اسلام آباد:
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ میرا وجود تسلیم کرنے کو تیار نہیں تو میں انہیں کیسے مان لوں، سندھ اور پاکستان کے مسائل کا حل چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام میں ہے۔
پمز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں جو کچھ ہوا اس کے ذمہ دار وزیراعلیٰ کے پی ہیں، ملک اس طرح نہیں چلتے جیسے وہ چلانا چاہ رہے تھے۔ پی ٹی آئی کے دوستوں سے اب بھی کہتا ہوں کہ ریاست مخالف نہ ہوں، اختلافات اور اعتراضات اپنی جگہ لیکن ریاست کو تباہ نہیں کیا جاتا۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ دنیا چاند پر جا رہی ہے جبکہ کراچی میں کتے کے کاٹنے سے لوگ مر رہے ہیں۔ شہر کے 80 فیصد گھروں میں پینے کا پانی نہیں، ڈیفنس سے کچی آبادیوں تک پانی کا مسئلہ ہے، رات کو بجلی نہیں ہوتی اور صبح گیس نہیں ملتی۔ یونیورسٹی روڈ سات سال سے تباہ حال ہے جس کے باعث پانچ سے سات لاکھ افراد کا کاروبار متاثر ہوا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملک کا 70 فیصد ریونیو دینے والے شہر میں بچے گٹروں میں گر کر مر رہے ہیں، جبکہ 30 ہزار روپے کے موبائل فون کے لیے 18 سالہ نوجوان کو گولی مار دی جاتی ہے۔ کراچی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ نہیں آتی۔ اگر شہر کے مسائل حل ہوتے نظر آئیں تو صوبائی حکومت کی حمایت کروں گا۔
انہوں نے مردم شماری کے اعداد و شمار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی پاکستان کا واحد شہر ہے جس کی آبادی شمار کرنے کے لیے صوبائی حکومت تیار نہیں۔ 2017 کی مردم شماری میں کراچی کی آبادی ایک کروڑ 60 لاکھ درج کی گئی، جبکہ 2023 کی مردم شماری میں یہ تعداد ایک کروڑ 30 لاکھ بتائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وفاق نے نوٹس لیا اور مردم شماری میں چار مرتبہ توسیع دی گئی، جس کے بعد کراچی کی آبادی میں مزید 73 لاکھ افراد سامنے آئے۔ ان کے مطابق کاغذوں میں کراچی کی آبادی دو کروڑ تین لاکھ ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی اور سندھ کے مسائل کا حل چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام ہے۔ موجودہ نظام میں وسائل عوام تک نہیں پہنچ رہے۔ قابلِ تقسیم محاصل میں سے 57.5 فیصد صوبوں کو دیا جاتا ہے اور رواں سال صوبوں کو 8 ہزار 884 ارب روپے فراہم کیے گئے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سندھ کو 17 سال میں 22 ہزار ارب روپے ملے، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ وسائل عوام تک کیوں نہیں پہنچ رہے؟ ان فنڈز سے سندھ کو 50 مرتبہ تعمیر کیا جا سکتا تھا۔ اندرون سندھ خواتین پانی کے حصول کے لیے 12، 12 کلومیٹر سفر کرتی ہیں اور انہیں کتوں کے پانی پینے کی جگہوں سے پانی بھرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں چھوٹے انتظامی یونٹس بنائے جائیں تاکہ وسائل عوام تک پہنچ سکیں۔ پولی کلینک ٹو ایک سال میں مکمل ہو جائے گا، جہاں فائر سیفٹی سمیت دیگر ضروری اقدامات بھی کیے جائیں گے۔