اسپین فٹبال فیڈریشن نے مصر کے خلاف دوستانہ میچ کے دوران مسلمان مخالف نعروں پر عائد پابندیوں کے خلاف فیفا کی اپیل مسترد ہونے کے بعد کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت (سی اے ایس) سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فیفا نے اسپینش فٹبال فیڈریشن پر 20 ہزار ڈالر جرمانہ عائد کیا تھا، جبکہ آئندہ ہوم فرینڈلی میچ میں اسٹیڈیم کی کم از کم 15 فیصد نشستیں بند رکھنے کا حکم بھی دیا تھا۔
یہ واقعہ مارچ میں بارسلونا کے قریب آر سی ڈی ای اسٹیڈیم میں اسپین اور مصر کے درمیان ورلڈ کپ تیاریوں کے میچ میں پیش آیا جو بغیر کسی گول کے برابر رہا۔
میچ کے دوران بعض شائقین نے مسلمانوں کے خلاف نعرے لگائے جس پر اسٹیڈیم انتظامیہ نے انتباہ جاری کیا۔
مسلمان فٹبالر لامین یامل نے بھی ان نعروں کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے مذمت کی تھی۔
اسپینش فیڈریشن کا مؤقف ہے کہ اس نے فوری کارروائی کی اور متعلقہ حکام سے مکمل تعاون کیا۔
فیڈریشن نے سزا کو سخت قرار دیتے ہوئے کہا کہ نعروں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے تھے۔
دوسری جانب فیفا کی ڈسپلنری کمیٹی کے مطابق کسی لفظ کا امتیازی استعمال صرف واضح توہین آمیز اصطلاحات تک محدود نہیں بلکہ اس کا سیاق و سباق بھی اہمیت رکھتا ہے۔
اب اس معاملے کا فیصلہ کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت کرے گی۔