لاہور:
ملک میں نوجوان گریجویٹس کے لیے روزگار کا حصول سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ ہر سال تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار سے 8 لاکھ ڈگری ہولڈرز تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں، جن میں سے 31 سے 33 فیصد تک بے روزگار رہ جاتے ہیں۔
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق 20 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح سب سے زیادہ 32.8 فیصد ہے، یعنی اس عمر کا ہر تیسرا گریجویٹ بے روزگار ہے۔
پی آئی ڈی ای رپورٹ کے مطابق انجینئرز میں بے روزگاری 23.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ 20 سے 24 سال کی 42.3 فیصد خواتین ڈگری ہولڈرز بھی نوکریوں سے محروم ہیں۔
لیبر فورس سروے کے مطابق ملک میں مجموعی بے روزگار افراد کی تعداد 80 لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔
صوبائی سطح پر پنجاب میں 35 لاکھ، خیبر پختونخوا میں 12 لاکھ شرح 9.2 فیصد سندھ میں 10 لاکھ اور بلوچستان میں 2 لاکھ پڑھے لکھے افراد بے روزگار ہیں۔
ماہرین نے نصاب کی مارکیٹ سے عدم مطابقت اور معاشی سست روی کو بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔