ٹیرف پالیسی میں درآمدی محصولات کے اعدادوشمار پر سوالات

اضافی کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی کو بھی شامل کیا گیا، صنعتکار عامراللہ والا


شہباز رانا October 15, 2026

اسلام آباد:

حکومت کی قومی ٹیرف پالیسی میں پاکستان کے درآمدی محصولات کے اعدادوشمار اور جنوبی ایشیاکے دیگر ممالک سے ان کے موازنے پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

صنعتکار عامر اللہ والا نے الزام عائدکیا ہے کہ پالیسی میں پاکستان کے ٹیرف کی شرح 18۔54 فیصد ظاہرکرنے کیلیے اضافی کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی کو بھی شامل کیاگیا، جبکہ بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر علاقائی ممالک کیلیے صرف کسٹمز ڈیوٹی کے اعدادوشمار استعمال کیے گئے۔

پاکستان سوسائٹی آف ڈیولپمنٹ اکانومسٹس کی 39ویں بین الاقوامی کانفرنس اور سالانہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے عامر اللہ والا ٰ نے کہاکہ عالمی تجارتی تنظیم کے اعدادوشمارکے مطابق 2023 میں پاکستان کی سادہ اوسط لاگو کسٹمز ٹیرف کی شرح 10۔3 فیصد تھی، جو بھارت کی 17فیصداور بنگلہ دیش کی 14۔1 فیصد شرح سے کم ہے۔

ان کے مطابق مختلف نوعیت کے محصولات کو صرف پاکستان کے اعدادوشمار میں شامل کرکے علاقائی موازنہ غیر مساوی بنیادوں پرکیاگیا۔عامر علویٰ کاکہنا تھاکہ قومی ٹیرف پالیسی کی بنیادی دلیل، یعنی پاکستان میں جنوبی ایشیاکے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ درآمدی محصولات ہونے کا دعویٰ، یکساں پیمانے پر مبنی نہیں۔

ان کے مطابق عالمی تجارتی تنظیم کے اعدادوشمار میں پاکستان کی سادہ اوسط ٹیرف شرح 10۔3 فیصدہے، جبکہ پالیسی میں اضافی کسٹمزڈیوٹی کی 3۔65 فیصداور ریگولیٹری ڈیوٹی کی 4۔57 فیصدشرح شامل کرکے مجموعی شرح 18۔54 فیصدظاہرکی گئی۔

انہوں نے کہاکہ بنگلہ دیش میں ریگولیٹری اور ضمنی ڈیوٹیاں،سری لنکا میں بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی ترقیاتی لیوی سمیت دیگر محصولات،جبکہ ترکی میں اضافی کسٹمز ڈیوٹیاں اور مالی واجبات بھی عائدہیں،اگر ان محصولات کو پاکستان کے ساتھ موازنے میں شامل کیاجائے تو تمام ممالک کیلیے یکساں طریقہ کار اپناناضروری ہے۔

وزارتِ تجارت کے ترجمان نے وضاحت کی کہ 18۔54 فیصدکی شرح پاکستان کے مجموعی اوسط درآمدی محصولات کی نمائندگی کرتی ہے،جس میں 10۔3 فیصدکسٹمز ڈیوٹی، 3۔65 فیصداضافی کسٹمز ڈیوٹی اور 4۔57 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی شامل ہیں۔

ترجمان کے مطابق عالمی تجارتی تنظیم اپنی ٹیرف پروفائل رپورٹس میں سادہ اوسط ٹیرف کے حساب میں پیراٹیرف شامل نہیں کرتی، تاہم اس اصطلاح کی تعریف اور اطلاق کے حوالے سے مختلف فہم پائے جاتے ہیں۔

قومی ٹیرف پالیسی کی تیاری میں شامل سابق چیئرپرسن نیشنل ٹیرف کمیشن ڈاکٹرروبینہ اطہر نے کہاکہ پاکستان اوردیگر ممالک کے محصولات کی تعریف یکساں نہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کے 18۔5 فیصد ٹیرف میں سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس جیسے درآمدی مرحلے کے دیگر ٹیکس شامل نہیں کیے گئے۔

ٹیرف پالیسی بورڈکے رکن ڈاکٹر منظور احمد نے بھی کہاکہ عامر علویٰ اورڈاکٹرروبینہ اطہرکے بیان کردہ اعدادوشمار اپنے اپنے تناظر میں درست ہیں۔قومی ٹیرف پالیسی کے تحت پاکستان نے درآمدی محصولات کی شرح 20۔1 فیصدسے کم کرکے 2030 تک 9۔7 فیصد تک لانے کاہدف مقررکیاہے،جس کامقصددرآمدی تحفظ میں تقریباً 52 فیصدکمی کرناہے، تاہم منصوبے پر صنعتی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

عامر علویٰ نے مؤقف اختیارکیاکہ پاکستان کی برآمدات میں کمی کی بنیادی وجہ صرف بلنددرآمدی ٹیرف نہیں، بلکہ جغرافیائی و سلامتی کی صورتحال، افریقی، وسطی ایشیائی اور جنوبی امریکی منڈیوں تک محدود تجارتی رسائی، مہنگی بجلی، بلند شرح سود اور خطے میں زیادہ ٹیکسوں جیسے عوامل بھی ہیں۔

وزارتِ تجارت کاکہناہے کہ ٹیرف کے تعین میں عالمی تجارتی تنظیم متعلقہ ممالک کی فراہم کردہ معلومات استعمال کرتی ہے۔