پاکستان کو قطر سے اکتوبر کا دوسرا ایل این جی کارگو موصول ہوگیا جس سے ملک کے گیس سسٹم کو فراہمی بھی شروع کردی گئی ہے۔ حکام مہنگی اسپاٹ مارکیٹ سے گیس خریدنے کے بجائے معاہدے کے تحت سپلائی پر انحصار بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔
وزارت توانائی کے ذرائع کے مطابق اکتوبر کے دوران اب تک قطر سے ایل این جی کے دو کارگوز پاکستان پہنچ چکے ہیں۔
حکام کی کوشش ہے کہ اضافی ضرورت کے لیے عالمی اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگی گیس خریدنے سے حتی الامکان گریز کیا جائے تاکہ قومی خزانے پر مالی بوجھ کم رکھا جاسکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قطر کے ساتھ معاہدے کے تحت حاصل ہونے والی ایل این جی کی قیمت تقریباً 14 سے 15 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو) ہے، جبکہ اسپاٹ مارکیٹ میں یہی قیمت 30 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ رہی ہے۔
اس طرح معاہدے کے تحت ملنے والی گیس اسپاٹ مارکیٹ کے مقابلے میں تقریباً نصف قیمت پر دستیاب ہے، جس سے پاکستان کو درآمدی گیس کے اخراجات قابو میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔