اینٹی وائلنٹ کرائم سیل پولیس نے اسٹیل ٹاؤن سے مغوی نوجوان کی پشت پر ہاتھ بندھے بوری بند لاش برآمد کرلی۔ نوجوان کے اغوا اور قتل میں مغوی نوجوان کا پھوپھی زاد بھائی اور دوست ملوث نکلا ۔
ایس ایس پی اینٹی وائلنٹ کرائم سیل آصف رضا بلوچ نے بتایا کہ اے وی سی سی پولیس نے اغوا برائے تاوان اور مغوی کے قتل کا معمہ حل کرتے ہوئے مقتول کے قریبی رشتے دار سمیت دو ملزمان کو گرفتار کرلیا اور ان کی نشاندہی پر اسٹیل ٹاؤن گلشن حدید میں جھاڑیوں سے مغوی نوجوان 23 سالہ زین العابدین کے بوری بند لاش برآمد کرلی جس کے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے تھے۔
مغوی نوجوان کے والد محمد خان نے بیٹے کے اغوا برائے تاوان کا مقدمہ 1167 سال 2026 بجرم دفعہ 365 اے چونتیس کے تحت نامعلوم ملزمان کے خلاف 15 اکتوبر کی صبح ساڑھے گیارہ بجے درج کرایا تھا جس کی تفتیش جمعے کو اے وی سی سی پولیس کو منتقل کی گئی۔
مغوی کے والد مدعی مقدمہ نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ 14 اکتوبر کی صبح 9 بجے میرا بیٹا زین العابدین اپنی موٹر سائیکل پر گھر سے نکلا تھا اور کافی دیر انتظار کے بعد جب وہ واپس نہیں آیا تو اسٹیل ٹاؤن تھانے میں درخواست جمع کرائی ۔
مدعی کے مطابق شام کو سوا چار بجے دو نامعلوم اشخاص میرے گھر کے اندر مین گیٹ سے میرے بیٹے کا ٹچ موبائل فون ، ایک کیپیڈ موبائل جس میں میرے بیٹے کی سم لگی ہوئی تھی اور وہ موبائل فون ہمارا نہیں تھا ، میرے بیٹے کا شناختی کارڈ ، اے ٹی ایم کارڈ ، موٹر سائیکل کے کاغذات ، خالی پرس اور ایک پاؤں کی چپل سفید شاپر میں پھینک کر گئے ۔ کیپیڈ موبائل جس میں میرے بیٹے کی سم لگی ہوئی تھی اس پر متعدد بار کالز آئی اور فون پر بولا گیا کہ کسی پڑھے لکھے شخص سے بات کراؤ تو میرا بھانجا فیصل جو یونیورسٹی کا طالبعلم ہے اس نے نامعلوم سے بات کی تو انھوں نے سات لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پیسے دو ہم بچے کو چھوڑ دینگے اور ہماری کال کا انتظار کرو۔
مدعی کے مطابق کال آئی تو ہم پیسے لیکر گئے اور ان کا کافی دیر تک انتظار کیا لیکن وہ نہیں آئے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔
مقتول مغوی نوجوان زین العابدین کی لاش ملنے سے قبل اس کے والد کا ایک ویڈیو بیان بھی سامنے آیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے کی مختلف اشیا گھر میں پھینکے جانے پر وہ فوری طور پر اسٹیل ٹاؤن تھانے گئے جہاں ایس ایچ او کو واقعے سے متعلق بتایا لیکن انھوں نے گمشدگی درج کرلی جبکہ اغوا کاروں کی موبائل فون پر تاوان کے لیے دھمکی آمیز کالز بھی آرہی تھیں جس کے بعد مقدمہ درج کرایا ۔ ملزمان نے میرے بیٹے کا کٹا ہوا ہاتھ (پنجہ) بھیجا جبکہ انھوں نے اغوا کاروں کو پانچ لاکھ روپے بھی تاوان بھی ادا کیا تھا اور اس حوالے سے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ملیر سے بھی ملاقات کر کے انھیں تمام صورتحال سے آگاہ کیا ۔
مغوی بیٹے کی لاش ملنے کے بعد غم سے نڈھال والد محمد خان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسٹیل ٹاؤن پولیس بروقت کارروائی کرتی تو آج صورتحال مختلف ہوتی لیکن میرے لخت جگر کی جس حال میں لاش ملی ہے اس کا بوڑھا باپ اپنے جوان بیٹے کی لاش کا بوجھ کیسے اٹھا پائے گا۔ ہم نے تو پانچ لاکھ روپے بھی دیے لیکن ہمیں بیٹے کی تعفن زدہ لاش ملی ، پولیس کو سب صورتحال سے آگاہ کرتا رہا لیکن کوئی کارروائی ہوتی دکھائی نہیں دی۔
اے وی سی سی پولیس کا کہنا ہے کہ اغوا برائے تاوان کے کیس کی فائل جمعے کو ملی تھی جس پر فوری طور پر انویسٹی گیشن افسر کو تعینات کرتے ہوئے کیس کی تفتیش کا آغاز کیا گیا۔
مغوی نوجوان کے والد کا کہنا تھا کہ ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں، زین العابدین غیر شادی شدہ اور سعودی عرب میں درزی کا کام کرتا تھا جو کہ چار بھائیوں اور ایک بہن میں دوسرے نمبر پر تھا جسے آئندہ چند ہفتوں میں واپس سعودیہ بھی جانا تھا۔
اسٹیل ٹاؤن تھانے میں مغوی نوجوان کے اغوا برائے تاوان کے مقدمے پر اندراج کا وقت 15 اکتوبر صبح ساڑھے گیارہ بجے درج کیا گیا جبکہ مغوی 14 اکتوبر کی صبح نو بجے سے لاپتہ تھا اور اسی شام اس کے گھر پر نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان کی جانب سے مغوی کا سامان پھینکا گیا لیکن مغوی کا سراغ نہیں لگایا جا سکا جس کی جمعے کی شام کو گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر لاش برآمد کی گئی جس کی لاش پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کی۔
نوجوان کے اغوا اور اس کے بہیمانہ قتل کی اطلاع مقتول کے گھر پہنچی تو کہرام مچ گیا خواتین شدت غم سے نڈھال ہوگئیں جبکہ رشتے داروں اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد بھی مقتول کی رہائش گاہ پہنچ گئی۔