معیشت،سیکیورٹی،ترقی اور گورننس

عمومی طورپر جب ہم مسائل یا اس کے حل کا تجزیہ کرتے ہیں تو سیاسی تنہائی کے طور پر ان کا نتیجہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں


سلمان عابد October 08, 2026
[email protected]

عمومی طورپر جب ہم مسائل یا اس کے حل کا تجزیہ کرتے ہیں تو سیاسی تنہائی کے طور پر ان کا نتیجہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہم نہ تومسائل کا پائیدار حل تلاش کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور نہ ہی طے کردہ حل میں کوئی خاص گہرائی ہوتی ہے۔ہم ایک مسئلہ کے حل کو تلاش کرتے ہیں تو اس سے جڑے دوسرے مسئلہ میں بگاڑ پیدا کردیتے ہیں۔ مسائل کو حل کرتے ہوئے ہم مجموعی تعلق کو جوڑ کر دیکھنے کے عادی نہیں جومسائل پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔کچھ ماہرین سب سے زیادہ زور معیشت کی ترقی پر دیتے ہیں اور بہت سے لوگ تویہ منطق بھی دیتے ہیں کہ ہمیں سیاست اور جمہوریت سے جان چھڑالینی چاہیے۔

اسی طرح پاکستان کی حکومت اور ریاست انتہا پسندی،سیکیورٹی اور دہشت گردی کے معاملات کو بھی سیاسی معاملات سے یا سیاسی استحکام کے ساتھ جوڑ کر نہیں دیکھتے۔ ہماری سیاست ایک طرف اور دوسری طرف سیکیورٹی اور دہشت گردی سے جڑے مسائل ہیں۔ جب ملک میں سیکیورٹی اور دہشت گردی کے تناظر میں کاروباری طبقہ میں مجموعی سطح پر عدم اعتماد یا عدم تحفظ یا خوف کی کیفیت ہوگی تو وہاں کیسے کاروبار چلے گا اور کون داخلی و خارجی بنیادوں پر ملک میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرے گا۔اس وقت ملک میں جو معیشت چل رہی ہے وہ ادھار اور قرضے کی بنیاد پر ہے۔ہماری داخلی معیشت کا پہیہ ہم سے نہیں چل رہا اور ہم بیرونی قرضوں کی مدد سے نظام کو چلانے کی کوشش کررہے ہیں۔

ہمارا مسئلہ مجموعی طور پر غیر اقتصادی،غیر سیاسی ،غیر معاشی سمیت گورننس سے جڑے سنجیدہ مسائل ہیں۔جب ترقی کا بیانیہ ہی درست سمت میں نہ ہو اور سب ایک دوسرے کے ساتھ یا تو ٹکراو کی پالیسی کی بنیاد پر الجھے ہوئے ہوں یا سب کے مفادات میں اہم آہنگی نہ ہو تو نظام کا پہیہ کیسے چلے گا۔اسی طرح گورننس کے بحران کے تناظر میںہماری ادارہ جاتی ترقی سے جڑے مسائل،قانون اور آئین کی حکمرانی،نظام کی شفافیت، سیاست، جمہوریت ،شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کی بنیاد پر نظام چل سکتے ہیں۔

لیکن ہم ان مسائل کو نظر انداز یا ان کو غیر اہم سمجھ کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں جو ہمیں آگے کی طرف لے کر جانے کی بجائے پیچھے کی طرف دکھیل رہا ہے۔ہماری حکمران اشرافیہ بنیادی طور پر اصلاحات مخالف ہے اوروہ مضبوط اور شفاف یا جدید اصلاحات کو اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کے لیے بڑا خطرہ سمجھتی ہیں ۔سوال یہ ہی بنتا ہے کہ ہم جدید اصلاحات کے بغیر جدید ترقی کے نظام کی طرف بڑھ سکتے ہیں تو جواب نفی میں ملے گا۔

اس وقت پاکستان کے جو داخلی سیاسی، معاشی،سیکیورٹی،گورننس کے حالات ہیں کہ ہمارا حکومتی نظام سیاسی مہم جوئی اور سیاسی ایڈونچرز کا کھیل کھیلے۔ہماری حالت یہ ہے کہ ہم اہم مسائل کو نظرانداز کرکے ایک دوسرے سے سیاسی بنیادوں پر دست وگریبان ہیں اور خود کو دوسروں سے بالادست رکھنا چاہتے ہیں۔ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ملک میں جو بڑے پیمانے پر سیاسی انتشار یا سیاسی تقسیم کو کیسے کم کرنا ہے۔مسائل کی نوعیت داخلی معاملات تک محدود نہیں بلکہ علاقائی سطح پر بھارت اور افغانستان کے ساتھ جو کشیدگی ہے اس سے ہم نے کیسے نمٹنا ہے۔

ایک بات ہماری سیاسی اشرافیہ کو سمجھنی ہوگی کہ جب تک ہم ملک کے مجموعی مسائل کی درستگی نہیں کریں گے معیشت کسی بھی صورت بہتر نہیں ہوسکے۔آج جو ہمارے معاشی اعداد وشمار ہیں وہ اس ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں بالخصوص عوام کے تناظر میں جو سماجی ،معاشی خوراک کا بحران،غربت،صاف پانی کی کمی،تعلیم اور صحت کے اعداد وشمارسنگین مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں۔حال ہی میں بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں تسلسل کے ساتھ ہونے والی دہشت گردی اور ہمارے جوانوں کی شہادتیں بھی ایک بڑے مسئلہ کا طرف ہماری توجہ دلاتی ہیں۔ ٹی ٹی پی مسلسل ہماری داخلی سیاست میں ایک بڑاچیلنج بن گئی ہے اور اس مسئلہ کاحل افغانستان کی جانب سے ہمیں نہیں ملا رہا۔

پاکستان اس وقت داخلی سیاست کی جامع ترقی کے روڈمیپ سے محروم ہے۔جو کچھ مختلف شعبہ جات میں ہورہا ہے وہ محض ایک ردعمل سے جڑی سیاست اور پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ٹھوس بنیادوں پر پالیسیوں کا بننا اور ان میں گہرائی کی جھلک کا نظر آنا بس ایک خواب لگتا ہے۔بس یہ لگتا ہے کہ ہم ملک کے نظام کو ایڈہاک پالیسی اور موثر اصلاحات کے بغیر چلانے کی کوشش کررہے ہیں۔اسی طرح ترقی کے عمل میںہماری ایک بڑی مشکل شفافیت پر مبنی نظام کی کمی ہے،آپ جتنی اچھی پالیسیاں یا قوانین بنالیں اگر آپ نے اپنے نظام کے اندر سے میرٹ پالیسی پر عمل نہیں کرنا،کرپشن اور بدعنوانی کا خاتمہ نہیں کرنا یا اقرباپروری کی بنیاد پر فیصلوں سے نجات حاصل نہیں کرنی تو مجموعی قومی ترقی کا بیانیہ عملا پیچھے رہ جاتا ہے۔ہماری حکومتوں اور ریاست کے نظام نے ان مسائل کے خاتمہ پر کوئی توجہ نہیں دی بلکہ اب تو حالت یہ ہوگئی ہے کہ کرپشن ، افسرشاہی اور کاروبار کا جو باہمی گٹھ جوڑ بن گیا ہے۔

اس کے بعد بحران کا خاتمہ کیسے ممکن ہوگا، سمجھ میں نہیں آتا۔جب اعلیٰ سطح سے نظام کی ناکامی کی آوازیں سننے کو مل رہی ہیں اگرچہ ان کے پیچھے سیاسی وجوہات بھی ہیں۔مگر قومی سطح پر یہ بیانیہ مضبوط بنیادوںپر قائم نظر آتا ہے کہ ملک کا نظام درستگی کی بنیاد پر نہیں چل رہااور اس کی سمت بگڑی ہوئی ہے۔اس کے بعد آئین اور قانون کی بالادستی کے سوالات بھی پیچھے رہ جاتے ہیں،کیونکہ جب ہم آئین اور قانون کو پس پشت ڈال کر نظام کو چلانے کی کوشش کریں گے توحکمرانی کا نظام شخصی حکمرانی ہی کے تابع رہے گا۔اس وقت نظام کی جو حالت ہے وہ واقعی قابل رحم ہے اور اس میں سخت اصلاحات درکار ہیں۔لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہی ہے کہ اصلاحات کا یہ عمل کون کرے گا اور کیونکر کرے گا۔

ایسی اصلاحات جن کا براہ راست تعلق روزمرہ کے عوامی مفادات سے جڑا ہوا ہے، اس پر ہماری سیاست اور طاقت ور طبقات کی کوئی ترجیحات نہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ حکومت اور عوام کے درمیان لاتعلقی کا عمل ہے اور وہ بڑی اصلاحات کے بغیر ممکن نہیں۔بالخصوص اس وقت بنیادی ترجیحات میں بلوچستان اور خیبر پختون خواہ کے صوبے ہیں جہاں جو شورش موجود ہے اس کا علاج سیاسی،انتظامی اور سیکیورٹی کی بنیاد پر تلاش کرنا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں اورپارلیمنٹ سمیت ان کے قومی اور صوبائی ارکان مسائل کے حل کی بجائے مسائل میں اور زیادہ شدت پیدا کررہے ہیں۔ پارلیمنٹ کی عدم فعالیت اور پارلیمانی نظام کی بھی کمزوری ظاہر کرتی ہے کہ ہماری سیاست اور جمہوریت اپنے داخلی معاملات میں کہاں کھڑی ہے۔

ایک مسئلہ علاقائی سیاست کا ہے۔داخلی سیاست اسی صورت میں مضبوط ہوتی ہے جب ہم علاقائی سیاست کے ساتھ اپنے بہتر تعلقات کو مضبوط بنانے میں کامیاب ہوں۔علاقائی سیاست میں ہمیں علاقائی اور عالمی سطح پر ایک مضبوط اور موثر سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ یہ کام بھی جذباتیت کی بجائے ہوش مندی سے ہوناچاہیے کہ ہمیں سفارت کاری کے محاذ پر کیسے آگے بڑھنا ہے ۔بالخصوص افغانستان کو بنیاد بنا کر ایک مضبوط حکمت عملی ہماری داخلی حکمت عملی کے زمرے میں آتا ہے۔کیونکہ جس طرح سے افغانستان ہمارے لیے مسلسل مسائل پیدا کررہا ہے اس کا علاج اتفاق رائے کا تقاضا کرتا ہے۔

بالخصوص اس میں ہمیں چین،روس اور سعودی عرب سمیت ترکیہ اور قطر کی حمایت درکار ہے۔ہمیں اس چینل کو مزید طاقت دینی ہوگی اور اس کی بنیاد پر افغانستان سے معاملات کو درست کرنا ہوگا۔وگرنہ ہماری داخلی سیکیورٹی کے مسائل کم نہیں ہوں گے۔ اس عمل میں ہمیں عملی طورپر وفاقی اور صوبائی حکومتوں یا سیاسی جماعتوں کا کردار بھی واضح نظر آنا چاہیے۔ان مسائل کو کوئی بھی فریق تنہا نہیں لڑسکتااور سب کو مل کر اس جنگ میں اپنا حصہ بھی ڈالنا ہے۔