مہناز نے نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے کاظمی اور رشید گروپ کا ذکر کیا ہے۔ حسین نقی این ایس ایف کے نامزد کردہ کراچی یونیورسٹی طلبہ یونین کے آخری صدر تھے۔ 1970ء میں کراچی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے کانووکیشن کا انعقاد کیا۔ کرامت علی، رشید رضوی، عابد علی سید وغیرہ نے اس موقع پر پمفلٹ تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا مگر دائیں بازو کی تنظیم کے تھنڈر اسکواڈ نے کرامت علی کو گھیر لیا اور بیہمانہ تشدد شروع کردیا ۔ مہناز نے شور مچانا شروع کردیا ، یوں ان کی جان بچ گئی۔
مہناز نے اپنی ساتھی رخشندہ کی تجویز پر شعبہ معاشیات سوسائٹی کے نائب صدر کے انتخابات میں حصہ لیا۔ اس وقت شعبہ معاشیات کے اسلامی جمعیت طلبہ کے رہنما اعجاز شفیع گیلانی طلبہ یونین کے صدر کا انتخاب جیت چکے تھے۔ شعبہ معاشیات آرٹس فیکلٹی کا بہت بڑا ڈیپارٹمنٹ تھا۔ اس وقت ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی قائم کرلی تھی اور اگر این ایس ایف کا امیدوار کامیاب ہوگیا تو یہ تاثر ہوگا کہ پیپلز پارٹی ملکی انتخابات میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ میرے مقابلے میں ایک خاتون امیدوار کو کھڑا کیا گیا، مہناز طلبہ یونین کے انتخاب میں کامیاب ہوگئی، کئی برسوں بعد یہ این ایف ایف کی پہلی کامیابی تھی۔
کتاب کا تیسرا باب محبت Love ہے۔ مہناز نے پیپلز پارٹی کے ترجمان اخبار مساوات میں پہلی ملازمت کی، مہناز کے والد کو یہ خیال پسند نہیں آیا۔ انھوں نے کہا ’’میں تمہیں اتنے ہی پیسے دوں گا جتنے مساوات میں ملیں گے، بشرطیکہ تم اپنے بھائی کو پڑھاؤ‘‘ مگر مہناز نے یہ آفر مسترد کردی۔ روزنامہ مساوات کے ایڈیٹر نارتھ ناظم آباد بلاک Lمیں قیام پذیر تھے، والدہ مہناز کو شوکت صدیقی کے گھر لے گئیں۔ شوکت صاحب نے مساوات کا عارضی دفتر رائٹرز گلڈ کے دفتر میں بنایا تھا۔ وہاں مہناز کی پہلی ملاقات احفاظ الرحمن سے ہوئی جنھیں مساوات کا میگزین ایڈیٹر مقرر کیا گیا تھا۔ مہناز لکھتی ہیں کہ ’’مجھے کچھ برسوں بعد احساس ہوا کہ احفاظ ان میں دلچسپی لے رہے ہیں ۔
احفاظ الرحمن پر مساوات کے میگزین کے ایڈیٹر کی حیثیت سے بڑا دباؤ تھا، وہ چین کے صاف ماحول سے آئے تھے، یہاں ہر طرف گندگی تھی۔ احفاظ کا پارہ چڑھ جاتا تھا، کاتب ان کے معیار کے نہیں تھے، وہ اردو کرائمز کی غلطیوں کو سنجیدگی سے لیتے تھے۔ احفاظ الرحمن نے اپنے دوست حسن امام کی اہلیہ کے ذریعے شادی کا پیغام مہناز کے گھر بھجوایا۔ احفاظ الرحمن محمود آباد میں رہتے تھے جہاں بنیادی سہولتیں میسر نہیں تھیں۔ خالہ احفاظ کے گھر گئیں۔ بقول مہناز ہم اس دوران انقلاب کے لیے بھی کام کررہے تھے۔ ہر شخص اس شادی کے خلاف تھا اور کہا کہ ’’ تم غریب سے شادی کر رہی ہو۔‘‘ میں نے احفاظ سے کہا کہ’’ اگر شیما کرمانی کہے گی تو میں شادی کرلوں گی‘‘ اس بنا پر شیما کے گھر گئے۔ شیما نے کہا کہ ’’تمہیں وہ کرنا چاہیے جو تم چاہتی ہو‘‘ ۔ مجھے صدر کے اسٹوڈیو اپارٹمنٹ میں احفاظ سے ملاقات کا پیغام ملا۔ احفاظ نے مجھے دیکھ کر کہا کہ’’ آپ کے والدین کبھی شادی پر تیار نہیں ہوںگے، ہمیں آج ہی شادی کر لینی چاہیے۔‘‘ مہناز کہتی تھیں وہ فوری طور پر تیار نہیں تھیں۔
کہا کہ ’’میں کوشش کروں گی کہ والدین باقاعدہ شادی کے لیے تیار ہوجائیں‘‘ دوسرا مہر کا مسئلہ تھا۔ بقول مہناز ان کے خاندان میں 1974 میں 50 ہزار روپے مہر رکھا جاتا تھا۔ یوں ایک دوست نے تجویز دی کہ مہر 60 ہزار روپے ہونا چاہیے۔ نکاح نامہ میں اس کا اندراج ہونا چاہیے تاکہ میرے والدین کو اندازہ ہو جائے کہ احفاظ شادی کے معاملے میں اتنے سنجیدہ ہیں۔ نکاح کی تقریب میں معروف شاعرہ فہمیدہ ریاض کو بھی مدعو کیا گیا۔ نکاح خواہ کی فیس 100 روپے تھی۔ صحافیوں کی ماہانہ تنخواہ 400 روپے ہوتی تھی۔ کسی کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے تو آخرکار میرے پرس سے 100 روپے مل گئے۔ مہناز نکاح کے بعد گھر چلی گئی۔ رات کو جب امی کھانا پکارہی تھیں تو انھیں بتادیا۔ پھر رخصتی کی تاریخ طے ہوئی، بارات آئی۔
وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے پریس سیکریٹری خالد حسین (جو احفاظ کے دوست تھے) نے مرسڈیز کار کا بندوبست کیا۔ اس وقت احفاظ الرحمن کے پاس موٹرسائیکل بھی نہیں تھی۔ مہناز نے اپنے سسرال میں مشکل دن گزارے۔ اس دوران ان کی بیٹی پیدا ہوگئی، مہناز نے بچی کی دیکھ بھال کے لیے ملازمت بھی چھوڑ دی۔ ناموافق حالات کی بناء پر مہناز نے سسرال چھوڑ دیا اور ابا کے گھر آگئی۔ وہ لکھتی ہیں کہ احفاظ سے علیحدگی، بائیں بازو کے منحرب گروپوں کے درمیان جنگ کا موضوع بن گئی۔
مہناز کمیونسٹ پارٹی چین نواز گروپ کے زین الدین خان لودھی گروپ سے وابستہ تھی۔ اس پارٹی کے پولٹ بیورو کے کچھ ارکان ڈاکٹر رشید حسن خان، لطیف چوہدری، سہیل ہمایوں، محمود نواز بابر تھے اور لالہ رخ بھی اس گروپ سے وابستہ تھے۔ احفاظ الرحمن اس گروپ کے مخالف تھے۔ احفاظ کا خیال تھا جب کہ مہناز غلط کمپنی میں شامل ہوگئی تھیں۔ بقول مہناز یہ خیال زیادہ غلط بھی نہیں تھا۔ لالہ رخ نے پارٹی کی جانب سے مجھ سے پوچھا ’’کیا میں کسی اور شخص سے شادی کے لیے تیار ہوں؟‘‘ مگر میرا دل اب بھی احفاظ کے لیے دھڑکتا تھا۔ احفاظ اس علیحدگی کے باوجود میرے گھر کا چکر لگاتے رہتے تھے اور میرے والد سے دوستی کرلی تھی، یوں ایک دن دونوں میں صلح ہوگئی اور یہ جوڑا ایک نئے گھر میں منتقل ہوگیا۔
مہناز نے جنرل ضیاء الحق حکومت کے روزنامہ مساوات پر پابندی کے خلاف صحافیوں کی تحریک کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ اس دوران احفاظ زیرِ زمین رہ کر تحریک منظم کرتے رہے۔ مہناز کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر اس تحریک کے خاتمے پر احفاظ الرحمن اور مہناز نے طویل بے روزگاری کا ٹی۔ مہناز نے تفصیل سے پوری صورتحال کو بیان کیا۔ احفاظ کو چین میں ملازمت مل گئی۔
مہناز اور بچے بھی احفاظ کے ساتھ بیجنگ چلے گئے۔ مہناز کی چین میں موجودگی میں چین میں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ بیجنگ میں 3 جون 1989 کو طلبہ نے Tiananmen Square میں اپنے مطالبات کے لیے دھرنا دیا۔ فوج نے طلبہ کا احتجاج کچل دیا ۔ مہناز نے اپنے فلیٹ سے گولیوں اور ایمبولینسوں کے سائرن کی آوازیں سنیں۔ مہناز نے اپنے چین کے واقعات کا مختصر جائزہ لیا ہے۔ انھیں چین کے بارے میں بھی ایک کتاب تحریرکرنی چاہیے۔ مہناز نے بہت جرات سے اپنی زندگی کو اس کتاب میں پیش کیا ہے۔ اس آرٹیکل میں کتاب کا بہت مختصر جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے والے مصنف کے سحر میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔