خوشی کی تقریبات میں ضرورت سے زیادہ کھانا دل پر دباؤ بڑھا سکتا ہے

دل کی بیماری، بلند فشارِ خون یا ذیابیطس میں مبتلا افراد کو بھاری کھانے کے معاملے میں زیادہ احتیاط کرنی چاہیے


ویب ڈیسک October 23, 2026
جگر کو فعال رکھنے کے لئے زیادہ کھانے سے پرہیز کرنا چاہئیے، تحقیق۔ فوٹو: فائل

شادیوں، تہواروں اور دیگر خوشی کے مواقع پر طرح طرح کے پکوان، تلی ہوئی اشیا، مٹھائیاں اور مرغن کھانے تناول کرنا عام ہے، لیکن ضرورت سے زیادہ کھانا بعض افراد کے لیے صحت کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

ماہرینِ صحت کے مطابق بالخصوص دل کی بیماری، بلند فشارِ خون یا ذیابیطس میں مبتلا افراد کو بھاری کھانے کے معاملے میں زیادہ احتیاط کرنی چاہیے۔

زیادہ مقدار میں کھانا کھانے کے بعد نظامِ ہاضمہ کو کام کرنے کے لیے خون کی فراہمی بڑھانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جس سے دل پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ صحت مند افراد کا جسم عموماً اس تبدیلی کو برداشت کر لیتا ہے، تاہم جن لوگوں کی دل کی شریانیں پہلے سے تنگ ہوں یا دل کی بیماری موجود ہو، ان میں بعض حالات میں دل تک خون کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔

تاہم ایک مرتبہ زیادہ کھانا کھانے کا مطلب یہ نہیں کہ دل کا دورہ لازماً پڑے گا۔ دل کے دورے کی اہم وجوہات میں دل کی شریانوں میں خون کی روانی متاثر ہونا اور خون کا لوتھڑا بننا شامل ہیں۔ بھاری غذا بعض حساس افراد میں علامات کو متحرک یا جسمانی دباؤ میں اضافہ کر سکتی ہے۔

مرغن اور نمکین کھانوں کے اثرات

زیادہ چکنائی، نمک اور ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس والی غذاؤں کا مسلسل استعمال دل کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔ نمک کی زیادہ مقدار جسم میں پانی جمع ہونے اور بلڈ پریشر بڑھنے کا سبب بن سکتی ہے، خصوصاً ان افراد میں جو پہلے ہی بلند فشارِ خون یا دل کی کمزوری کا شکار ہوں۔ ضرورت سے زیادہ شراب نوشی بھی دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اور بلڈ پریشر میں تبدیلیوں سے منسلک ہے۔

طویل وقت تک بھوکا رہنے کے بعد ایک ہی وقت میں بہت زیادہ کھانا، پانی کی کمی اور بھاری کھانے کے فوراً بعد سخت جسمانی سرگرمی بھی بعض افراد میں بے آرامی یا دیگر مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

بدہضمی اور دل کے دورے کی علامات میں فرق

بھاری کھانے کے بعد تیزابیت، پیٹ پھولنا، متلی اور پیٹ میں بھاری پن عام شکایات ہیں، لیکن دل کے دورے کی بعض علامات بدہضمی سے ملتی جلتی ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے سینے یا پیٹ کے اوپری حصے میں ہونے والی غیر معمولی تکلیف کو محض گیس سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

دل کے دورے کی ممکنہ علامات میں سینے میں دباؤ، جکڑن یا درد شامل ہیں، جو بازو، کمر یا جبڑے تک پھیل سکتا ہے۔ سانس لینے میں دشواری، ٹھنڈے پسینے، چکر، اچانک کمزوری، متلی یا پیٹ کے اوپری حصے میں غیر معمولی تکلیف بھی اس کی علامات ہو سکتی ہیں۔

اگر ایسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ہنگامی طبی مدد حاصل کریں۔ گیس یا تیزابیت کی دوا کے اثر کا انتظار نہ کریں اور نہ ہی یہ دیکھنے کے لیے چہل قدمی کریں کہ تکلیف کم ہوتی ہے یا نہیں۔ مریض کو خود گاڑی چلا کر اسپتال جانے کے بجائے ہنگامی طبی خدمات سے رابطہ کرنا چاہیے۔

تقریبات کے دوران احتیاط کیسے کریں؟

ماہرین کے مطابق خوشی کے مواقع پر پسندیدہ کھانوں سے مکمل پرہیز ضروری نہیں، بلکہ اعتدال اختیار کرنا اہم ہے۔ چھوٹی مقدار میں کھانا، آہستہ کھانا، دن بھر کھانے کے اوقات میں توازن رکھنا اور ضرورت سے زیادہ چکنائی و نمک والی غذاؤں سے بچنا مفید ہو سکتا ہے۔

طویل وقت تک فاقہ کرنے کے بعد ایک ہی وقت میں بہت زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر کھانے کے بعد طبیعت ٹھیک ہو تو ہلکی چہل قدمی کی جا سکتی ہے، تاہم فوراً سخت ورزش کرنے سے بچنا بہتر ہے۔ دل کے مریضوں کو اپنی تجویز کردہ ادویات باقاعدگی سے استعمال کرنے اور نمک، پانی یا دیگر غذائی پابندیوں کے حوالے سے معالج کی ہدایات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔