نظر بندی احکامات کے نفاذ میں من مانی کی اجازت نہیں دے سکتے، عدالت

احتیاطی نظر بندی کا استعمال آئین اور متعلقہ قانون کی مقررہ حدود کے اندر ہونا چاہیے، 15 دن میں وجوہات بتائی جائیں


کورٹ رپورٹر October 27, 2026
(فوٹو : فائل)

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ  نے پی ٹی آئی کے دو ارکان اسمبلی اور ایک ن لیگی کارکن سمیت چار افراد کی ایم پی او آرڈر کے تحت نظربندی کے خلاف درخواستیں غیر موثر  قرار دے کر نمٹا دیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق عدالت نے کہا کہ درخواستیں نمٹانے کا مطلب غیر قانونی نظر بندی کو آئینی یا قانونی قرار دینا نہیں، 26ویں آئینی ترمیم کے بعد ہائی کورٹ درخواست کے مندرجات یا استدعا سے ہٹ کر ازخود احکامات جاری نہیں کرسکتی، قیاس آرائی یا مفروضے کی بنیاد پر عدالت اس مواد پر آئینی اختیار استعمال نہیں کرسکتی جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہی نہ ہو۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے عادل ازئی ، داوڑ کنڈی، خوشدل خان اور بشارت اللہ کی تھری ایم پی او کے تحت نظربندی  احکامات کے خلاف درخواستیں نمٹانے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

عدالت نے لکھا 21 ستمبر 2026ء کے نظر بندی احکامات کا قانونی اثر ختم ہو چکا ہے، 3 اکتوبر 2026ء کے نظر بندی احکامات کی قانونی حیثیت پر عدالت نے کوئی رائے نہیں دی کیونکہ بعد کے نظر بندی احکامات کو عدالت کے سامنے چیلنج ہی نہیں کیا گیا۔ بعد میں جاری نظر بندی احکامات کو چیلنج کیے بغیر ان کی قانونی حیثیت پر فیصلہ نہیں دیا جاسکتا۔

عدالت نے آبزرویشن دی کہ احتیاطی نظر بندی کا غیر معمولی اختیار من مانے انداز میں استعمال نہیں کیا جاسکتا، احتیاطی نظر بندی کے اختیار کا استعمال آئین اور متعلقہ قانون کی مقررہ حدود کے اندر ہونا چاہیے، نظر بندی کی وجوہات پندرہ دن کے اندر زیرِ حراست شخص کو بتانا آئینی تقاضا ہے، زیرِ حراست شخص کو نظر بندی کے خلاف مؤثر نمائندگی کا جلد از جلد موقع فراہم کرنا لازم ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ محض قانونی نمائندگی دائر نہ کرنے سے غیر قانونی نظر بندی آئینی جانچ پڑتال سے بالاتر نہیں ہو جاتی، نظر بندی کے احکامات کو من مانے انداز میں جاری کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔۔