لولا حیران کن طور پر چوتھی بار برازیل کے صدر منتخب، سابق صدر کے بیٹے شکست کھا گئے

برازیل میں 1980 کے بعد پہلا موقع ہے کہ پہلے مرحلے میں دوسرے نمبر پر رہنے والا امیدوار دوسرے مرحلے میں صدر منتخب ہوا


ویب ڈیسک October 27, 2026
برازیل کے صدر لولا دا سلوا نے 51.79 فیصد ووٹ حاصل کرکے فلیویو بولسونارو کو شکست دیدی۔

برازیل کے بائیں بازو کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے صدارتی انتخاب میں انتہائی دائیں بازو کے امیدوار فلیویو بولسونارو کو شکست دے کر تاریخی چوتھی بار صدر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا تاہم مخالف امیدوار نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔

برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر 80 سالہ لولا دا سلوا نے 51.79 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ 45 سالہ فلیویو بولسونارو کو 48.21 فیصد ووٹ ملے۔ لولا کو اپنے حریف کے مقابلے میں تقریباً 44 لاکھ ووٹ زیادہ ملے۔

یاد رہے کہ موجود صدر لولا نے اکتوبر کے اوائل میں ہونے والے صدارتی الیکشن کے پہلے مرحلے میں فلیویو بولسونارو کے مقابلے میں کم ووٹ حاصل کیے تھے لیکن دوسرے مرحلے میں کامیابی حاصل کرکے سیاسی مبصرین کو حیران کردیا۔

برازیل میں 1980 کی دہائی میں جمہوریت کی بحالی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پہلے مرحلے میں دوسرے نمبر پر رہنے والا امیدوار دوسرے مرحلے میں صدر منتخب ہوا۔

برازیل کے انتخابی حکام نے لولا کی کامیابی کی تصدیق کردی تاہم حریف امیدوار فلیویو بولسونارو نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے انتخاب کالعدم قرار دینے کے لیے قانونی کارروائی کا اعلان کیا۔

شکست خوردہ امیدوار کا مؤقف تھا کہ سپریم کورٹ کے ایک جج کی جانب سے ووٹنگ کے اوقات میں دو گھنٹے کی توسیع غیر معمولی اقدام تھا جس سے مخالف امیدوار اور موجودہ صدر کو فائدہ پہنچا۔

کامیاب ہونے والے امیدوار موجودہ صدر لولا کا تعلق محنت کش طبقے سے ہے۔ وہ ماضی میں فیکٹری ورکر اور مزدور رہنما رہے اور 2002 میں پہلی مرتبہ صدر منتخب ہوئے تھے۔

آئینی طور پر مسلسل دو مدتیں مکمل کرنے کے بعد وہ عہدے سے الگ ہوگئے تھے تاہم 2022 میں سابق صدر جائر بولسونارو کو شکست دے کر دوبارہ اقتدار میں آئے۔

اپوزیشن امیدوار فلیویو کے والد جائر بولسونارو کو اقتدار پر قبضے کی ناکام کوشش سے متعلق مقدمے میں 27 سال قید کی سزا سنائی جاچکی ہے۔

فلیویو کی شکست کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھی سیاسی دھچکا قرار دیا جارہا ہے، جو لاطینی امریکا میں دائیں بازو کے حامی رہنماؤں کی کامیابی کے خواہاں رہے ہیں۔