آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر نامعلوم حملہ؛ قطر کے قریب بھی جہاز نشانہ بن گیا

ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے جبکہ حوثیوں نے باب المندب میں سعودی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے


ویب ڈیسک October 08, 2026
آبنائے ہرمز میں سعودی آئل ٹینکر سدر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی—فائل فوٹو

آبنائے ہرمز میں ایک خام تیل بردار ٹینکر کو نامعلوم سمت سے آنے والے گولے سے نشانہ بنائے جانے کی اطلاع کے بعد خلیج میں تجارتی جہازوں کی سلامتی پر تشویش بڑھ گئی ہے۔

برطانوی بحری تجارتی آپریشنز ادارے کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک خام تیل بردار ٹینکر کو نامعلوم گولے سے نشانہ بنایا گیا۔ واقعے کی اطلاع تاخیر سے موصول ہوئی۔

اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم جہاز کو پہنچنے والے نقصان اور ممکنہ ماحولیاتی اثرات کا جائزہ تاحال سامنے نہیں آیا۔

اس سے قبل 7 اکتوبر کو قطر کے شمال میں مدینۃ الشمال سے تقریباً 94 کلومیٹر دور ایک کیمیائی ٹینکر پر متعدد گولے داغے گئے تھے۔

رائٹرز کے مطابق جہاز کا نام ایکرز تھا اور اس پر انٹیگوا و باربوڈا کا پرچم لگا ہوا تھا۔ عملے کے بعض افراد کو معمولی نوعیت کے زخم آئے۔ برطانوی ادارے نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ 

6 اکتوبر کو بھی ایک اور واقعے میں پاناما کے پرچم بردار آئل ٹینکر آن پیس کو نامعلوم گولے سے نشانہ بنایا گیا تھا جس سے انجن روم میں آگ لگی اور 12 افراد زخمی ہوئے جن میں 11 بھارتی شہری تھے۔

رائٹرز کے مطابق گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں ٹینکروں پر حملے جنگ شروع ہونے کے بعد کسی ایک ہفتے کے دوران سب سے زیادہ رہے۔

اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد بھی دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ 

منگل کے روز صرف 7 تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے جبکہ جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 125 بڑے تجارتی جہاز اس راستے سے گزرتے تھے۔

آبنائے ہرمز سے عالمی خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل ہوتی ہے اس لیے مسلسل حملوں نے عالمی توانائی رسد کے خدشات بھی بڑھا دیے ہیں۔