فلاح انسانیت کے راہ نما اصول

’’اور جو کچھ بھی تم راہِ خدا میں خرچ کرتے ہو تو اﷲ تعالیٰ تمھیں اُس کا بدلہ عطا فرمائیں گے اور وہ بہترین روزی دینے والے ہیں۔‘‘


ڈاکٹر امجد حسین October 16, 2026

زندگی کے نشیب و فراز میں انسان کو ہر روز کسی نہ کسی آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے۔ کبھی رزق کی تنگی سامنے آتی ہے، کبھی کسی کے ظلم و زیادتی کا سامنا ہوتا ہے، اور کبھی حالات انسان کو لوگوں کے سامنے محتاج بنا دیتے ہیں۔ ایسے موقع پر اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ ایک مومن اپنے معاملات کو کس بنیاد پر سنوارے؟

وہ کون سی راہ ہے جو انسان کو دنیا میں بھی عزت اور اطمینان دے اور آخرت میں بھی کام یابی کا ذریعہ بنے؟

اسی راہ نمائی کے لیے رسولِ رحمتﷺ نے ہمیں وہ اصول عطا فرمائے ہیں جو نہ صرف ایمان کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ زندگی کو باوقار اور پُرسکون بناتے ہیں۔ آج کی اس نشست میں ہم ایک نہایت جامع حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں تین ایسی بنیادی ہدایات سمجھنے کی کوشش کریں گے جن پر نبی کریم ﷺ نے قسم کھائی ہے:

صدقہ، صبر، اور اﷲ سے امید: یہ تینوں وہ اعمال ہیں جو انسان کے رزق میں برکت، عزت میں اضافہ اور دل میں بے نیازی پیدا کرتے ہیں۔

حضرت ابوکبشہ انماریؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اﷲ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، مفہوم:

’’تین باتیں ایسی ہیں جن پر میں قسم کھاتا ہوں:

(1)  صدقہ دینے سے کسی بندے کے مال میں کمی نہیں ہوتی۔

(2) کسی بندے پر ظلم کیا جائے اور وہ اس پر صبر کرے تو اﷲ تعالیٰ اس کی عزت بڑھا دیتے ہیں۔

(3) جو بندہ لوگوں سے مانگنے کا دروازہ کھولتا ہے، اﷲ تعالیٰ اس پر فقر کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔‘‘

اُن میں سے پہلی بات یہ ہے کہ صدقہ دینے سے کسی آدمی کے مال میں کمی نہیں آتی۔ عام طور پر شیطان وسوسہ ڈالتا ہے کہ اگر صدقہ دے دیا تو:

٭ تمہارے مال میں کمی آ جائے گی۔

٭ تمہاری ضرورتیں رک جائیں گی۔

لیکن رسول کریم ﷺ قسم کھا کر فرما رہے ہیں کہ صدقہ دینے سے مال میں کمی نہیں آتی۔ یعنی اگر تم یتیموں، بیواؤں، محتاجوں اور نادار طلبہ پر خرچ کرو گے تو اِس سے تمہارا مال گھٹے گا نہیں بلکہ اور بڑھے گا اور بہ ظاہر جو روپیہ پیسا میں کمی محسوس ہوگی تو اﷲ کی عطا کردہ برکت سے بہت جلد اُس کی تلافی ہو جائے گی اور خرچ سے کہیں زیادہ اﷲ تعالیٰ نعم البدل عطا فرمائیں گے۔

قرآنِ کریم میں اﷲ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد گرامی کا مفہوم:

’’اور جو کچھ بھی تم راہِ خدا میں خرچ کرتے ہو تو اﷲ تعالیٰ تمھیں اُس کا بدلہ عطا فرمائیں گے اور وہ بہترین روزی دینے والے ہیں۔‘‘ (سبأ)

ایک عبرت آموز واقعہ:

اس بات کی تائید صحیح روایت میں ذکر کردہ ایک واقعہ سے ہوتی ہے۔

نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایک آدمی جنگل میں چلا جا رہا تھا، اچانک اُسے بادلوں کے اندر سے ایک آواز سنائی دی:

’’فلاں آدمی کے باغیچے کو سیراب کرو۔‘‘

تو اُس نے دیکھا کہ بادل کا ایک ٹکڑا الگ ہوا اور ایک پتھریلے میدان میں جا کر برس پڑا، پھر وہاں سے وہ پانی ایک بڑے نالے میں جمع ہو کر آگے بہنے لگا۔ یہ شخص پانی کے پیچھے چلا، کچھ دور پہنچ کر دیکھا کہ ایک باغیچہ ہے، اس میں ایک آدمی پھاوڑا لیے کھڑا ہے اور پانی کی نالیاں بنا کر باغ کو سیراب کر رہا ہے۔ اُس نے حیرت سے اُس آدمی کا نام پوچھا تو اُس نے وہی نام بتایا جو اس نے بادل کی آواز میں سنا تھا۔ باغ والے نے پوچھا:

اﷲ کے بندے! تم ہمارا نام کیوں پوچھ رہے ہو؟

تو اُس نے بادل سے آنے والی آواز اور بارش کا پورا قصہ سنایا، پھر پوچھا:

 تم اس باغیچے میں کیا عمل کرتے ہو؟

تو اُس باغ والے نے جواب دیا:

میں باغیچے کی کل آمدنی کو تین حصوں میں بانٹ لیتا ہوں: تہائی حصہ مسکینوں اور مسافروں پر صدقہ کر دیتا ہوں، تہائی سے اپنے گھر بار کا خرچ چلاتا ہوں اور بقیہ تہائی رقم دوبارہ باغ کی دیکھ ریکھ میں لگا دیتا ہوں۔(صحیح مسلم)

یہ تو صدقہ کی وجہ سے مال میں برکت کی محض ایک مثال ہے، ورنہ اﷲ تبارک و تعالیٰ کے لیے بخشش و عطا کے ہزاروں راستے ہیں جس کا ہر شخص تجربہ کر سکتا ہے۔ تجربہ شاہد ہے کہ جو شخص جتنا زیادہ صدقہ خیرات کرتا ہے اتنا ہی اُس کے مال اور کاروبار میں برکت ہوتی ہے۔

قرآنِ پاک میں اﷲ تعالیٰ کے ارشاد کا مفہوم:

’’اﷲ تعالیٰ سود (اور حرام مال) کو مٹا دیتے ہیں لیکن صدقات کے مال میں اضافہ فرماتے ہیں۔‘‘

اس لیے ہر آدمی کو اپنی حیثیت کے مطابق صدقے کا اہتمام کرنا چاہیے، کیوں کہ یہ بڑی خیر و برکت کا سبب ہے۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائیں، آمین۔

ظلم پر صبر کا نتیجا:

اور دوسری بات آپ ﷺ نے قسم کھا کر ارشاد فرمائی، مفہوم:

 ’’جس آدمی پر ظلم کیا جائے پھر وہ اُس پر صبر کرے (انتقام نہ لے) تو اﷲ تعالیٰ یقیناً اس کی عزت میں اضافہ فرمائیں گے۔‘‘

ایسے موقعوں پر شیطان یہی پٹی پڑھاتا ہے کہ خاموش مت بیٹھو بلکہ ڈٹ کر جواب دو اور اینٹ کا جواب پتھر سے دو، لیکن پیارے آقا ﷺ فرما رہے ہیں کہ کامل عزت تب ملے گی جب تم عفو و درگزر اور صبر سے کام لو گے، گویا غصے کو پی جاؤ گے اور انتقام کو چھوڑ دو گے، تو اﷲ تبارک و تعالیٰ تمھیں ضرور عزت عطا فرمائیں گے۔

انتقام لینے سے عزت نہیں بڑھتی بلکہ معاف کرنے سے عزت بڑھتی ہے۔ دنیا کا تجربہ ہے کہ انتقام سے نفرت و عداوت کی آگ مزید بھڑک جاتی ہے اور نسل در نسل ایک دوسرے سے انتقام کا تسلسل جاری رہتا ہے، جس کی وجہ سے دنیا کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ اس کے برخلاف عفو و درگزر سے نفرتیں محبت میں بدلتی ہیں اور بڑے بڑے فساد دیکھتے ہی دیکھتے دم توڑ جاتے ہیں۔ لہٰذا عقل مندی کا تقاضا یہی ہے کہ دنیا کی چند روزہ زندگی لڑ جھگڑ کر گزارنے کے بہ جائے پیار و محبت سے گزاری جائے۔

ہمیں رحمتِ عالم ﷺ کا فتحِ مکہ کے موقع پر روشن کردار سامنے رکھنا چاہیے کہ مکہ کے وہ لوگ جو آپ ﷺ کے جانیں دشمن تھے اور جنھوں نے آپ ﷺ کو دکھ و تکالیف دینے اور ستانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، جن کی وجہ سے آپ ﷺ کو مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کرنی پڑی، پھر مکہ کے لوگوں نے مدینہ منورہ میں بھی آپ ﷺ کو نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس کے باوجود آپ ﷺ کا عظیم کردار یہ تھا کہ فتحِ مکہ کے موقع پر جب آپ ﷺ شہر میں داخل ہو رہے تھے تو سر مبارک شکرِ خداوندی میں جھکا ہوا تھا اور آپ ﷺ کی جانب سے انتقام اور بدلہ لینے کے بہ جائے یہ خوش گوار اعلانات ہو رہے تھے:

٭جو حرم میں آ جائے وہ امن میں ہے۔

٭جو ابوسفیانؓ کے گھر آ جائے وہ امن میں ہے۔

٭حتیٰ کہ جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے اور لڑائی چھوڑ دے وہ بھی امن میں ہے۔

٭ال غرض ہر طرف امن امن کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔ (صحیح مسلم)

آپ ﷺ کے اس حکیمانہ اور رحمت سے بھرپور طرزِ عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو لوگ جانیں دشمن تھے وہ بالآخر جگری دوست بن گئے اور جو ایک دوسرے کی صورتوں سے متنفر تھے اﷲ تعالیٰ نے اُن کے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت ڈال دی، جس سے پورے معاشرے کی عزت میں بے مثال اضافہ ہوا، فالحمد ﷲ علی ذلک۔

اس لیے آج ہمیں اپنے چھوٹے موٹے ذاتی نوعیت کے اختلافات کو بڑھنے نہیں دینا چاہیے بلکہ جلد از جلد اُن کو ختم کرنے کی کوشش ہونی چاہیے، اس سے آپس میں محبت بھی بڑھے گی اور عزت میں بھی اضافہ ہوگا، ان شاء اﷲ تعالیٰ۔

اُس کے بعد آپ ﷺ نے قسم کھا کر تیسری بات ارشاد فرمائی، مفہوم:

’’جو شخص اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اُس کے لیے فقر و فاقہ کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔‘‘

یعنی جو شخص خالق سے منہ موڑ کر ساری امیدیں مخلوق سے وابستہ کر لیتا ہے تو اُس کی ضرورتیں کبھی پوری نہیں ہوتیں اور وہ ہمیشہ تنگی کی زندگی بسر کرتا ہے۔ اس کے برخلاف جو شخص مخلوق کے بہ جائے اﷲ تبارک و تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اُسی سے امید رکھے تو دیر سویر اُس کے لیے فتوحات کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اﷲ تبارک و تعالیٰ اُس بندے کو مخلوق سے مستغنی فرما دیتے ہیں۔

اسی لیے نبی اکرم ﷺ عام طور پر اپنی دعا میں یہ کلمات ارشاد فرماتے تھے، مفہوم:

’’اﷲ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں، اُسی کی بادشاہت ہے اور اُسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اﷲ! آپ جس کو دینا چاہیں اُسے کوئی روک نہیں سکتا اور جس کو نہ دینا چاہیں اُسے کوئی عطا نہیں کر سکتا اور آپ کے مقابلے میں کوئی نعمت یا محنت کسی کو نفع نہیں پہنچا سکتی۔‘‘ (صحیح البخاری)

نیز یہ بات بھی برحق ہے کہ بندے کا اپنے رب سے مانگنا بندے کے لیے عزت اور فخر کی بات ہے، جب کہ بندے کا اپنے جیسے بندے کے سامنے ہاتھ پھیلانا اُس کے لیے سب سے بڑی ذلت اور رسوائی ہے۔

بہ ہر حال اس نبوی تنبیہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو اپنی ہر مصیبت اور ضرورت کے بارے میں اﷲ رب العالمین کی طرف ہی رجوع کرنا چاہیے اور اُسی پر بھروسا کر کے زندگی گزارنی چاہیے۔ مخلوق کے حقوق تو ضرور ادا کیے جائیں لیکن امید اور استغناء اﷲ تعالیٰ ہی سے رکھا جائے تو ان شاء اﷲ پُرسکون اور عافیت والی زندگی نصیب ہوگی۔