صحت اﷲ تعالیٰ کی عطا کردہ عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے۔ انسان جب تن درست ہوتا ہے تو اسے اپنی صحت معمول کی چیز محسوس ہوتی ہے، لیکن جب جسم کسی مرض کی گرفت میں آتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ صحت کتنی بڑی نعمت تھی۔
چلنا، پھرنا، کھانا، پینا، عبادت کرنا اور روزمرہ کے معمولات انجام دینا بہ ظاہر معمولی کام ہیں، مگر علالت کے ایام میں یہی معمولات دشوار محسوس ہونے لگتے ہیں۔ اسی لیے اسلام نے صحت کی حفاظت کی بھی تعلیم دی اور مرض کی حالت میں صبر و شکر کا راستہ بھی دکھایا۔
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا، مفہوم:
’’انسان کے جسم کا بھی اس پر حق ہے۔‘‘
اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ جسم اﷲ تعالیٰ کی عطا اور امانت ہے، اس لیے اس کی حفاظت کرنا، مناسب غذا استعمال کرنا، صحت کے اصولوں کا خیال رکھنا اور ضرورت کے وقت علاج کروانا انسان کی ذمہ داری ہے۔ البتہ تمام احتیاطوں کے باوجود جب انسان مرض میں مبتلا ہوجائے تو اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ اب اس کے لیے صبر اور رجوع الی اﷲ کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوا ہے۔
مرض کے وقت صبر کیجیے:
مرض کے وقت مومن کے لیے سب سے اہم چیز صبر ہے۔ جسمانی تکلیف اور ذہنی پریشانی فطری ہے، لیکن مومن آزمائش میں اپنے رب سے بدگمان نہیں ہوتا بلکہ حمد و شکر اور رحمتِ الٰہی کی امید کے ساتھ اسے برداشت کرتا ہے۔
نبی کریم صلی اﷲ علیہ و سلم نے ایسے مریض کے لیے خوش خبری بیان فرمائی، مفہوم:
’’جو اپنی علالت پر اﷲ تعالیٰ کی حمد کرے کہ وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوکر اٹھے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہو۔‘‘
مزید یہ کہ مرض کی وجہ سے صحت کے زمانے کے معمولات رک جائیں تو سابقہ نیک اعمال کا اجر بھی جاری رہتا ہے۔ اس لیے مرض کو صرف مصیبت سمجھنا درست نہیں۔
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں، اسے آزمائش میں مبتلا فرماتے ہیں۔ بسا اوقات مرض انسان کو غفلت سے جگاتا، اﷲ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرتا اور عاجزی و اصلاحِ نفس کا موقع فراہم کرتا ہے۔
مریض کے گناہ پتوں کی طرح جھڑتے ہیں:
ایک دوسری حدیث میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم نے فرمایا، مفہوم:
’’مسلمان کو مرض یا کسی بھی تکلیف کی وجہ سے جو اذیت پہنچتی ہے، اﷲ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہوں کو اس طرح دور فرماتے ہیں جیسے درخت اپنے پتے جھاڑ دیتا ہے۔‘‘
یہ کتنی بڑی خوش خبری ہے کہ مومن کی کوئی تکلیف بھی بے فائدہ نہیں جاتی۔ اگر وہ صبر کرے تو اس کی تکلیف اس کے لیے پاکیزگی اور اجر کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
اسی لیے مرض کے وقت انسان کو اپنے دل کی کیفیت پر خاص توجہ دینی چاہیے۔ زبان سے شکوہ، ناشکری اور بے صبری کے الفاظ نکالنے کے بہ جائے حمد، ذکر، استغفار اور دعا کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اپنی تکلیف کو بیان کرنا یا ڈاکٹر سے علاج کے لیے رجوع کرنا صبر کے خلاف نہیں، لیکن اﷲ تعالیٰ کی تقدیر پر شکوہ کرنا اور اس کی رحمت سے مایوس ہونا مومن کے شایانِ شان نہیں۔
مرض کی حالت میں دعا کیجیے:
مرض کی حالت میں دعا بھی بہت اہم ہے۔ نبی کریم صلی اﷲ علیہ و سلم نے بیمار کے لیے اﷲ تعالیٰ سے رحمت، مغفرت اور شفا مانگنے کی دعائیں سکھائی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیماری کے وقت انسان کو اپنی توجہ اپنے رب کی طرف زیادہ کرنی چاہیے۔ دوا جسم کے علاج کا ذریعہ ہے، جب کہ حقیقی شفا اﷲ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اس لیے مسلمان علاج بھی کرے اور دعا بھی۔
یہاں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اسلام نے مریض کو بیماری برداشت کرنے کا حکم دے کر علاج سے بے نیاز نہیں کیا۔ شریعت نے جسم کے حق کو تسلیم کیا ہے، اس لیے مناسب اور جائز علاج اختیار کرنا بھی درست ہے۔ ایک طرف انسان دوا اور طبی تدابیر اختیار کرے اور دوسری طرف دل کا اعتماد اﷲ تعالیٰ پر رکھے۔ یہی توکل کا درست مفہوم ہے۔
مرض انسان کو اپنی کم زوری کا احساس بھی دلاتا ہے۔ صحت کے زمانے میں انسان اپنے منصوبوں، صلاحیتوں اور وسائل پر بھروسا کرتا ہے، لیکن ایک چھوٹی سی جسمانی تکلیف اسے یاد دلاتی ہے کہ اصل طاقت اور اختیار اﷲ تعالیٰ کے پاس ہے۔ چند لمحوں میں انسان کی مصروف زندگی رک سکتی ہے اور اسے اپنے رب کے سامنے اپنی محتاجی کا احساس ہوسکتا ہے۔ یہی احساس اگر دل میں پیدا ہوجائے تو مرض روحانی اصلاح کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
لہٰذا مرض آنے پر مومن کا رویہ مایوسی نہیں بلکہ امید، شکوہ نہیں بلکہ صبر، غفلت نہیں بلکہ رجوع اور بے تدبیری نہیں بلکہ دعا کے ساتھ علاج ہونا چاہیے۔ صحت ملے تو اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور صحت کی قدر کرے، اور علالت آجائے تو اسے گناہوں کی معافی، اجر کے حصول اور اﷲ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کا موقع سمجھے۔
صحت میں شکر کیجیے:
حقیقت یہ ہے کہ مومن کی زندگی کا کوئی مرحلہ اﷲ تعالیٰ کی رحمت سے خالی نہیں۔ صحت اسے شکر کا موقع دیتی ہے اور مرض اسے صبر کا۔ صحت میں وہ اﷲ تعالیٰ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مرض میں انھی نعمتوں کی قدر سیکھتا ہے۔ اس لیے مرض کو صرف درد کی نظر سے نہیں بلکہ ایمان کی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے اور ساتھ ساتھ صحت کی حالت میں اﷲ تعالیٰ کا شکر بھی ادا کرتے رہنا چاہیے۔
اﷲ تعالیٰ ہمیں صحت کی نعمت کی قدر کرنے، مرض میں صبر و شکر اختیار کرنے، ہر تکلیف کو اپنی اصلاح کا ذریعہ بنانے، جائز علاج کے ساتھ اﷲ تعالیٰ سے شفا مانگنے اور ہر حال میں اپنے رب سے مضبوط تعلق قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین