خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں گورنر راج کا فیصلہ مشکل تھا اور ہمارے سامنے بڑے اور مشکل اہداف ہیں، جس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ہمارا بنیادی ہدف ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ولی باغ میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر ایمل ولی خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ مشکل تھا، یہ کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا، ہمارے سامنے بڑے اور مشکل اہداف ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ ہمارا بنیادی ہدف ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی 2008 سے 2013 تک صوبے میں حکومت رہی، اس دوران ہم نے امن بحال کیا، ہم نے خیبرپختونخوا میں امن قائم کیا لیکن 2013 کے بعد سے آج تک صوبے میں جو حالات پیدا ہوئے، وہ سب کے سامنے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم گزشتہ 13 سال سے کوشش کر رہے تھے کہ کوئی صوبے کا مقدمہ مؤثر انداز میں پیش کرے، میں یہاں اس لیے آیا ہوں کہ صوبے کے مسائل پر مل کر اسلام آباد کے ساتھ بات چیت کی جائے، ماضی میں اسلام آباد کے ساتھ بات چیت گالم گلوچ کی نذر ہو جاتی تھی لیکن اب ہم اپنے مسائل اور مطالبات دلائل کے ساتھ پیش کریں گے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ سمیت صوبے کے دیگر اہم مسائل پر بات کرنے کا یہ بہترین موقع ہے، ہم وفاق کے ساتھ کوئی محاذ آرائی نہیں چاہتے، ہماری خواہش ہے کہ صوبے میں امن، ترقی اور خوش حالی ہو، اب وقت آگیا ہے کہ خیبرپختونخوا کی شناخت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے بجائے امن کے حوالے سے ہو۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ جب دنیا میں کہیں جائیں تو لوگ ہم سے دہشت گردی کے بجائے امن کے بارے میں سوال کریں، خیبرپختونخوا قدرتی گیس، معدنیات، سیاحت اور تمباکو سمیت بے شمار وسائل سے مالا مال ہے، صوبے کے وسائل کو بروئے کار لا کر ترقی اور خوش حالی کی راہ ہموار کریں گے۔
گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ 8 سے 10 ہزار ینگ ڈاکٹرز ہڑتال پر تھے، جنہیں گزشتہ 10 سال سے 70 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر رکھا گیا تھا، ہمارے آنے کے بعد ینگ ڈاکٹرز نے ہڑتال ختم کر دی، ہم ان کے شکر گزار ہیں اور ان کے مسائل حل کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اچھے اقدامات اور مثبت کاموں کا سلسلہ جاری رکھیں گے، جہاں کوئی غلطی ہوگی، اسے درست کریں گے، جن لوگوں نے بھی ہمارے نظام کو تباہ کیا ہے، ہم اسے درست کریں گے اور اہل و قابل لوگوں کو آگے لائیں گے۔