پشاور: جے یو آئی نے ایڈوائزری کونسل میں شامل ارکان کو شوکاز نوٹس جاری کردیا

زر خرید لوگوں کے زریعے جھوٹےبیانیے سے قائد جمعیت اور جمعیت علماءاسلام کے جرات مندانہ کردار کو مسخ نہیں کیا جاسکتا


ویب ڈیسک October 24, 2026

جمعیت علماء اسلام صوبہ خیبرپختونخوا نے گورنر راج اور ایمرجنسی کو غیر جمہوری اقدام قرار دیتے ہوئے ایڈوائزری  کونسل میں شامل جمعیت علماءاسلام کے ارکان کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے تین دن کے اندر مستعفی ہونے کا حکم جاری کردیا ہے۔

میڈیا سیل جے یوآئی خیبر پختونخوا نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مدارس کو دہشت گردی سے جوڑنا حقائق کے منافی اور انتہائی افسوسناک ہیں مشیر اطلاعات غیر زمہ درانہ اور متنازعہ بیانات سے گریز کرے۔

جمعیت علماءاسلام صوبہ خیبرپختونخوا کی مجلس عاملہ کا اجلاس صوبائی سیکرٹریٹ مفتی محمود مرکز پشاور میں صوبائی امیر سینٹر مولانا عطاء الرحمن کی صدارت میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں صوبائی جنرل سیکرٹری سینٹر مولانا عطاءالحق درویش نے صوبائی مجلس عاملہ میں مرکزی شوری کے اجلاس میں ہونے فیصلوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

صوبائی امیر سینٹر مولانا عطاءالرحمن نے ملک میں جاری کشیدگی اپوزیشن اور حکمران جماعت کے درمیان جےیوآئی کے مصالحتی کردار گورنر راج اور ایمر ایجنسی کے نفاذ سے پیدا ہونے والی صورت حال پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

اجلاس میں مفتی عبید اللہ ،مفتی فضل غفور  مولانا عبدالحسیب عبدالجلیل جان مفتی ناصر محمود محمد رحیم حقانی بیرسٹر عماد ایڈوکیٹ شاہ حسین الائی محمد اسرار مروت انعام میمن صداقت خان مولانا احمد علی درویش نے شرکت کی۔

جےیوآئی میڈیا سیل سے جاری بیان کے مطابق صوبائی مجلس عاملہ نے مرکزی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمریجنسی کے فیصلے کو جمہوریت کی نفی قرار دیا۔

اجلاس ایڈوایزری کونسل کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے جے یو آئی کے اب تک مستعفی نہ ہونے والے ارکان کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے تین دن کے اندر مستعفی ہونے کا کہا گیا ہے بصورت دیگر ان کی جماعتی رکنیت معطل تصور ہوگی۔

اجلاس میں مشیر اطلاعات کی طرف سے مدارس کے حولہ سے غیر زمدرانہ بیان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ مدارس کو دہشت گردی سے جوڑنا حقائق کے منافی اور افسوسناک ہے مدارس دینیہ امن محبت اور رواداری کے مراکز ہیں مدارس نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف ریاست کا ساتھ دیا ہے اور سینکڑوں علماءکرام اس دہشتگردی کا نشانہ بنے اور شہید ہوئے۔

اجلاس میں وزیر اطلاعات کے بیان کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے مشورہ دیا کہ وہ قومی  معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے زمہ داری شائستگی اور حقائق کو ملحوظ خاطر رکھے ان کے بیانات سے مدارس اور مذہبی حلقوں میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی ہے مشیر اطلاعات کا بیان شہدا کی قربانیوں کو سبو ثاژکرنے کی کوشش قرار دیا۔

اجلاس میں کچھ حلقوں اور زر خرید وی لاگرز کے زریعے سوشل میڈیا پر جمعیت علماءاسلام اور قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی کردار کشی کی مہم پر افسوس کا اظہار  کرتے ہوئے کہا گیا کہ زر خرید لوگوں کے زریعے جھوٹےبیانیے سے قائد جمعیت اور جمعیت علماءاسلام کے جرات مندانہ کردار کو مسخ نہیں کیا جاسکتا جمعیت علماء اسلام کی میڈیا ٹیم نے اس سے قبل بھی جھوٹے بیانیے کو دفن کیا تھا اور آج بھی ان کو منہ توڑ جواب دیا جارہا ہے۔ 

اجلاس میں مختلف اضلاع اور تحصیل کے لئے مفتی عبید اللہ اور بیرسٹر عماد ایڈوکیٹ پر مشتمل دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔