چند ماہ قبل ہی کی بات ہے کہ جب علی امین گنڈاپور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ ہوا کرتے تھے تو انھوں نے اپنے صوبے کے گورنر کو ایک طرح سے محدود کررکھا تھاکہ وہ کے پی ہاؤس اسلام میں نہیں جا سکتے تھے حالانکہ وہ کے پی کے آئینی گورنر تھے۔ گورنر کے پی کا تعلق ڈی آئی خان سے ہے۔
وہ علی امین اور مولانا فضل الرحمن کے مقابلے میں الیکشن لڑ چکے ہیں۔ جب علی امین صوبیکے وزیر اعلی اور فیصل کریم کنڈی گورنر بن گئے تو دونوں کی آپس میں نہیں بنی۔ گورنر کو اپنے ہی وزیر اعلیٰ کے عدم تعاون کا سامنا رہا حالانکہ دونوں کا اور مولانا فضل الرحمن کا حلقہ انتخاب ایک ہی تھا جو جے یو آئی کا اتنا مضبوط گڑھ تھا کہ جہاں سے مولانا مفتی محمود نے 1970 میں ذوالفقار علی بھٹو کو شکست دی تھی۔ اپنے والد کے بعد یہ حلقہ مولانا فضل الرحمن کی کامیابی کا گڑھ رہا ۔ 2008 میں مولانا کے نامزد کردہ اکرم درانی وزیر اعلیٰ کے پی رہے اور وہاں ایم ایم اے کی حکومت رہی مگر آخری دنوں میں جماعت اسلامی اس حکومت سے الگ ہو گئی تھی ۔
کے پی جو جے یو آئی کا اہم سیاسی گڑھ تھا اور جہاں ان کی حکومت رہی تھی پھر ڈی آئی خان جے یو آئی کے ہاتھ سے نکل کر پی ٹی آئی کے پاس چلا گیا اور تب سے اپنے آبائی حلقے سے مولانا پھر منتخب نہ ہو سکے۔ 2024کی کے پی کی نگراں حکومت میں مولانا کے سمدھی غلام علی گورنر تھے مگر مولانا کو علی امین نے جیتنے نہ دیا جب کہ اس سے قبل پی ٹی آئی کی حکومت میں جے یو آئی نے میئر پشاور کے الیکشن میں حکومتی امیدوار کو ہرایا تھا اور کے پی کے بلدیاتی الیکشن میں جے یو آئی کو نمایاں کامیابی ملی تھی۔
2024 میں مولانا فضل الرحمن نے پشین کے حلقہ سے محمود اچکزئی سے اتحاد کیا تھا اور دونوں ضلع پشین سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ ڈی آئی خان کے تعلق رکھنے والے فیصل کریم کنڈی آج کے پی کے گورنر ہیں۔ علی امین گرفتار اور فیصل کریم گورنر کے ایمرجنسی کے اختیارات کے ساتھ فضل الرحمن سے پوچھ رہے ہیں کہ اب مولانا کے لیے کے پی میں گورنر راج حرام ہے تو کیا ایل ایف او اور زمینیں لینا حلال ہو گیا تھا اور اب کے پی میں مولانا کے بغیر حکومت بن بھی گئی اور چل بھی رہی ہے۔
ڈی آئی خان کی یہ تینوں اہم سیاسی شخصیات چند سالوں میں کیا سے کیا ہو گئیں اور کیسے کیسے ایسے ویسے ہو گئے ہیں اور یہی ہماری سیاست میں ہوتا آیا ہے اور ہوتا رہے گا۔ مولانا فضل الرحمن کل تک تحریک انصاف سے بہت دور اور (ن) لیگ و پی پی کے قریب بلکہ ان کی پی ڈی ایم کے سربراہ تھے مگر 2024 میں (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی نے مولانا سے آنکھیں پھیریں اور جے یو آئی کو اقتدار میں شریک نہ کیا تو مولانا کو پی ٹی آئی کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں نظر آگئیں تو انھوں نے اپنی سابقہ حلیف پارٹیوں کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کو نشانے پر لے لیا جس پر مولانا پر اب (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی بھی تنقید کررہی ہیںتو مولانا کو کہنا پڑ گیا کہ میں ریاست کا وفادار ہوں۔
یہ حکومت بے اختیار ہے ، اگر پی ٹی آئی دہشت گرد جماعت ہے تو پھر کیوں ان سے مذاکرات کیے ۔ تین سال قبل تحریک انصاف مولانا سے بہت دور اور بانی کی شدید تنقید کی زد میں رہتے تھے مگر اقتدار کی دوری نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو مولانا کے گھر کے چکر لگانے پر مجبور کیا اور آج دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں مگر یہ حالات کا جبر نہیں بلکہ دونوں کی ضرورت اور سیاسی مجبوری ہے اور (ن) لیگ اور پی پی نے مل کر اپنے مفاد کے لیے جے یو آئی اور پی ٹی آئی کو ایک دوسرے سے ملنے پر مجبور کر دیا ہے جب کہ 2022 سے قبل دونوں مولانا کے در کے چکر لگایا کرتی تھیں۔
2018 میں پی ٹی آئی کے وزیر اعظم کے انتقامی رویے نے پی پی، (ن) لیگ اور جے یو آئی کو ایک دوسرے کے قریب آنا مجبوری بنا دیا تھا۔ مولانا بھی پی پی اور مسلم لیگ کے قریب رہے اور آج ان سے دور ہیں۔میثاق جمہوریت سے قبل (ن) لیگ اور پی پی ایک دوسرے کی شدید مخالف تھیں جنھیں جنرل پرویز نے آپس میں ملنے پر مجبور کیا تھا اور اس وقت بانی پی ٹی آئی ان دونوں کی مخالفت میں جنرل پرویز کے حامی تھے۔ 1999 میں شروع ہونے والے اس 27 سالہ سلسلے نے کیسے کیسے کو ایسا ویسا کر دیا۔ کل کے دوست آج مخالف اور ماضی کے مخالف ایک ہو گئے ہیں اور یہ سیاست کا کمال ہے کہ سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی، قربتیں بدلتی رہتی ہیں۔