کراچی: ڈاؤ یونیورسٹی کے 27 ملازمین کی ڈگریاں جعلی ثابت، تنخواہیں واپس لینے کا حکم

متعلقہ ملازمین کو ملازمت سے بھی برطرف کردیا گیا


ویب ڈیسک October 21, 2026

کراچی:

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے 27 ملازمین کو تعلیمی ڈگریاں جعلی ثابت ہونے پر ملازمت سے برطرف کردیا گیا جبکہ تمام تنخواہیں بھی واپس لینے کا حکم دیا گیا ہے۔

سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی زیر صدارت ہوا جس میں ڈاؤ یونیورسٹی کے مالی سال 2024 اور 2025 کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں کمیٹی ارکان قاسم سومرو، مخدوم فخرالزمان، ڈاؤ یونیورسٹی کی وائس چانسلر نازلی حسین اور دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے۔

پی اے سی کے اعلامیے کے مطابق ڈاؤ یونیورسٹی کے مجموعی طور پر 5 ہزار 350 ملازمین میں سے اب تک صرف ایک ہزار 945 کی تعلیمی ڈگریوں کی تصدیق کرائی گئی جن میں سے 27 ملازمین کی ڈگریاں جعلی ثابت ہوئیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ اب تک 3 ہزار 400 ملازمین کی ڈگریوں کی ہائر ایجوکیشن کمیشن سے تصدیق نہیں کرا سکی۔

یونیورسٹی کے ڈائریکٹر فنانس نے کمیٹی کو بتایا کہ ملازمین کی ڈگریوں کی تصدیق کے لیے ایچ آر ایس جی کمپنی کے ساتھ 73 لاکھ 60 ہزار روپے کا معاہدہ کیا گیا ہے، جس کے تحت یہ عمل آؤٹ سورس کیا گیا۔

پی اے سی نے جعلی ڈگریوں کے حامل 27 ملازمین سے تمام تنخواہیں واپس لینے کا حکم دیتے ہوئے سندھ کی تمام سرکاری جامعات سے تدریسی عملے اور دیگر ملازمین کی تعلیمی اسناد کی تصدیق سے متعلق رپورٹ بھی طلب کرلی۔