عراق نے ایران کیساتھ سرحدی گزرگاہ بند کردی؛ وجہ سامنے آگئی

عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے آنے والے دنوں میں ایران کیساتھ بعض دوسری گزرگاہوں کو بھی بتدریج بند کرنے کا حکم دیا ہے


ویب ڈیسک October 21, 2026
عراق نے ایران کے ساتھ شیب سرحدی گزرگاہ بند کرنے کی وجہ تکنیکی اور ترقیاتی سہولتوں کی کمی قرار دے دی

عراق نے ایران کے ساتھ شیب سرحدی گزرگاہ بند کرنے کی وجہ تکنیکی اور ترقیاتی سہولتوں کی کمی قرار دے دی

عراقی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے شیب سرحدی گزرگاہ غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے اور آنے والے دنوں میں ایران کے ساتھ بعض دوسری گزرگاہوں کو بھی بتدریج بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

عراقی حکومت کے ترجمان حیدر العبودی کا کہنا تھا کہ سرحدی گزرگاہ کو بند کرنے کا فیصلہ وہاں مطلوبہ تکنیکی، ٹیکنالوجیکل اور ترقیاتی تیاری نہ ہونے کے باعث کیا گیا۔

ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ شیب کے علاوہ ایران کے ساتھ دیگر کئی سرحدی گزرگاہوں پر تجارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور وہاں سامان کی آمدورفت میں کوئی رکاوٹ نہیں۔

خیال رہے کہ عراق نے گزرگاہ بند کرنے کے فیصلے سے ایران کو پیشگی آگاہ بھی نہیں کیا تھا۔

جس پر ایران نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اسے دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔

ایرانی وزارت داخلہ کے ترجمان علی زینوند نے مزید کہا کہ ایرانی حکام اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سیکیورٹی وجوہات پر چند گھنٹوں کی عارضی بندش پر پیشگی اطلاع ضروری نہیں، تاہم اگر گزرگاہ ایک دن سے زیادہ بند رکھنی ہو تو دوسرے ملک کو پہلے مطلع کرنا لازم ہے۔

یاد رہے کہ عراقی حکام نے بتایا تھا کہ شیب گزرگاہ کو تاحکمِ ثانی بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کی وجوہات کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی تھیں۔

تاہم عراقی حکومت کے تازہ بیان میں اس اقدام کو تکنیکی تیاریوں کی کمی سے جوڑا گیا ہے۔

واضح رہے کہ شیب گزرگاہ عراق اور ایران کے درمیان سرحد پار تجارت اور آمدورفت کے لیے استعمال ہونے والے راستوں میں شامل ہے۔