پاک بھارت کشیدگی اور علاقائی استحکام

جنوبی ایشیا کی غربت اور پسماندگی کی وجہ یہاں موجود تنازعات ہیں ۔۔۔


Editorial August 30, 2014
جنوبی ایشیا کی غربت اور پسماندگی کی وجہ یہاں موجود تنازعات ہیں۔ فوٹو: فائل

پاک بھارت سرحدوں پر کشیدگی ختم نہ ہو سکی۔ دونوں ممالک کے درمیان فلیگ میٹنگ کے چند گھنٹوں بعد ہی بھارتی فورسز نے جمعرات کو پاکستانی سرحدی علاقوں پر پھر بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کر دی۔ اطلاعات کے مطابق ورکنگ باونڈری پر بجوات اور سچیت گڑھ سیکٹرز پر بھارتی گولہ باری اور فائرنگ سے متعدد مکانوں کو جزوی نقصان پہنچا۔

اخباری اطلاعات کے مطابق ورکنگ بائونڈری پر چناب رینجرز کے جوانوں نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی سیکیورٹی فورس کو خاموش رہنے پر مجبور کر دیا۔ پاک بھارت سرحدی کشیدگی کوئی نئی بات نہیں' بھارتی فورسز اکثر و بیشتر بلا جواز فائرنگ کا سلسلہ شروع کر دیتی ہیں جو بعض اوقات کئی دنوں تک جاری رہتا ہے۔ آئی ایس پی آر کے ترجمان کے مطابق پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے منگل کو ہاٹ لائن پر رابطہ کیا دونوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر پائی جانے والی کشیدگی کم کی جائے۔

پاکستان نے ہمیشہ بھارت پر یہ واضح کیا ہے کہ وہ سرحدوں پر کسی قسم کی کشیدگی نہیں چاہتا اور خطے میں امن و امان کا خواہاں ہے لیکن بھارت نے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کی ہر کوشش کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیام امن کی کوشش بار آور نہیں ہو سکیں۔ حیران کن امر ہے کہ جب بھی پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے لیے مذاکرات کی بات کی جاتی ہے سرحدوں پر بھارتی فورسز کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور ماحول کو کشیدہ کر دیا جاتا ہے۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی جب سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ سے امریکا میں ملاقات ہوئی تو بھی اس موقع پر بھارتی سیکیورٹی فورسز نے سرحدوں پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ شروع کرکے ماحول کشیدہ کر دیا تھا۔ گزشتہ کئی دنوں سے بھارتی سیکیورٹی فورسز پاکستانی علاقوں پر اندھا دھند فائرنگ اور گولہ باری کررہی ہیں۔ منگل کو یو این او کے ایک خصوصی وفد نے سیالکوٹ کے تمام سیکٹروں جن میں چارواہ سیکٹر' ہرپال سیکٹر' بجوات سیکٹر' معراج کے سیکٹر سمیت سرحدی علاقوں میں بھارتی گولہ باری اور فائرنگ سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا۔

بھارتی فورسز کے جنگی جنون میں کوئی کمی دکھائی نہیں دے رہی اور اس وہ بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی سرحدی دیہات کے شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ پاک بھارت سرحدی کشیدگی کم کرنے کے لیے 27 اگست کو رینجرز اور بھارتی سیکیورٹی فورسز کے درمیان پہلی فلیگ میٹنگ ہوئی مگر بھارتی فورسز نے فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ پھر شروع کر دیا ہے جس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ بھارت سرحدی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کسی بھی طور پر تیار نہیں۔یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر بھارتی حکومت پاکستان سے بہتر تعلقات قائم کرنے کی خواہاں کیوں نہیں۔

پاکستانی حکومت بارہا اس عزم کا اعادہ کر چکی ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کی خاطر باہمی تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے لیکن بھارتی حکومت نے کبھی مثبت جواب نہیں دیا بلکہ اس نے ایسے اقدامات کیے جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہی ہوا ۔گزشتہ دنوں پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازعات کے حل کے لیے لاہور میں ہونے والے پاک بھارت انڈس واٹر کمشنر مذاکرات بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث ناکام ہو گئے۔

بھارت پاکستان کے لیے پانی کے مسائل پیدا کر کے اپنی دشمنی کا بھرپور اظہار کر رہا ہے دوسری جانب مسئلہ کشمیر جو پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ کی ایک بڑی وجہ ہے اسے بھی وہ حل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ کشمیر کا تصفیہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت سے طے ہونا چاہیے مگر بھارتی حکومت نے وہاں اپنے ساڑھے چھ لاکھ فوجی تعینات کر کے کشمیریوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ اب مودی سرکار بھارتی آئین میں ترمیم کر کے مقبوضہ کشمیر کو اپنے صوبہ کا درجہ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی نے جمعرات کو ایک قرارداد کثرت رائے سے منظور کی ہے جس میں بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی ختم کرنے اور مذاکراتی عمل بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر اسمبلی کی قرارداد اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ وہاں کے لوگ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے جنگ کے بجائے امن اور مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہتے ہیں۔ بھارتی حکومت نے جب بھی مذاکرات کا عمل شروع کیا اس نے کوئی نہ کوئی بہانہ گھڑ کر مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔

مودی سرکار آنے کے بعد بھارت میں پاکستان کے خلاف تعصب اور انتہا پسندی میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے' اخباری خبر کے مطابق جمعرات کو موہالی میں مسلح انتہا پسند ہندوئوں نے سوامی پرمانند کالج میں زیر تعلیم 12 کشمیری طالب علموں کو اس وقت تشدد کا نشانہ بنا کر زخمی کر دیا جب وہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کرکٹ میچ دیکھ رہے تھے۔ بھارتی حکومت کو بھی اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات ہیں کیونکہ دونوں ملک ایٹمی اور مہلک ہتھیاروں سے لیس ہیں اس لیے جنگ کی صورت میں جو تباہی پھیلے گی اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

جب بھارتی حکومت کو یہ بخوبی معلوم ہے کہ وہ پاکستان کو جنگ کے ذریعے فتح نہیں کر سکتی تو پھر اسے مذاکرات کا راستہ اپنانے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ گزشتہ دنوں چین نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی، چین کا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں یکطرفہ طور پر کچھ نہیں کر سکتا۔ یہ پیشکش اس امر کی عکاس ہے کہ چین چاہتا ہے خطے میں بہتری کے لیے پاکستان اور بھارت کشمیر کا تنازعہ باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ اب اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ گزشتہ 67 سال سے معلق اس تنازعے کو فی الفور حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

جنوبی ایشیا کی غربت اور پسماندگی کی وجہ یہاں موجود تنازعات ہیں۔ اگر یہ تنازعات خوش اسلوبی سے طے ہو جاتے ہیں تو یہ خطہ تیزی سے ترقی کرنے والے خطوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا کو امن و استحکام دینے کی ذمے داری جہاں عالمی برادری پر عائد ہوتی ہے' وہاں بھارت پر بھی عائد ہوتی ہے۔ اس خطے میں بھارت ایک ایسا ملک ہے جس کے اس خطے کے تمام ممالک سے تنازعات ہیں۔

پاکستان کے ساتھ اس کا تنازعہ تو اس قدر گہرا ہے کہ دونوں ملکوں میں کئی جنگیں ہو چکی ہیں جب کہ بنگلہ دیش' سری لنکا اور نیپال بھی بھارتی پالیسی سے خوش نہیں ہیں' اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں قیام امن کے لیے بھارت کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے' اگر بھارتی قیادت سنجیدگی سے کوشش کرے تو مسئلہ کشمیر بھی حل ہو سکتا ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں موجود دیگر تنازعات بھی ختم ہو سکتے ہیں۔