عراق نے ایران کے ساتھ شیب سرحدی گزرگاہ بند کرنے کی وجہ تکنیکی اور ترقیاتی سہولتوں کی کمی قرار دے دی
عراقی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے شیب سرحدی گزرگاہ غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے اور آنے والے دنوں میں ایران کے ساتھ بعض دوسری گزرگاہوں کو بھی بتدریج بند کرنے کا حکم دیا ہے۔
عراقی حکومت کے ترجمان حیدر العبودی کا کہنا تھا کہ سرحدی گزرگاہ کو بند کرنے کا فیصلہ وہاں مطلوبہ تکنیکی، ٹیکنالوجیکل اور ترقیاتی تیاری نہ ہونے کے باعث کیا گیا۔
ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ شیب کے علاوہ ایران کے ساتھ دیگر کئی سرحدی گزرگاہوں پر تجارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور وہاں سامان کی آمدورفت میں کوئی رکاوٹ نہیں۔
خیال رہے کہ عراق نے گزرگاہ بند کرنے کے فیصلے سے ایران کو پیشگی آگاہ بھی نہیں کیا تھا۔
جس پر ایران نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اسے دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
ایرانی وزارت داخلہ کے ترجمان علی زینوند نے مزید کہا کہ ایرانی حکام اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ سیکیورٹی وجوہات پر چند گھنٹوں کی عارضی بندش پر پیشگی اطلاع ضروری نہیں، تاہم اگر گزرگاہ ایک دن سے زیادہ بند رکھنی ہو تو دوسرے ملک کو پہلے مطلع کرنا لازم ہے۔
یاد رہے کہ عراقی حکام نے بتایا تھا کہ شیب گزرگاہ کو تاحکمِ ثانی بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کی وجوہات کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی تھیں۔
تاہم عراقی حکومت کے تازہ بیان میں اس اقدام کو تکنیکی تیاریوں کی کمی سے جوڑا گیا ہے۔
واضح رہے کہ شیب گزرگاہ عراق اور ایران کے درمیان سرحد پار تجارت اور آمدورفت کے لیے استعمال ہونے والے راستوں میں شامل ہے۔