صدر مملکت آصف علی زرداری جرمنی کا سرکاری دورہ مکمل کرکے وطن واپس روانہ ہوگئے اور اس دوران جرمن کمپنی نے پاکستان کے شعبہ صحت میں تعاون مزید گہرا اور وسیع کرنے کے لیے دلچسپی کا اظہار کیا۔
ایوان صدر کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب ایکس پر جاری بیان کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری جرمن صدر کی دعوت پر سرکاری دورے کی تکمیل کے بعد وطن واپسی کے لیے روانہ ہوگئے، برلن ائیرپورٹ سے انہیں اعلیٰ جرمن حکام اور پاکستان کے سفیر نے الوداع کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کا دو دہائیوں سے زائد عرصے کے تعطل کے بعد جرمنی کا دورہ دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ہے اور تاریخی دورہ جرمنی دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے تناظر میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری اور جرمن صدر کی اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے مشترکہ عزم کی عکاس ہیں، اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان خیرسگالی اور روابط کو مزید فروغ دینے کی راہیں ہموار ہوں گی، جرمنی کی اعلیٰ قیادت کی پرتپاک میزبانی اور صدر مملکت کا کامیاب دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے امکانات کا عکاس ہے۔
سرکاری خبرایجنسی اے پی پی کے مطابق ایوان صدر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان میں صحت کی خدمات کو نمایاں طور پر بہتر بنانے کے لیے تحقیق پر مبنی اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ حل اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
صدر آصف علی زرداری کی سیمنز کے ایگزیکٹو نائب صدر ڈینیئل فریش اور سیمنز کے شعبہ حکومتی امور کی سربراہ ویرونیکا فسٹر سے برلن میں ملاقات ہوئی اور اس موقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سیمنز ہیلتھ کمپنی کے عہدیداران سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان سیمنز ہیلتھ ڈویژن جیسے اداروں کی جانب سے جرمنی کے صنعتی، تکنیکی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، سیمنز کئی دہائیوں سے پاکستان میں عملی طور پر موجود ہے اور کراچی سمیت پاکستان کے تین بڑے شہروں میں اس کے 100 سے زائد ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں۔
جرمن وفد نے صدر مملکت کو بتایا کہ ان کے نمائندے جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، جہاں وہ پاکستان کی صحت کی صنعت میں استعداد کار بڑھانے اور تکنیکی شعبوں میں تعاون کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کریں گے۔
وفد نے بتایا کہ کمپنی کا تکنیکی بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے تعاون کینسر، فالج اور دیگر بیماریوں کے شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔
صدر مملکت نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان دوطرفہ شراکت داری کو وسعت دینے اور مزید مستحکم بنانے کی دیرینہ مشترکہ خواہش کی گزشتہ روز جرمنی کے صدر فرینک والٹر شٹائن مائر کے ساتھ دوطرفہ ملاقات میں توثیق ہوئی۔، صدر زرداری نے گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران پاکستان میں سیمنز کی مؤثر اور نتیجہ خیز موجودگی کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ سستی، معیاری اور اعلیٰ معیار کے مقررہ اصولوں کے مطابق صحت کی خدمات کی فراہمی ہر شہری کو اپنی صلاحیتیں بلا رکاوٹ بروئے کار لانے کے قابل بنانے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی کو وسیع اور سب کے لیے قابل رسائی بنایا جائے، بالخصوص دور دراز علاقوں میں رہنے والے غریب اور محروم طبقات کو ان سہولیات سے مستفید کیا جائے۔
سیمنز کے ایگزیکٹو نائب صدر نے محکمہ صحت سندھ کی جانب سے مربوط اور منظم انداز میں کیے گئے اقدامات کے مثبت نتائج کو سراہا اور انہوں نے صدر مملکت کو پاکستان میں اپنی تنظیم کی جانب سے حاصل ہونے والی کامیابیوں اور فراہم کردہ معاونت کے بارے میں بریفنگ دی۔
سیمنز کے ایگزیکٹو نائب صدر نے پاکستان کے موجودہ صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے جدید حل اور تکنیکی ایپلی کیشنز کے ذریعے جاری تعاون کو بڑھانے کی آمادگی اور خواہش کا اظہار کیا۔
صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں صحت کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا اور وسیع کرنے کے لیے سیمنز کی دلچسپی کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ سیمنز اپنی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ مہارت اور صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے دیگر سماجی اور صنعتی شعبوں میں بھی اپنی سرمایہ کاری کو متنوع بنائے۔
صدر آصف زرداری نے اس سلسلے میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے پلیٹ فارم کے ذریعے مکمل ادارہ جاتی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
جرمن حکام سے صدر مملکت آصف زرداری کی ملاقات کے موقع پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سندھ کے صوبائی وزرا شرجیل میمن اور جام خان شورو اور جرمنی میں پاکستان کے سفیر سلمان شریف بھی موجود تھے۔