جس ملک میں سرمایہ کاری کی آمد میں مختلف اقسام کے رخنے پیدا ہوجاتے ہیں تو وہاں پر صنعتیں یا بند ہونے لگتی ہیں یا پھر مزید صنعتوں کا قیام عمل میں نہیں آتا۔ پاکستان کی بدقسمتی یہ رہی کہ نائن الیون کے بعد سے ملک میں سرمایہ کاری کی آمد میں کمی ہوئی اس کے ساتھ ہی توانائی کے بحران کے علاوہ مزید بدقسمتی کا سبب یہ رہا کہ ملکی سرمایہ کاروں نے خطے کے دوسرے ممالک کا رخ کرنا شروع کر دیا۔
90 کی دہائی سے کراچی میں بھتہ خوری کا آغاز اور دیگر وجوہات کی بنا پر شہر کے حالات خراب سے خراب تر ہوتے چلے گئے، لہٰذا ایسی صورت حال میں بھی نئی سرمایہ کاری کا فقدان ہو گیا۔ ایسی صورت میں جب سرمایہ کاری کی کمی ہو تو نئی فیکٹریوں کے قیام میں کی واقع ہو جاتی ہے، جب نئی فیکٹریاں لگتی ہیں تو نئی مشینریوں کی خریداری ہوتی ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری کی آمد سے ان ملکوں کی ٹیکنالوجی اور تحقیق سے استفادے کا بھرپور موقع حاصل ہوتا ہے، ملک میں تیار کردہ مصنوعات کی قدر بڑھتی ہے۔ پرانے اور فرسودہ طریقے آہستہ آہستہ بے دخل ہو کر رہ جاتے ہیں لیکن نئی سرمایہ کاری چاہے ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے ہو یا غیرملکی سرمایہ کاری کی مناسب ترین آمد ہو، یہ سارے امور خصوصی حالات میں ہی ممکن ہیں۔
ملک میں نئی سرمایہ کاری کا ماحول ہو، توانائی مہنگی نہ ہو، ٹیکس کا نظام پیچیدہ نہ ہو۔ پالیسی بار بار تبدیل نہ ہوتی رہے، تو ایسی صورت میں سرمایہ کار راغب ہوتا ہے اور جہاں توانائی کی قیمتوں کے بارے میں اسے بتایا جاتا ہے کہ اس میں اضافے کا تو رواج ہے لیکن کمی کبھی نہیں ہوتی۔ تو پھر وہ سوچ میں پڑ جاتا ہے اور ملک میں بدامنی کی صورتحال موجود ہو، ٹیکس نظام تو ہے لیکن اس طرح کا ہے کہ اس میں کرپشن کا عمل دخل زیادہ ہے اور پالیسی بنتی ہے، بگڑتی بھی ہے، پھر دوبارہ بنتی ہے، اس طرح کا سلسلہ چلتا رہتا ہے تو پھر سرمایہ کار سوچ میں پڑ جاتا ہے اور پھر جب اسے سرخ فیتہ کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے تو وہ اسی میں عافیت سمجھتا ہے کہ سرمایہ کاری سے گریز کرے۔ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ غیرملکی سرمایہ کار باوجود رغبت کے انھوں نے حالات کا جائزہ لینے کے بعد سرمایہ کاری سے انکار کر دیا اور دیگر ملکوں میں جا کر سرمایہ کاری کی۔
بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں کے بیرونی سرمایہ کاروں نے پہلے پاکستان کے بارے میں مکمل جانکاری حاصل کی۔ تسلی بخش جواب نہ ملنے پر نئی سرمایہ کاری دیگر ملکوں کو پرواز کر گئی۔ اس طرح جب نئی سرمایہ کاری نہیں ہوگی اور نئے کارخانے نہیں لگیں گے تو ایسی صورت میں یہ صورت حال پیدا ہو کر رہتی ہے کہ ملک میں بے روزگاروں کی تعداد میں اضافہ شروع ہو جاتا ہے۔
بہت سے نوجوان اپنی جان کی بازی لگا کر یورپ اور دیگر ممالک جانے کو ترجیح دیتے ہیں جس میں بہت سے نوجوان جان کی بازی بھی ہار جاتے ہیں لیکن بے روزگاری سے تنگ آئے ہوئے نوجوانوں کی اب بھی پہلی بڑی ترجیح دیار غیر جا کر ملازمت اختیار کرنا ہے۔ ہمارے ملک میں کم برآمدات بھی اسی وجہ سے ہے کہ ملک میں نہ تو نئی صنعتیں قائم ہو رہی ہیں اور اسی وجہ سے برآمدات بھی کم واقع ہو رہی ہے۔
کم برآمدات کا مسئلہ آہستہ آہستہ ملک کے لیے انتہائی خطرناک صورت حال اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اس طرح آہستہ آہستہ ملک مختلف انواع واقسام کی معاشی بیماریوں میں مبتلا ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں درآمدات کا متبادل تیار کرنے پر بھی نئی سرمایہ کاری نہ ہونے کے سبب درآمدات میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ درآمدات کا متبادل ملک میں تیار کریں۔ نئی سرمایہ کاری کے ذریعے پیداواری صلاحیت بھی بڑھائی جاتی ہے، حکومت ایک طرف ٹیکسوں میں اضافہ کرتی چلی جا رہی ہے، اس کے ساتھ ہی ٹیکس وصولی سے جڑے کرپشن کے خاتمے کے لیے بھی حکومت نے کئی اقدامات اٹھائے ہیں جوکہ فی الحال ناکافی نظر آ رہے ہیں لیکن اصل مسئلہ ٹیکس بڑھانے سے حل نہیں ہوگا۔
نئی سرمایہ کاری لے کر آئیں، پیداواری صلاحیت کو بڑھائیں تو ایسی صورت میں مختلف اقدامات اٹھا کر ہی اس مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ جب نئی سرمایہ کاری کی آمد ہوگی، نئے کارخانے لگیں گے اور پہلے سے قائم کارخانوں میں نئی سرمایہ کاری لا کر اس میں جدت پیدا کی جائے گی، نئی ٹیکنالوجی لے کر آئیں گے، مصنوعات کی قیمتوں میں کمی واقع ہوگی تو ایسی صورت میں کارخانہ دار اور مل اونرز اپنے زیادہ سے زیادہ مال کی نکاسی کر پائیں گے جس سے ٹیکس وصولی میں بھی اضافہ ہوگا۔ بصورت دیگر کارخانہ دار مجبوری میں کارخانہ چلا رہا ہوگا، شدید دباؤ کے باعث اس کی مصنوعات کی لاگت میں بھی اضافہ ہو رہا ہوگا تو ایسی صورت میں وہ خود مختلف طریقوں سے مالی مسائل میں گھرا ہوا ہوگا۔ تو پھر ظاہر ہے کہ ٹیکس وصولی میں بھی کمی واقع ہو کر رہے گی۔
ملک میں جب سرمایہ کاری کی کمی ہو، بیرونی سرمایہ کار ملک میں نئی سرمایہ کاری کے لیے راغب نہ ہو رہے ہوں تو ایسی صورت میں ہم اپنی درآمدات کی اصلاح کریں وہ اشیا درآمد نہ کریں جس سے پیداوار میں اضافہ نہ ہو رہا ہو۔ جو اشیائے تعیشات کے زمرے میں آتے ہیں، مہنگی بھی ہوں جس کے باعث ملک سے زیادہ سے زیادہ ڈالر بیرون ملک چلا جاتا ہے، لہٰذا اشیا، سرمایہ، مشینریاں اور پیداوار بڑھانے والی اشیا، مصنوعات کی درآمدات کے ذریعے ملک میں نئی ٹیکنالوجی اور جدت کی مدد سے ملکی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی لانے سے برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا اور نئی سرمایہ کاری کی کمی کے اثرات کو کم کیا جا سکے گا۔