اسلام آباد:
وزیراعظم شہاز شریف نے کہا ہے کہ اسلام آباد پر چڑھائی قابل قبول نہیں، دہشت گردی پرخاموشی ملک دشمنی کے مترادف ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہ یہ لوگ لانگ مارچ کے ذریعے اسلام آباد پر چڑھائی کرکے بھیانک یادوں کو تازہ کرنا چاہتے ہیں، یہ چاہتے ہیں ملک تباہی کی طرف دوبارہ چلا جائے، پانی سر سے اوپر جاچکا ہے، ابھی یا کبھی نہیں، یہ فیصلے کا وقت ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں فورسز کے جوانوں اور شہریوں کو دہشت گرد بے دردی سے شہید کررہے ہیں، افواج پاکستان دہشت گردوں کو چن چن کر جہنم رسید کررہی ہیں، افغانستان کو باور کرایا کہ ہم ہمسائے ہیں مگر انکو بات سمجھ نہیں آرہی اور وہ اغیار کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں، کے پی حکومت بجائے ان دہشت گردوں کو للکارنے کے بالکل خاموش ہے، وہ دہشت گردوں کیخلاف ایک لفظ نہیں بولتے، باقی لوگ نشانے پر ہیں مگر انکے جلوس نکلتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 10 سال میں کے پی میں دہشت گردی کیخلاف 800 ارب روپے دیے جاچکے ہیں، کیا آپ بار بار ملک کو لاچار اور تباہ کرنا چاہتے ہیں، ایسا نہیں ہوگا اور قانون اپنا راستہ اپنائے گا۔ مولانا فضل الرحمان نے خلوص کے ساتھ بات چیت میں اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب چین کی طرح پاکستان کا بااعتماد دوست ہے، سعودی عوام اور حکومت نے پاکستان کا ہمیشہ ساتھ دیا، ایران بھی ہمارا برادر اور ہمسایہ ملک ہے، ہمارا ایک ہی مقصد ہے کہ خطے میں امن قائم ہوا، باب المندب میں جو خونی کھیل کھیلا جارہا وہ قابل افسوس ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارا دفاعی معاہدہ ہے، حوثی جو کچھ کررہے ہیں وہ انتہائی قابل مذمت ہے، اس جارحیت کا کوئی جواز نہیں ہے، کون مسلمان ہے جو بیت اللہ کیلئے کٹ مر نہ جائے؟، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور پوری مضبوطی کے ساتھ کھڑا ہے، مکہ مکرمہ کی حرمت کی حفاظت پورے دنیا کے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے، ہماری خواہش ہے کہ یہ معاملہ امن و امان اور خوش اسلوبی سے حل ہوجائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ ہوچکا ہے، آئی ایم ایف 1.2 ارب ڈالر کی قسط رواں سال ہی موصول ہوجائے گی، امریکا میں آئی ایم ایف کے ایم ڈی سے ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے پاکستان کی معاشی اصلاحات کا اعتراف کیا اور کہا کہ آپ نے پاکستان کو تبدیل کردیا ہے، سیاسی اور ملٹری لیڈر شپ نے ملک کیلئے ملکر کام کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سربراہان مملکت نے ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کی جنگ بندی کی کوششوں کو سراہا، پاکستان آج بھی ثالثی کیلئے اپنا کردار پورے خلوص کے ساتھ ادا کررہا ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔