تھرپارکر سندھ کا پسماندہ ترین ضلع ہے، جو بنیادی طور پر ریگستان ہے ۔ یہاں کی کل آبادی 1,778,407 ہے۔ تھرپارکر کا ایک چھوٹا سا شہر عمر کوٹ ہے جس کی آبادی 1,159,231 افراد پر مشتمل ہے۔ تھرپارکر سے متصل ضلع عمرکوٹ ہے جس کا بیشتر حصہ ریگستان پر مشتمل ہے اس لیے اگر بارشیں نہ ہوں تو اس علاقے میں قحط جیسی صورتحال ہوتی ہے، یوں آبادی کا ایک حصہ نقل مکانی پر مجبور ہوجاتا ہے۔
جب بارش ہوتی ہے تو یہ لوگ واپس اپنے آبائی علاقے میں آباد ہوجاتے ہیں۔2023 کی مردم شماری کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمرکوٹ میں خواندگی کا تناسب 38.69 فیصد ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مردوں میں خواندگی کا تناسب 51.11 فیصد اور خواتین میں یہ تناسب 25.11 فیصد ہے ۔عمر کوٹ میں خودکشی کرنے کی شرح بھی خاصی زیادہ ہے۔ عالمی دماغی صحت کے دن کے موقع پر عمرکوٹ میں ہونے والے ایک سیمینار میں انکشاف کیا گیا کہ اس سال جنوری سے اگست تک 66افراد نے خودکشی کی تھی۔ خودکشی کے واقعات کی روک تھام کے لیے ہونے والے مباحثہ کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ عمرکوٹ میں ایک ماہر سائیکا ٹرسٹ کا تقرر کیا جائے۔
اس سیمینار میں دماغی امراض کے ماہرین، ڈاکٹروں، محققین، صحافیوں اور حکومتی نمائندوں کے علاوہ سول سوسائٹی کے اراکین اور نوجوانوں نے بھاری تعداد میں شرکت کی تھی۔ اس مباحثہ کے شرکاء نے کی متفقہ رائے تھی کہ عمرکوٹ میں قابل سائیکاٹرسٹ ، سائیکالوجسٹ اور تربیت یافتہ عملہ تعینات نہیں ہے۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ عالمی ادارہ صحت WHO کے معیار کے مطابق ہر سال مریضوں کی کونسلنگ کے لیے تربیت یافتہ عملہ ہونا اشد ضروری ہے۔ اس مباحثہ میں یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ حکومت سندھ کی صحت کی ایمرجنسی کی 1122 سروس خودکشی کے واقعات کے تدارک کے لیے خصوصی سروس کا آغاز کرے۔ بعض شرکاء نے زور دیا کہ غریب ہاریوں کی مالیاتی امداد کے لیے ایک خصوصی پروگرام شروع ہونا چاہیے تاکہ غربت کی زندگی گزارنے والے ہاریوں کو کچھ ذہنی سکون میسر آسکے۔
میرپور خاص اور عمر کوٹ میں کام کرنے والے ایک سائیکاٹرسٹ، ڈاکٹر لکشمن کمار کھتری نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے شرکاء کو بتایا کہ فرسودہ روایات کی بناء پر ذہنی امراض میں مبتلا کوئی شخص ازخود اپنے مرض کا علاج کرانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر صاحب نے اس رائے کا اظہار کیا کہ ذہنی مرض میں مبتلا شخص کا فوری علاج ہوجائے تو ذہنی صحت بہتر ہوجاتی ہے۔
سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی (S.M.A) کے ریسرچر ڈاکٹر عبدالرزاق نے اپنی تحقیق سے متعلق جو حقائق بیان کیے، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ بھر میں ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ پورے سندھ میں 2016 سے 2020 کے درمیان خودکشی کے 767 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں سے صرف 64 واقعات عمرکوٹ میں رونما ہوئے۔ ڈاکٹر عبدالرزاق کا خیال ہے کہ ذہنی امراض کے بارے میں آگاہی نہ ہونے اور ذہنی امراض کا ماہرین سے علاج نہ کرانا بڑی رکاوٹیں ہیں اور تھرپارکر سمیت سندھ کے تمام اضلاع میں مسلسل سائنٹیفک ریسرچ ہونی چاہیے تاکہ حقائق کے مطابق عملی اقدامات ہوسکیں۔ یوگا کے ماہر اشوک کمار کا کہنا تھا کہ یوگا کی مشق سے ذہنی صحت کا معیار بلند ہوسکتا ہے۔
ایک سوشل ورکر نریش ہنول نے اپنے مشاہدات بیان کرتے ہوئے کہا کہ رشتوں کے ٹوٹنے، طلاق اور جذباتی صدمات سے عام آدمی کا نروس بریک ڈاؤن ہوتا ہے۔ انھوں نے خاندانوں اور مختلف برادریوں کو یہ مشورہ دیا کہ Taboos اور فرسودہ رسموں کو نظرانداز کرتے ہوئے ہر ذہنی بیمار شخص کا علاج کرانا ضروری ہے۔ ریسکیو 1122 کے نمایندہ بنسی لال مالہی نے اس رائے کا اظہار کیا کہ خودکشی ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ ہے۔ اس مسئلہ کی سماجی، معاشی اور نفسیاتی وجوہات ہوتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ عمرکوٹ اور اطراف کے علاقوں میں زرعی مزدوروں کی 80 فیصد تعداد کا تعلق ہندووں کی نچلی ذاتوں سے ہے اور ان میں سے بیشتر خط غربت کے نیچے زندگی گزاررہے ہیں۔
ان لوگوں کے وسائل انتہائی محدود ہیں اور کوئی سوشل سپورٹ موجود نہیں جو ان غریبوں کی مدد کرسکے۔ ان میں سے بہت سے وڈیروں یا سودخوروں کے مفروض ہوتے ہیں ۔ عورتوں کی حالت تو زیادہ خراب ہوتی ہے، اس علاقے میں کم عمری کی شادیاں عام ہیں۔ خاوند اپنی اہلیہ پر تشدد کو اپنا اولین فرض سمجھتا ہے۔ بیوی پر تشدد مردانگی کی علامت سمجھا جاتا ہے، یوں عورتیں بیماری، غربت، طلاق کے خوف کی بناء پر خودکشی کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ سیمنار کا اہتمام کرانے والی تنظیم کے علی اکبر کا کہنا ہے کہ ’’عمرکوٹ میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات محض ذہنی صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی اور انسانی المیہ ہیں، جس پر حکومت اور معاشرے دونوں کو فوری اور سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
سندھ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے اگست 2026 کے دوران ضلع عمرکوٹ میں خودکشی کے 66 واقعات ریکارڈ ہوئے ، جن میں 38 مرد (57.6 فیصد) اور 28 خواتین (42.4 فیصد) شامل ہیں۔ یہ صورتحال کئی اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔ کیا غربت، قرضوں کا بوجھ، ہاریوں اور زرعی مزدوروں کی معاشی مشکلات، صنفی امتیاز، گھریلو و نفسیاتی تشدد، سماجی محرومی اور علاج کی سہولتوں کا فقدان ان واقعات میں کسی نہ کسی طور کردار ادا کر رہے ہیں؟ ان سوالات کے جواب مفروضوں سے نہیں بلکہ جامع، غیرجانبدارانہ اور سائنسی تحقیق سے تلاش کرنا ہوں گے۔
یہ نہایت افسوس ناک ہے کہ عمرکوٹ میں ماہرِ امراضِ نفسیات تعینات نہیں۔ حکومت سندھ کو چاہیے کہ ضلع میں فوری طور پر ماہرِ نفسیات کی تعیناتی، ذہنی صحت کی سہولتوں، نفسیاتی مشاورت اور بروقت علاج کا انتظام کیا جائے ، جب کہ خودکشی کی روک تھام کے لیے ایک جامع، تحقیق پر مبنی ضلعی لائحہ عمل بھی تشکیل دیا جائے۔ ہمیں صرف خودکشی کے واقعات گننے کے بجائے ان کے پس پردہ حالات کو سمجھنا ہوگا، کیونکہ ہر عدد کے پیچھے ایک انسان، ایک خاندان اور کئی ادھورے خواب ہوتے ہیں۔ ذہنی صحت انسانی وقار، سماجی انصاف اور بنیادی حقِ صحت کا معاملہ ہے۔ ہر زندگی قیمتی ہے اور ہر انسان کی آواز سنی جانی چاہیے۔‘‘ذہنی صحت کے عالمی دن کی مناسبت سے شائع ہونے والے ایک معاصر میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک بھر کے 32.4 ملین افراد ذہنی صحت کے مرض میں کسی نہ کسی صورت مبتلا ہیں۔ خاص طور پر خواتین میں ڈپریشن کا مرض عام ہے۔
فرسودہ سماجی روایات او رمہنگے علاج کی بناء پر بہت کم افراد ابتدائی مراحل میں کسی ماہر سائیکاٹرسٹ سے رجوع کرنے پر تیار ہوتے ہیں۔ اس کے بجائے تعویز پہننے اور مزاروں پر منت مانگنے سے ذہنی امراض کا علاج کیا جاتا ہے۔ اب بھی متوسط اور امراء کے طبقات سے تعلق رکھنے والے خاندان اپنے کسی عزیز کی ذہنی بیماری کے علاج کے لیے کسی ماہر سائیکاٹرسٹ سے رجوع کرنے کو بے عزتی جانتے ہیں۔ خاص طور پر خواتین اور بالغ ہونے والی لڑکیوں کی ذہنی ضرورتوں پر تو جہ ہی نہیں دی جاتی۔ اس سال ذہنی صحت کے عالمی دن کا پیغام یہی ہے کہ ذہنی مرض کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ حکومت کو اس مرض کے علاج کے لیے ہر اسپتال میں ماہر سائیکاٹرسٹ مقرر کرنے چاہئیں ۔