قواعد بننے تک وفاقی دارالحکومت میں غیرقانونی شیشہ کیفے بند کیے جائیں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

بچوں کو شیشہ پینے کی عادت ڈالی جا رہی ہے، کارروائی کے لیے جانے والے حکام کو داخلے سے روکا جاتا ہے، جسٹس سرفراز ڈوگر


ویب ڈیسک October 13, 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے غیر قانونی شیشہ کیفوں کے خلاف کیس میں ریمارکس دیے کہ جب تک شیشہ کیفوں سے متعلق قواعد و ضوابط نہیں بنتے، اسلام آباد میں شیشہ کیفے کھولنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

وفاقی دارالحکومت میں غیر قانونی شیشہ کیفوں کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو آج دوپہر 2 بجے طلب کرتے ہوئے ہدایت دی گئی کہ دونوں افسران بیانِ حلفی دیں کہ شہر میں کوئی غیر قانونی شیشہ کیفہ نہیں چلے گا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اسلام آباد میں غیر قانونی شیشہ کیفے کیسے کام کر رہے ہیں؟ کیا حکومت نے شیشہ کیفوں کو ضابطے میں لانے کے لیے کوئی قواعد بنائے ہیں؟ سرکاری وکیل نے بتایا کہ شیشہ کیفوں سے متعلق قواعد تیار کرکے حکومت کو بھجوا دیے گئے ہیں اور جلد ان کی منظوری متوقع ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ قواعد کی منظوری تک تمام شیشہ کیفے بند کیے جائیں۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پہلے بھی یہی کہا تھا، لیکن مؤقف اختیار کیا گیا کہ اس سے بہت سے افراد بے روزگار ہوجائیں گے۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا اس وقت چلنے والے شیشہ کیفے قواعد و ضوابط پر پورا اترتے ہیں؟

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے حکم کا غلط مطلب لیا گیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ چیف جسٹس نے شیشہ کیفے چلانے کی اجازت دے دی ہے، جو عدالت کی بدنامی کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکم کے ایک مخصوص پیراگراف کو اٹھا کر اجازت دینے کا تاثر دیا گیا، اسی لیے وکیل کو گزشتہ سماعت کا حکم پڑھنے کی ہدایت کی گئی تاکہ واضح ہو کہ عدالت نے کیا فیصلہ دیا تھا۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ قواعد بننے تک شیشہ پینے کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے؟ بچوں کو شیشہ پینے کی عادت ڈالی جا رہی ہے، جبکہ کارروائی کے لیے جانے والے حکام کو نجی ملکیت کا عذر پیش کرکے اندر داخل ہونے سے روکا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت قواعد نہیں بناتی تو متعلقہ ادارے اپنے ایس او پیز تیار کرلیں۔

پراسیکیوٹر جنرل نے اس موقع پر شیشہ کیفوں سے متعلق سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کیس کا حکم پڑھ کر سنایا اور بتایا کہ سپریم کورٹ نے شیشہ کیفوں پر پابندی عائد کی تھی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو دوسرے صوبوں سے غرض نہیں بلکہ اسلام آباد میں قانون پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر قواعد نہیں بنائے جاتے تو کیا غیر قانونی کام کی اجازت دے دی جائے؟

وکیل قیصر امام نے کہا کہ شیشہ کیفوں سے متعلق گزشتہ چھ سال سے عدالتی احکامات جاری ہو رہے ہیں۔ اگر عدالت کے حکم کو غلط رنگ دیا گیا تو اس پر وضاحت طلب کی جانی چاہیے۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ شیشہ کیفے پندرہ سے بیس روز بند رکھے جائیں تو اس دوران قواعد بنائے جا سکتے ہیں۔ ڈائریکٹر لیگل آئی جی آفس نے بھی کہا کہ اگر قانون موجود نہیں تو اس سرگرمی کو روکا جانا چاہیے، جبکہ پراسیکیوٹر جنرل نے عالمی ادارۂ صحت کی ہدایات کا حوالہ بھی دیا۔

دوسری جانب آئی جی اسلام آباد پولیس نے شیشہ کیفوں اور منشیات کے خلاف کیس میں اپنا جواب عدالت میں جمع کرا دیا۔ جواب میں پولیس پر غفلت اور فعال کردار ادا نہ کرنے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کارروائیوں کا ریکارڈ پیش کیا گیا ہے۔

پولیس رپورٹ کے مطابق یکم جنوری سے 15 جولائی 2026 تک خلاف ورزیوں پر 10 تھانوں میں 28 مقدمات درج کیے گئے اور پہلے مرحلے میں شیشہ نوشی اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی پر 119 ملزمان کو نامزد کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق 16 جولائی سے 7 ستمبر 2026 تک مزید 61 مقدمات درج کیے گئے، جبکہ عدالتی احکامات کے بعد 13 تھانوں کی حدود میں 163 ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔

آئی جی اسلام آباد کے جواب میں کہا گیا ہے کہ شیشہ کیفوں اور منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ 26 اپریل 2024 سے ’’نشہ اب نہیں‘‘ آگاہی مہم جاری ہے، جبکہ تعلیمی اداروں، ہاسٹلز، پارکوں اور بس اڈوں کے گرد انٹیلی جنس کی بنیاد پر گشت بڑھا دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسپیشل برانچ کو نئے اور پرانے شیشہ کیفوں سے متعلق معلومات جمع کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جبکہ نگرانی کے لیے تھانہ اور سب ڈویژن کی سطح پر خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ کمرشل مقامات کے سی سی ٹی وی کیمروں کو سیف سٹی نظام سے منسلک کیا جا رہا ہے اور شیشہ کیفوں کے خلاف کارروائی کے لیے خفیہ گاہکوں کی مدد سے آپریشن بھی کیے جا رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق شہری انفو ون ایپ اور دیگر ذرائع سے غیر قانونی شیشہ کیفوں کی اطلاع دے سکتے ہیں، جبکہ کارروائیوں کی مرکزی سطح پر نگرانی کی جا رہی ہے۔ آئی جی اسلام آباد نے عدالت سے استدعا کی کہ پولیس پر غفلت کے الزامات حقائق کے منافی ہیں، اس لیے درخواست نمٹا دی جائے۔

عدالت نے چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو دوپہر 2 بجے پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے قرار دیا کہ دونوں افسران کے بیانِ حلفی سامنے آنے کے بعد معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔