کراچی:
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی کے لیے 100 کلومیٹر طویل کے فور پائپ لائن کی تعمیر پر جلد کام شروع کرنے کی ہدایت کر دی، چینی کمپنی نے منصوبے پر آمادگی ظاہر کر دی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ووہان کے علاقے ہانیانگ میں واقع ایچ بی ایس زیڈ کمپنی کے دورے کے دوران کے فور پائپ لائن منصوبے پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے سکھر بیراج کی بحالی اور جدید کاری کے لیے تیار کیے جانے والے دروازوں کا بھی معائنہ کیا۔
حکام کے مطابق چینی کمپنی نے 100 کلومیٹر طویل پائپ لائن کی تعمیر پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ نے منصوبے پر جلد از جلد کام شروع کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ سندھ کو سکھر بیراج کی بحالی کے منصوبے پر پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی۔ یہ منصوبہ چائنا روڈ اینڈ برج کارپوریشن اور ایچ بی ایس زیڈ کے مشترکہ تعاون سے جاری ہے۔
حکام کے مطابق سکھر بیراج کے دریائی پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے والے 54 دروازوں میں سے 44 اور ان کے آپریٹنگ سسٹم تبدیل کرکے فعال کر دیے گئے ہیں، جبکہ متعلقہ مقامات پر تعمیراتی مرمت کا کام بھی مکمل ہو چکا ہے۔ باقی 10 دروازے تیار کر لیے گئے ہیں اور انہیں جلد چین سے پاکستان منتقل کیا جائے گا۔ چینی حکام کے مطابق ان دروازوں میں سے ہر ایک کا وزن 50 ٹن سے زیادہ ہے۔
ایچ بی ایس زیڈ سکھر بیراج کے لیے 110 نہری دروازے بھی تیار کر رہی ہے۔ حکام نے بتایا کہ 2026 میں بیراج کی بندش کے دوران 27 نہری دروازوں کے سول ورکس اور اندرونی حصوں کی مرمت مکمل کی گئی، جبکہ پانی کی سطح ناپنے کے لیے چھ گیج ویلز تعمیر کرکے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیے گئے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ بیراج کے تمام علاقوں میں ڈریجنگ اور کھدائی کا کام مکمل ہو چکا ہے، تاہم ٹیل چینل میں کام باقی ہے، جو اگلے ورکنگ سیزن کے دوران کیا جائے گا۔ دروازے تیار کرنے والی ورکشاپ کی عمارت بھی مکمل کر لی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سکھر بیراج ان کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے اور یہ سندھ کی معاشی شہ رگ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 90 سال بعد بیراج کی باقاعدہ بحالی سے پانی کے بہاؤ میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
سکھر بیراج کی بحالی کا منصوبہ 24 فروری 2023 کو شروع کیا گیا تھا اور اسے 30 جون 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ منصوبے کے لیے عالمی بینک، وفاقی حکومت اور سندھ حکومت مالی معاونت فراہم کر رہے ہیں، جبکہ سندھ بیراجز امپرومینٹ پروجیکٹ کے تحت گڈو بیراج کی بحالی کا کام بھی جاری ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے چینی کمپنیوں کو سندھ کے آبی وسائل، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے والی فصلوں کی اقسام تیار کرنے میں تعاون کی خواہش کا اظہار کیا۔