمین نے کہا کہ ڈی جی حج جدہ مدت ملازمت پوری ہونے کے باوجود عہدہ نہیں چھوڑ رہے۔
سیکریٹری وزارت مذہبی امور نے کمیٹی کو بتایا کہ ڈی جی حج کی تعیناتی کا پراسیس جاری ہے۔ 36 افراد میں سے 3 لوگوں کی سمری وزیراعظم کو بھجوائی گئی تھی، تاہم وزیراعظم نے سمری مسترد کرتے ہوئے نئی سمری بھجوانے کی ہدایت کی۔
سیکریٹری وزارت نے بتایا کہ اسلام آباد بند ہونے اور پھر تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے وزارت نے آمدورفت پر پابندی عائد کردی تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پچھلی مرتبہ ڈی جی حج نے پاکستان کے لیے ٹکٹ کروا لی تھی، تاہم کمیٹی کا اجلاس ملتوی ہونے کے باعث انہوں نے ٹکٹ منسوخ کروا دیا۔
سینیٹر ناصر بٹ نے ہدایت کی کہ ڈی جی حج کی ٹکٹ منسوخی کی تفصیلات کمیٹی کو بھجوائی جائیں اور اس معاملے پر وزیراعظم کو خط لکھا جائے۔ حافظ عبدالکریم نے بھی ہدایت کی کہ ڈی جی حج کو لکھا جائے کہ وہ اگلی میٹنگ میں اپنی حاضری یقینی بنائیں۔
کمیٹی ارکان نے کہا کہ ڈی جی حج کا بار بار بلانے کے باوجود نہ آنا باعث شرم اور تشویش ہے۔ ارکان نے کہا کہ وزیر اور وزیر مملکت مذہبی امور دونوں اجلاس میں آگئے لیکن ڈی جی حج آنے سے انکار کر رہے ہیں۔ قائم مقام چیئرمین حافظ عبدالکریم نے ڈی جی حج کی عدم حاضری کے معاملے سے وزیراعظم کو مطلع کرنے کی ہدایت کی۔
بعد ازاں ڈی جی حج کی مسلسل عدم حاضری پر قائمہ کمیٹی نے احتجاج کرتے ہوئے اجلاس ملتوی کردیا۔