ٹرمپ کے بجائے جج کو نوبیل امن انعام؛ امریکا نے عالمی عدالت پر پابندیاں عائد کردیں

نوبیل کا امن انعام اس سال عالمی فوجداری عدالت کی افریقی نژاد خاتون جج ناوی پلے کے نام رہا


ویب ڈیسک October 09, 2026
جج کو نوبیل امن انعام ملنے کے چند گھنٹے بعد امریکا کی عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں (فوٹو؛ فائل)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سابق جج ناوی پلے کو نوبیل امن انعام ملنے کے چند گھنٹے بعد عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعے کو پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے عالمی فوجداری عدالت کو ایک بے قابو ادارہ قرار دیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ پابندیوں کا مقصد عدالت کے وسائل محدود کرکے اس کی کارروائیوں کو متاثر کرنا ہے۔ عدالت کو امریکی شہریوں کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اتحادی ممالک سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ عدالت کو لگام دیں بصورت دیگر پابندیوں میں مزید سختی کی جاسکتی ہے۔

امریکی پابندیاں عموماً امریکی کمپنیوں کو متعلقہ ادارے کے ساتھ کاروبار سے روکتی ہیں جس کے نتیجے میں بینکنگ، بیمہ اور سافٹ ویئر کی سہولتیں متاثر ہوسکتی ہیں۔

تاہم امریکی محکمہ خزانہ نے ان پابندیوں سے ٹیلی مواصلات، سافٹ ویئر، پنشن ادائیگیوں اور زیر حراست افراد سے متعلق بعض لین دین کے لیے استثنا بھی جاری کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی سی سی پر عائد ان پابندیوں کے تحت عدالت کو خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

عالمی فوجداری عدالت کی نائب پراسیکیوٹر نزہت شمیم خان نے امریکی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد بین الاقوامی قانون کی حکمرانی اور ایک آزاد عدالتی ادارے کے کام کو کمزور کرنا ہے۔

انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عالمی فوجداری عدالت میں تحقیقات اور مقدمات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اسے کسی دھونس دھمکی یا پابندیوں سے روکا نہیں جا سکتا۔

یاد رہے کہ امریکا طویل عرصے سے عالمی فوجداری عدالت کی مخالفت کرتا رہا ہے خصوصاً جب اسرائیلی وزیر اعظم اور وزرا کے وارنٹِ گرفتاری کے اجرا اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کے اقدامات سے متعلق تحقیقات پر سخت تنقید کی تھی۔

نوبیل کا امن انعام 2026 کے لیے آج جنوبی افریقی قانون دان ناوی پلے کے نام کا اعلان ہوا ہے جنھوں نے 2003 سے 2008 تک عالمی فوجداری عدالت کے اپیل چیمبر میں جج کے طور پر خدمات انجام دیں۔

انھیں امن اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے کوششوں پر 2026 کا نوبیل امن انعام دیا گیا تاہم ٹرمپ کے حامیوں کا اصرار تھا کہ نوبیل امن انعام صدر ٹرمپ کو ملنا چاہیے تھا جنھوں نے دنیا کی 7 جنگیں رکوائی ہیں۔

تاہم جب نوبیل کمیٹی نے امن انعام برائے 2026 کے لیے عالمی فوجداری عدالت کی جج کے نام کا اعلان کیا تو امریکیوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر خاتون جج کو امریکا مخالف قرار دیا جا رہا ہے۔