جن لوگوں نے سرطان کے باعث اپنے دوستوں، عزیزوں یا گھر کے کسی فرد کو کھویا ہے، وہ جانتے ہیں کہ یہ محض ایک بیماری کا نام نہیں، یہ ایک پورے خاندان کے خوف، انتظار، بے بسی اور امید کی داستان بھی ہے۔
میرے اپنے کئی دوست اور عزیز اس مرض کی نذر ہو چکے ہیں۔ ان کی یادیں آج بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ ان کے ساتھ گزارے ہوئے لمحے ،ان کی گفتگو ،ان کی مسکراہٹیں اور ان کے ادھورے خواب، ذہن میں تازہ ہو جاتے ہیں۔ جب کسی اپنے کو سرطان سے لڑتے دیکھتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ زندگی کتنی نازک ہے اور انسان کی تمام تر علمی، سائنسی اور معاشی ترقی کے باوجود اس کے سامنے کتنے ایسے سوالات ہیں، جن کے جواب ابھی تلاش کیے جا رہے ہیں۔
اکتوبر کا مہینہ اس حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ دنیا بھر میں اسے چھاتی کے سرطان سے آگاہی کے مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر آگاہی مہمات چلائی جاتی ہیں، طبی معلومات عام کی جاتی ہیں اور خواتین کو بروقت تشخیص کی اہمیت سے آگاہ کیا جاتا ہے، لیکن سرطان کی حقیقت چھاتی کے سرطان سے کہیں وسیع ہے۔ یہ مختلف اقسام کی بیماریوں کا مجموعہ ہے جو جسم کے مختلف اعضا کو متاثر کرتی ہیں۔ پھیپھڑوں، جگر، معدے، آنتوں، خون اور جسم کے دوسرے حصوں کے سرطان نے دنیا بھر میں لاکھوں خاندانوں کو متاثر کیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2022 میں دنیا بھر میں سرطان سے تقریباً ایک کروڑ اموات ہوئیں۔ ہر عدد کے پیچھے ایک انسان ،ایک خاندان اور کئی ادھوری کہانیاں ہوتی ہیں۔ ان اعداد و شمار کے پیچھے وہ گھرانے ہیں جن کی جمع پونجی علاج پر خرچ ہو جاتی ہے، وہ بچے ہیں جن کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، وہ خواتین اور مرد ہیں جو اپنے گھر کی ذمے داریاں نبھاتے ہوئے بیماری سے لڑتے ہیں اور وہ مریض ہیں جنھیں جسمانی تکلیف کے ساتھ تنہائی، خوف اور غیر یقینی صورت حال کا مقابلہ بھی کرنا پڑتا ہے۔کیا سرطان کا ذکر صرف موت کے حوالے سے ہونا چاہیے؟ ہرگز نہیں۔ اس کہانی کا دوسرا رخ انسانی علم، تحقیق ،حوصلے اور زندگی بچانے کی مسلسل کوششوں کا ہے۔
انسان نے جب بیماریوں کے خلاف اپنی جدوجہد شروع کی تو اس کے پاس نہ آج کی تشخیصی سہولتیں تھیں نہ جدید ادویات اور نہ ہی جسم کے اندر ہونے والے پیچیدہ حیاتیاتی عمل کو سمجھنے کے موجودہ ذرائع۔ آج سائنس دان سرطان کے خلیوں کی ساخت، ان کے پھیلاؤ اور ان میں موجود جینیاتی تبدیلیوں کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ سرجری شعاعوں کے ذریعے علاج، کیموتھراپی، ہدفی ادویات اور مدافعتی نظام کو سرطان کے خلاف متحرک کرنے والے طریقوں نے متعدد مریضوں کے لیے نئی امید پیدا کی ہے۔
یہ پیش رفت معمولی نہیں، ایسے مریض بھی ہیں جو علاج کے بعد معمول کی زندگی کی طرف لوٹتے ہیں، اپنے بچوں کو بڑا ہوتے دیکھتے ہیں اور اپنے خوابوں کی تکمیل کرتے ہیں، بعض اقسام کے سرطان میں جلد تشخیص اور بروقت علاج کے نتائج بہت بہتر ہو سکتے ہیں۔ کچھ اقسام کا علاج اس قدر موثر ہو چکا ہے کہ مریض کئی برس تک صحت مند زندگی گزارتے ہیں، کچھ سرطان اب بھی انتہائی پیچیدہ ہیں اور ان کا موثر علاج دریافت کرنے کی کوشش جاری ہے۔
سائنس کی دیانت داری کا تقاضا ہے کہ ہم امید ضرور دلائیں لیکن جھوٹی ضمانتیں نہ دیں۔ سرطان کا کوئی ایک علاج نہیں کیونکہ ہر سرطان کی نوعیت، اس کا مرحلہ اور مریض کی جسمانی کیفیت مختلف ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسی تحقیق،جدید تشخیص اور مریض کی ضرورت کے مطابق علاج کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کیا علاج کی دریافت ہی کافی ہے، اگر وہ علاج ہر انسان کی پہنچ میں نہ ہو.
دنیا میں طبی تحقیق پر خطیر رقوم خرچ ہوتی ہیں، جدید ادویات تیار ہوتی ہیں اور تشخیصی ٹیکنالوجی مسلسل ترقی کرتی ہے، لیکن کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے سرطان کی تشخیص کا مرحلہ ہی ایک بڑا معاشی صدمہ بن سکتا ہے۔ ٹیسٹ، بایوپسی، اسپتال میں داخلہ، سرجری، ادویات اور علاج کے بار بار ہونے والے اخراجات کسی خاندان کو قرض لینے یا اپنی جمع پونجی ختم کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں، بعض مریض علاج کی لاگت کے باعث تاخیر کرتے ہیں جب کہ کچھ خاندانوں کو علاج اور روزمرہ ضروریات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں یہ مسئلہ صحت کی سہولتوں تک غیر مساوی رسائی کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ بڑے شہروں میں بھی ہر شخص کو یکساں طبی سہولتیں میسر نہیں۔ دیہی علاقوں اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے ماہر ڈاکٹروں، جدید تشخیصی مراکز اور مسلسل علاج تک رسائی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔ ایسے حالات میں سرطان صرف ایک طبی مسئلہ نہیں رہتا ،وہ غربت سماجی ناہمواری اور عوامی صحت کے نظام کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ علاج تک رسائی محض انفرادی استطاعت کا معاملہ نہیں ہونا چاہیے، اگر کسی مرض کی بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے زندگی بچائی جا سکتی ہے تو حکومت طبی اداروں تحقیقی مراکز اور سماجی تنظیموں کی ذمے داری ہے کہ وہ اس امکان کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے حقیقت بنائیں۔ سرکاری اسپتالوں میں تشخیصی سہولتوں کو بہتر بنانا، مستحق مریضوں کے لیے ادویات کی فراہمی علاج کے اخراجات میں مدد، مستند آگاہی مہمات اور مریضوں کی رہنمائی کے نظام کو مضبوط کرنا اسی سمت میں ضروری اقدامات ہیں۔
سرطان کی یہ کہانی ہمیں ایک اور سوال کی طرف لے جاتی ہے ،ایسا سوال جو صرف اسپتالوں، لیبارٹریوں اور ادویات تک محدود نہیں۔ ہم اکثر اپنے سماج کے لیے گلا سڑا نظام کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ کیا ایسے نظام کو بھی ایک ایسی بیماری سے تشبیہ نہیں دی جا سکتی جو سماج کے جسم کو اندر سے کھوکھلا کرتی چلی جاتی ہے۔
جسمانی سرطان میں خلیوں کی بے قابو افزائش صحت مند بافتوں (cells) کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اسی طرح جب کسی سماج میں استحصال، بدعنوانی ،ناانصافی اور بے حسی پھیلتی چلی جائے تو وہ ان اداروں اور رشتوں کو کمزور کر دیتی ہے جن پر اجتماعی زندگی قائم ہوتی ہے۔ دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہوتی جاتی ہے، عوامی وسائل پر مخصوص مفادات کا قبضہ مضبوط ہوتا جاتا ہے اور اکثریت کے لیے تعلیم، علاج، رہائش اور باعزت روزگار کا حصول دشوار ہو جاتا ہے۔
اس نظام کی سب سے خطرناک علامت شاید یہ ہے کہ ناانصافی رفتہ رفتہ معمول بن جاتی ہے۔ کسی غریب کے لیے علاج کا بندوبست نہ ہونا، اس کی قسمت قرار پاتا ہے ،کسی بچے کا تعلیم سے محروم رہ جانا، اس کے خاندان کی ناکامی سمجھا جاتا ہے اور کسی بیمار انسان کا محض اس لیے علاج نہ کرا سکنا کہ اس کے پاس پیسے نہیں، ایک سماجی المیے کے بجائے ذاتی بدقسمتی سمجھ لیا جاتا ہے، یوں نظام اپنی ذمے داری سے بری ہو جاتا ہے اور مظلوم اپنی محرومی کا بوجھ بھی خود اٹھاتا ہے۔ جب کسی ملک میں ایک طرف دولت اور وسائل کی فراوانی ہو لیکن دوسری طرف شہری بنیادی علاج کے لیے پریشان ہوں تو یہ سوال اٹھانا ضروری ہو جاتا ہے کہ وسائل کس کے لیے اور کس مقصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ جب صحت کو بنیادی انسانی ضرورت کے بجائے ایک ایسی سہولت بنا دیا جائے جو صرف استطاعت رکھنے والوں کو میسر ہو تو سماج کی اخلاقی بنیادیں بھی سوالوں کی زد میں آ جاتی ہیں۔
سرطان کے خلاف جدوجہد ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بیماری کو چھپانے یا اس کے وجود سے انکار کرنے کے بجائے اس کا سامنا کرنا چاہیے۔ سماج کے لیے بھی یہی اصول درست ہے۔ جب تک ہم غربت، طبقاتی ناہمواری، بدعنوانی اور علاج تک غیر مساوی رسائی کو محض انفرادی مسائل سمجھتے رہیں گے ،ان کے بنیادی اسباب ہماری اجتماعی زندگی کو متاثر کرتے رہیں گے۔
سماجی ناانصافی پر تنقید کرتے ہوئے ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کسی فرد یا پورے سماج کو ناقابلِ علاج قرار دینا درست نہیں۔ انسان نے اپنی اجتماعی کوششوں سے کئی ایسی برائیوں کو کم کیا ہے، جنھیں کبھی ناقابل تبدیلی سمجھا جاتا تھا۔ قوانین ،عوامی جدوجہد، آزاد صحافت ،سماجی تحریکوں اور جمہوری اداروں کی اصلاح کے ذریعے سماج کو زیادہ منصفانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس تبدیلی کے لیے شعور، تنظیم، مستقل مزاجی اور انسانی زندگی کو ہر مفاد پر مقدم رکھنے کی ضرورت ہے۔
سائنس دانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تحقیق جاری رکھیں، علاج کے نئے طریقے تلاش کریں ۔ ریاستوں کو چاہیے کہ وہ عوامی صحت اور تحقیق میں سرمایہ کاری کریں۔ جامعات اور طبی ادارے علم کو سماج تک پہنچائیں۔ صحافت کا کام یہ ہے کہ وہ درست معلومات عام کرے ،مریضوں کی مشکلات کو سامنے لائے اور علاج کے غیر حقیقی دعوئوں کے بجائے سائنسی شواہد کی بنیاد پر گفتگو کرے۔
انسانیت کی اصل کامیابی صرف نئی ادویات دریافت کرنے میں نہیں بلکہ ایسے سماج کی تعمیر میں بھی ہے جہاں ہر انسان کو زندہ رہنے، علاج کرانے، تعلیم حاصل کرنے اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو۔ جسمانی سرطان کے علاج کے لیے سائنس کی ضرورت ہے اور سماجی سرطان سے نجات کے لیے علم، انصاف، جمہوریت اور اجتماعی عمل کی۔