عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو کپڑے، دوائیاں دیں، باہر جا کر کہا کچھ نہیں دیا، لاہور ہائیکورٹ

عدالت نے سہولیات کے حوالے سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کارروائی 12 اکتوبر تک ملتوی کر دی


ویب ڈیسک October 09, 2026

لاہور ہائیکورٹ نے نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو جیل میں ادویات، کپڑوں سمیت دیگر سہولیات کے حوالے سے رپورٹ طلب کر لی۔

بانی پی ٹی آئی کی بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس عبہر گل خان نے علیمہ خان کے بیٹے شاہ ریز کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے وکیل رانا مدثر عمر پیش ہوئے۔

جسٹس عبہر گل نے ریمارکس دیے کہ آپ کو کپڑے بھی دیے اور دوائیاں بھی دیں لیکن باہر جا کر آپ نے کہا کچھ نہیں دیا۔

وکیل درخواست گزار رانا مدثر عمر نے بتایا کہ میں نے کہا کہ عدالتی حکم پر دیے۔ ہم نے نورین نیازی اور عظمیٰ کو دوائیاں، کپڑے سمیت دیگر بنیادی ضروریات فراہم کرنے کی متفرق درخواستیں کی ہیں۔ نورین نیازی کو بھی کتابیں اور ادویات سمیت بنیادی چیزیں دینے کا حکم دیا جائے۔

جسٹس عبہر گل نے استفسار کیا کہ جو چیزیں چاہیے وہ لکھ کر دیں۔ وکیل نے کہا کہ 19 دن گزر گئے ہیں لیکن دوائیاں اور کپڑے نہیں دیے گئے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ کو جو چیزیں چاہیے وہ باقاعدہ لکھ کر دیں، ہم جس چیز کا آرڈر کریں گے وہی جیل سے اندر جائیں گی۔

وکیل رانا مدثر نے استدعا کی کہ دوائیاں، کپڑے، کتابیں اور کھانے پینے کی اشیاء دینے کا حکم دیا جائے۔

جسٹس عبہر گل خان نے ریمارکس دیے کہ کھانے پینے کی چیزوں کی اجازت نہیں دے سکتے، آپ کی متفرق درخواستوں پر رپورٹ منگوا لیتے ہیں۔

وکیل رانا مدثر نے استدعا کی کہ گزارش ہے کہ مرکزی کیس جو نظر بندی سے متعلق وہ بھی سن لیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ پہلے دوائیاں کپڑے تو پہنچا دیں پھر یہ بھی سن لیں گے، اگر آپ نے مرکزی درخواست پر دلائل دینے ہیں تو پھر متفرق درخواستیں رہنے دیں۔ آپ سوچ لیں آپ نے کیا کرنا ہے؟

عدالت نے دلائل کے بعد علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کے خلاف درخواستوں پر کارروائی 12 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔