وزیراعلیٰ کے پی نے لانگ مارچ کا اگلا لائحہ عمل دے دیا، 11 اکتوبر کو صوابی پہنچنے کا اعلان

سہیل آفریدی نے شبقدر چوک ضلع چارسدہ میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کیا


ویب ڈیسک October 09, 2026
فوٹو: فائل

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کا اگلا لائحہ عمل دیتے ہوئے 11 اکتوبر کو صوابی پہنچنے کا اعلان کیا ہے جہاں ہزارہ ڈویژن کے لیے لائحہ دیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے شبقدر چوک ضلع چارسدہ میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے 11 اکتوبر کو پورے پاکستان کے عوام کو صوابی انٹرچینج پہنچنے کی دعوت دی اور کہا کہ 13 اکتوبر کو پشاور اور ملاکنڈ ڈویژن کے قافلے صوابی انٹرچینج پہنچیں گے اور  اسی روز ہزارہ ڈویژن کے لیے بھی لائحہ عمل دیا جائے گا، کوہاٹ ڈویژن کے قافلے بھی صوابی انٹرچینج پہنچیں گے جبکہ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کے قافلے سی پیک روٹ پر مارچ میں شامل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ حقیقی قیادت وہ ہوتی ہے جو عوام کی بہتری اور خوش حالی کے لیے کام کرے، بند کمروں میں فیصلے کرکے رجیم چینج آپریشن کے ذریعے پاکستان کی ترقی کا سفر روک دیا گیا، آج وہ سابقہ چار سالہ حکومتی کارکردگی اور رجیم چینج آپریشن کے اثرات عوام کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان میں غربت کی شرح 48 فیصد تک پہنچ چکی ہے، گورننس انڈیکس میں 120 ممالک میں پاکستان کا نمبر 109 ہے، جی ڈی پی گروتھ کم ہوکر 2.2 فیصد رہ گئی ہے اور مہنگائی کی شرح 80 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کو ناتجربہ کار کہنے والے یہ جان لیں کہ وہاں مہنگائی کی شرح صرف 16 فیصد ہے، رجیم چینج آپریشن کے بعد پاکستان کے تمام معاشی اشاریے منفی سمت میں جا رہے ہیں، عالمی دہشت گردی انڈیکس میں پاکستان دنیا میں سرفہرست آچکا ہے اور بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کے نتائج آج پاکستان بھگت رہا ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ 2004 سے 2026 تک پاکستان میں 14 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور 22 بڑے فوجی آپریشنز کیے گئے لیکن دہشت گردی ختم نہیں ہو رہی ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ پاکستان میں پہلا فوجی آپریشن 1970 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بلوچستان میں ہوا، اس وقت دعویٰ کیا گیا تھا کہ 6 ماہ میں امن بحال ہوجائے گا، ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی کتاب میں اس آپریشن کی ناکامی کی وجوہات بیان کی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان آپریشن کی ناکامی کی بنیادی وجہ سول انتظامیہ اور سول بیوروکریسی کے اختیارات اور مراعات پر قبضہ کرنا تھا، تمام وسائل فوج کے حوالے کردیے گئے اور مراعات و اختیارات بھی ایک ہی جگہ مرکوز کردیے گئے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان آپریشن کی ناکامی کے حوالے سے یہ ان کا ذاتی مؤقف نہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو کا مؤقف ہے، ذوالفقار علی بھٹو پیپلز پارٹی کے بانی تھے لیکن آج یہی جماعت خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے خواب دیکھ رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں دہشت گردوں سے جوڑنے والے یہ جان لیں کہ 1994 میں پیپلز پارٹی کے وزیر داخلہ نصیراللہ بابر نے دہشت گردوں کے لیے ’مائی بوائز‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی، مجاہد حسین کا تعلق نہ پی ٹی آئی سے ہے اور نہ ہی خیبرپختونخوا سے ہے، جنہوں نے اپنی کتاب ’پنجابی طالبان‘ میں پاکستان میں دہشت گردوں کے تربیتی مراکز کا ذکر کیا ہے، ان کے مطابق پاکستان میں 229 دہشت گرد کیمپ قائم کیے گئے، جن میں سے 219 پنجاب میں تھے جبکہ ان کیمپوں میں لاکھوں دہشت گردوں کو تربیت دی گئی، جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو اس وقت نہ پی ٹی آئی موجود تھی اور نہ ہی پی ٹی آئی کی حکومت تھی۔

وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ 1947 سے آج تک ملک سے مخلص لوگوں کو غداری کے سرٹیفکیٹ دیے جاتے رہے ہیں، کبھی باچا خان اور کبھی قائداعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو غدار قرار دیا گیا، اب جب ان لوگوں کی حقیقت سامنے آرہی ہے تو محب وطن شہریوں پر دہشت گردی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم بھی جانتے ہیں اور وہ بھی جانتے ہیں کہ اصل دہشت گرد کون ہیں، خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس اور فوج کے اہلکار روزانہ شہادتیں دے رہے ہیں، پاکستان کے عوام اور ہر ادارے سے تعلق رکھنے والے افراد پاکستان کے بیٹے ہیں، ہم ہر اس پالیسی کے باغی ہیں جو بے گناہوں کی جانیں لیتی اور ذاتی مفادات کے لیے کالا دھن پیدا کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پالیسی دینے کی بات کرتے ہیں تو ان کی بات پر کان نہیں دھرے جاتے، ورلڈ رول آف لا انڈیکس میں 143 ممالک میں پاکستان کا نمبر 130 ہے، رجیم چینج آپریشن اور سیاسی انتقام نے پاکستان میں قانون کی حکمرانی کو تباہ کردیا ہے، ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں اور روزانہ آئین و قانون کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں اور عدلیہ کو زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنوں حتیٰ کہ کم عمر بچوں کو بھی مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے، اگر امیر اور غریب کے لیے الگ الگ قوانین ہوں گے تو ملک اسی صورت حال سے دوچار ہوگا، آئین ایک سماجی معاہدہ ہے اور اس کی مسلسل بے حرمتی کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔

حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی کرپشن انڈیکس میں 186 ممالک میں پاکستان کا نمبر 136 ہے، یہ سب رجیم چینج آپریشن کے نتائج ہیں، ریجیم چینج آپریشن کے بعد آئی ایم ایف نے وفاقی حکومت کی جانب سے 5300 ارب روپے کی کرپشن کی نشان دہی کی ہے، وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کی 5 ہزار ارب روپے سے زائد کی مقروض ہے اور صوبے کو این ایف سی میں اس کا جائز حصہ نہیں دے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوجی آپریشنز سے تباہ ہونے والے گھروں کے لیے صرف چار لاکھ روپے کا اعلان کیا گیا جبکہ یہ معاوضہ بھی متاثرین کو ادا نہیں کیا گیا، حکمرانوں کو معلوم نہیں کہ متاثرہ خاندان خیموں میں اپنے بچوں کے ساتھ زندگی کیسے گزارتے ہیں، انہیں ڈرون حملوں اور فوجی آپریشنز کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کا احساس نہیں، اگر حکمران ایک دن متاثرہ خاندانوں کے ساتھ خیموں میں گزاریں تو انہیں عوام کی مشکلات کا اندازہ ہوگا۔

وزیراعلیٰ کے پی نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے پاس پاکستان میں بہترین اسلحہ اور جدید ہتھیار موجود ہیں، صوبائی پولیس میں کرپشن کی شرح سب سے کم ہے اور خیبرپختونخوا نے ڈیجیٹل گورننس میں ایوارڈ حاصل کیا ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ کرپٹ اور غدار قیادت کو پاکستان پر مسلط کرنے والوں کو حقائق یاد رکھنے چاہئیں، آج اقتدار میں موجود لوگوں نے اسمبلی کے فلور پر اپنے اداروں کے خلاف نعرے لگائے، ہم نے کبھی نہیں کہا کہ فوج نے ہماری ہڈیاں تک چبا لی ہیں لیکن آج مسلط کیے گئے حکمرانوں نے اسمبلی کے فلور پر ایسی باتیں کی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے کبھی عالمی میڈیا کو انٹرویو دے کر پاکستان کو کسی گندے کھیل کا حصہ قرار نہیں دیا، لیکن آج اقتدار میں موجود لوگوں نے ایسے بیانات دیے ہیں۔